صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65002Sahih صحیح
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانۂ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا بھی مؤاخذہ ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) reported: A man said: "O Messenger of Allah, will we be punished for what we did during jāhiliyyah (the pre-Islamic period of ignorance)?" He said: "He who does good in Islam will not be punished for what he did during jāhiliyyah, and he who commits evil in Islam will be punished for the previous and later deeds."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65002

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے کی فضیلت بیان کر رہے ہیں۔ جو شخص اسلام لائے اور پھر اس کا اسلام ٹھیک رہے اور وہ صدق واخلاص سے متصف رہے، تو ان گناہوں پر اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، جو اس نے جاہلیت میں کیے تھے۔ اور جو شخص اسلام لانے کے بعد بھى برا ہى رہا، بایں طور کہ دل میں نفاق چھپائے رکھا یا دین سے مرتد ہوگیا، تو اس سے ان تمام اعمال کا حساب و کتاب ہوگا، جو اس نے کفر اور اسلام کی حالت میں کیے۔

حدیث کے فوائد

  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ان اعمال کے تئیں بھی فکر مند اور خائف رہتے تھے جو ان سے زمانۂ جاہلیت میں سرزد ہوئے تھے۔
  • اسلام پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب۔
  • اسلام میں داخل ہونے کی فضیلت اور یہ کہ اسلام لانے سے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
  • منافق اور مرتد سے ان تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا، جو انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیے تھے اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد کیے۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) points out the merit of entering Islam. He who embraces Islam and becomes a committed, sincere, and truthful Muslim will not be punished for the sins he committed during jāhiliyyah. In contrast, he who does wrong after entering Islam, by being a hypocrite or renouncing Islam, will be punished for what he did both during his period of disbelief and after entering Islam.

Topics موضوعات