صحیح مسلم
Sahih Muslim

نذر کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
64675Sahih صحیح
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضيَ اللهُ عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ اليَمِينِ».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نذر کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Uqbah ibn ‘Āmir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The expiation for a vow is the same as the expiation for an oath."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #64675

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب مطلق نذر میں کسی چیز کو متعین نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس کا ذکر کیا گیا ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے۔

حدیث کے فوائد

  • نذر کی شرعی تعریف: کسی با اختیار مکلف شخص کا اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز لازم کرلینا۔
  • قسم کا کفارہ: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انھیں لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا، البتہ اگر استطاعت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔
  • کفارہ کی حکمت یہ ہے کہ مسلمان نذر کا احترام کرے، اس سے روگردانی نہ کرے اور اسے اپنی زبان کا معمول نہ بنا لے۔
  • نذر کی اقسام: 1. نذر مطلق: مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر مجھے شفا مل گئی تو مجھ پر اللہ کے لیے ایک نذر ہے۔) یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جائے اور کسی متعین نذر کی نیت نہ کرے۔ تو شفا ملنے پر اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ 2. نذرِ لجاج وغضب: یہ وہ نذر ہے جسے کسی شرط پر معلق کیا جائے اور اس سے مقصود کسی کام سے روکنا ہو یا کسی کام پر ابھارنا ہو۔ مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر میں نے تم سے بات کی تو مجھ پر ایک مہینے کے روزے لازم ہوں گے) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے اختیار ہے کہ یا تو وہ اپنی مانی ہوئی نذر پوری کرے یا پھر (اگر وہ شرط توڑ دے تو) قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ 3. نذرِ مباح: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنا کپڑا پہنوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے کپڑا پہننے یا قسم کا کفارہ ادا کرنے کا اختیار ہے۔ 4. نذرِ مکروہ: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے اور اپنی مانی ہوئی نذر پر عمل نہ کرے۔ اور اگر وہ اس (مکروہ کام) کو کر لیتا ہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 5. نذرِ معصیت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں چوری کروں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کرنا حرام ہے اور وہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اگر وہ اس (گناہ) پر عمل کر لیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 6. نذرِ طاعت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اتنی نماز پڑھوں۔) اور اس کا مقصد اللہ کی نزدیکی حاصل کرنا ہو۔ اگر وہ اسے کسی شرط پر معلق کرے، جیسے مریض کا شفا یاب ہونا، تو شرط پوری ہونے پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ اور اگر اسے کسی شرط پر معلق نہ کرے تو اسے مطلقاً پورا کرنا واجب ہے۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) clarified that the expiation for an unspecified vow—when a person makes a vow without defining what it is for—is the same as the expiation for breaking an oath.

Topics موضوعات