منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65019Sahih Muslim (HadeethEnc 65019)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافق کی حالت اس بکری کی سی ہوتی ہے جو ہمیشہ تذبذب میں رہتی ہے اور اسے پتہ نہیں ہوتا کہ بکریوں کے کس ریوڑ کے ساتھ رہے۔ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو کبھی اس ریوڑ کی طرف۔ اس طرح منافقین ایمان و کفر کے درمیان حیرانگی وپریشانی کی زندگی گزارتے ہیں۔ نہ وہ ظاہر و باطن سے مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ کافروں کے ساتھ، بلکہ ظاہری طور پر مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور باطنی طور پر شک و تردد کے شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کبھی مومنین کى طرف مائل ہوتے ہیں، تو کبھی کفار کى طرف۔
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
- منافقین کی یہ حالت بتائی گئی ہے کہ وہ شک و شبہ اور بے قراری کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
- منافقوں کی حالت سے دور رہنے کو کہا گیا ہے اور ایمان کے معاملے میں ظاہری وباطنی ہر طرح سے صدق و سچائی اور پختہ عزم وارادہ کی ترغیب دی گئی ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) demonstrated the condition of the hypocrite and likened him to a hesitant ewe that does not know which one of the two flocks of sheep it should follow. It goes to one flock one time and to the other flock another time. Hypocrites are confused between belief and disbelief. They are not with the believers inwardly and outwardly, neither are they with the disbelievers inwardly and outwardly. Rather, they are outwardly with the believers and inwardly in doubt and hesitation. They incline to the believers at times and to the disbelievers at other times.