خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میری حدیث پہنچے تو…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn MajahOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65005Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan Ibn Majah (HadeethEnc 65005)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ وہ وقت قریب آچکا ہے، جب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ ان میں سے ایک آدمی اپنی مسند پر بیٹھا ہوگا اور جب اس کے پاس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچے گی، تو وہ کہے گا کہ تمام معاملات میں ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی چیز قرآن مجید ہے۔ وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے، اسی پر عمل کریں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے، اسی سے اجتناب کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ہر وہ چیز جسے آپ نے اپنی سنت میں حرام ٹھہرایا یا اس سے منع فرمایا، اس کا بھی حکم وہی ہے، جو حکم قرآن میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ہے، کیوں کہ آپ اپنے رب کی جانب سے دین پہنچانے والے کی حیثیت سے آئے تھے۔
حدیث کے فوائد
- حدیث کی تعظیم بھی اسی طرح کی جائے گی جس طرح قرآن کی کی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی قرآن ہی طرح کیا جائے گا۔
- رسول کی اطاعت در اصل اللہ کی اطاعت ہے اور رسول کی نافرمانی در اصل اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔
- حدیث کی حجیت کا ثبوت اور احادیث کا رد یا انکار کرنے والے کی تردید۔
- جو شخص حدیث سے اعراض کرے اور صرف قرآن پر اکتفا کرنے کا دعوی کرے، وہ در اصل قرآن و حدیث دونوں سے اعراض کرنے والا ہے اور اتباع قرآن کے دعوے میں جھوٹا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ نے مستقبل میں کسی چیز کے واقع ہونے کی پیشین گوئی فرمائی اور وہ چیز ہوبہو اسی طرح واقع ہو بھی گئی۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reports that there will soon come a time in which some type of people will be sitting, with one of them reclining on his couch, and when a Hadīth from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reaches him, he will say: What decides the matters between you and us is the noble Qur’an. It is sufficient for us. What we find therein as lawful, we act upon it, and what we find therein as unlawful, we avoid it. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) pointed out that anything he prohibited or forbade in his Sunnah is the same as what Allah prohibited in His Book, for he only conveys from his Lord.