بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65007Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65007)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے۔ بندوں پر اللہ کا حق یہ کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ جب کہ اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے ان موحد بندوں کو عذاب نہ دے، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ دے دوں، تاکہ وہ اس فضل وکرم کو جان کر خوش ہوسکیں؟ لیکن آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کردیا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس پر توکل کرکے بیٹھ نہ رہیں۔
حدیث کے فوائد
- اللہ تعالی کے اس حق کی وضاحت جو اللہ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
- اللہ تعالی پر بندوں کے اس حق کی وضاحت، جو اللہ نے اپنے فضل و انعام کے طور پر اپنی ذات پر واجب کیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کرے اور عذاب سے محفوظ رکھے۔
- اس حدیث میں ان موحد بندوں کے لیے بڑی عظیم بشارت ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے کہ ان کی جاے قرار جنت ہے۔
- معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی موت سے قبل یہ حدیث اس خوف سے بیان کر دی کہ کہیں وہ کتمان علم کے جرم میں نہ مبتلا ہو جائیں۔
- اس بات کی تنبیہ کہ کچھ احادیث کچھ لوگوں کے سامنے بیان نہ کی جائیں، اس خوف سے کہ کہیں وہ ان کے معانی کا ادراک نہ کر سکیں۔ لیکن یہ بات ان احادیث کے ساتھ خاص ہے جو نہ تو کسی عمل پر مشتمل ہیں اور نہ ان میں شریعت کی حدود بیان کی گئی ہیں۔
- گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ماتحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو انہیں معاف کردے گا اور بالآخر جنت میں داخل کرے گا۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) mentions the right of Allah upon His servants and the right of His servants upon Him and demonstrates that Allah's right upon His servants is that they should worship Him alone and associate no partners with Him, and that the right of the servants upon Allah is that He should not punish those who believe in His Oneness and associate nothing with Him. Then, Mu‘ādh said: O Messenger of Allah, should I inform the people so that they rejoice at this merit? But the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told him not to inform them, lest they would depend on this matter solely.