یہ آیت کریمہ : {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225] (اللہ تمھاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #64672Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 64672)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ تعالی کے فرمان : {لَا يُؤَاخِذُكُمُ الله بِاللَّغْوِ في أَيْمَانِكُمْ} [المائدة: 89] (اللہ تمھاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا) میں مذکور لغو قسم کی تفسیر کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس سے مراد بات چیت کے وقت بلا قصد و ارادہ لوگوں کی زبان پر بار بار آنے والے قسمیہ الفاظ، جیسے نہیں اللہ کی قسم اور ہاں اللہ کی قسم وغیرہ ہیں۔ اسی طرح آیت میں مذکور لغو یمین کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کسی ایسی گزری ہوئی بات کے بارے میں قسم کھائے، جسے وہ ویسی ہی سمجھتا ہو، جیسی اس نے کہا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ معاملہ اس کے ظن و گمان کے برخلاف تھا۔
یہی حال اس قسم کا بھی ہے، جو آدمی یہ سمجھ کر کھائے کہ وہ سچا ہے، لیکن معاملہ اس کے برخلاف ظاہر ہو۔ اس طرح کی قسم بھی لغو اور غیر مؤثر ہے اور اس کا کفارہ بھی نہیں دینا ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {لَا يُؤَاخِذُكُمُ الله بِاللَّغْوِ في أَيْمَانِكُمْ} یعنی تمھیں ان کی سزا نہیں دے گا اور تمھیں ایسی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا بھی پابند نہيں بنائے گا، جو آدمی بلاقصد و ارادہ کھائے۔
اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آدمی یہ سمجھ کر قسم کھائے کہ فلاں آدمی کوئی کام کرے گا، لیکن نہ کرے۔ مثال کے طور پر کوئی دوسرے کے بارے میں یہ قسم کھائے کہ وہ اس کی بات مان لے گا، لیکن وہ نہ مانے۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر، لیکن اس آیت کے ضمن میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی تفسیر سب سے پہلے شامل ہوگی۔ کیونکہ انھوں نے نزول وحی کا مشاہدہ کیا ہے اور وہ عربی زبان سے بھی واقف ہیں۔
Explanation
Allah, the Almighty, says what means: {Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths} [Sūrat al-Baqarah: 225]. According to ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) the unintentional oath in this verse means what people usually say during their conversations with no intention of making an oath such as: "No, by Allah" and "Yes, by Allah". This ruling also applies to oaths that people make concerning past events, based on wrong assumptions.
Similarly, anyone who makes an oath believing that he is right, but then finds out that it is otherwise, does not have to offer expiation because it is an invalid oath according to the verse: {Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths} [Sūrat al-Baqarah: 225]. According to this verse, Allah, the Almighty, will not punish people or make it binding on them to offer expiation for such unintentional oaths.
The same ruling applies to making an oath that someone would do something, believing that he is going to honor that oath, but he does not. Of course, this ruling applies with priority to the example mentioned by ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) as she was present at the time of the revelation, and she was also knowledgeable about the language of the Arabs.