صحیح مسلم
Sahih Muslim

کیا میں تمھیں نہ بتاوں کہ سب سے اچھا گواہ کون ہے؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
64691Sahih صحیح
عن زيد بن خالد الجهني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخبِرُكُم بخير الشُّهَدَاء الذي يَأتي بِشَهادَتِهِ قبل أن يُسْأَلَهَا».
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "کیا میں تمھیں نہ بتا دوں کہ سب سے اچھا گواہ کون ہے؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Zayd ibn Khālid al-Juhani reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Shall I not inform you who the best witness is? He is the one who gives his testimony before he is asked for it."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #64691

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں سب سے اچھا گواہ اسے کہا گيا ہے، جو گواہی طلب کرنے سے پہلے گواہی دے۔ یہ دحدیث دراصل اس کے ایک بہترین انسان ہونے اور حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے اقدام کے استحسان کی دلیل ہے۔ لیکن یہ حدیث اس حالت پر محمول ہوگی، جب صاحب حق اس گواہی سے واقف نہ ہو یا بھول گیا ہو۔ ایسی صورت میں گواہ کے لیے گواہی درج کرانے کے لیے آگے بڑھنا مشروع ہے۔ گرچہ اس سے گواہی طلب نہ کی گئی ہو۔ دراصل یہ سب سے بہتر صورت ہے اس حدیث کے اور ان حدیثوں کے بیچ تطبیق کی، جن کے اندر بن بلائے گواہی دینے کی مذمت کی گئی ہے۔

Explanation

This Hadīth illustrates the merit of the one who gives a testimony before he is even asked to do so. This indicates his good nature and keenness to give his testimony in order to preserve people's rights. The Hadīth is interpreted to apply to the case when the person who has a right does not know of this testimony or forgot about it. The witness is thus recommended to take the initiative and testify. That is how this Hadīth is better understood in light of other reports that dispraise the person who gives testimony before he is asked for it.

Topics موضوعات