جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65034Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i (HadeethEnc 65034)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے جب جنت و جہنم کو پیدا کیا تو جبریل علیہ السلام سے فرمایا: جاؤ جنت کو دیکھو۔ چنانچہ وہ گئے اور دیکھ کر واپس آئے۔ جبریل نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں اور اس میں موجود نعمتوں اور آسائشوں کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہونا چاہے گا اور اس کی خاطر عمل کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جنت کو نا گوار اور مشکل چیزوں سے گھیر دیا۔ یعنی جنت کے ارد گرد اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے اجتناب کا حصار لگا دیا۔ چنانچہ جو شخص اس میں داخل ہونا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری کر دیا کہ وہ ان ناگواریوں سے گزر کر آئے۔ پھر اللہ عز وجل نے فرمایا: اے جبریل! اب جاؤ اور جنت کو دیکھو۔ چنانچہ حضرت جبریل گئے اور جنت کو دیکھا اور آکر عرض کیا: اے میرے ربر! تیری عزت کی قسم! مجھے خوف ہے کہ جنت کی راہ میں جو صعوبتیں اور مشقتیں ہیں، ان کی وجہ سے کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبریل! جاؤ جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چنانچہ وہ گئے اور جہنم کا معاینہ کیا، پھر لوٹ کر آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اس میں جو عذاب، پریشانیاں اور مشقتیں ہیں، ان کے بارے میں جو بھی سنے گا، وہ اس میں جانا ناپسند کرے گا اور اس کے اسباب سے بھی دور رہے گا۔ چنانچہ اللہ عز وجل نے جہنم کو مرغوب اور لذت آمیز چیزوں سے گھیر دیا اور پھر فرمایا: اے جبریل! جاؤ اور جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چناں چہ حضرت جبریل گئے اور دیکھ کر واپس آئے، تو عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم، مجھے خدشہ ہے کہ اس سے شاید ہی کوئی شخص بچ پائے گا، کیوں کہ اس کے ارد گرد مرغوب اور لذت آمیز چیزوں کا حصار لگا ہوا ہے۔
حدیث کے فوائد
- اس بات پر ایمان کہ جنت وجہنم ا موجود ہیں۔
- غیب پر اور ہر اس چیز پر ایمان لانا واجب ہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ہمیں پہنچی ہے۔
- ناگوار چیزوں پر صبر کرنے کی اہمیت، کیوں کہ یہ چیزیں جنت تک لے جاتی ہيں۔
- محرمات سے بچنے کی اہمیت، کیوں کہ یہ چیزیں جہنم تک لے جاتی ہیں۔
- جنت ناگوار چیزوں سے اور جہنم مرغوب ودل پسند چیزوں سے گھری ہوئی ہے۔ دنیوی زندگی میں ابتلا و آزمائش کو اسی نظریے سے دیکھنا چاہیے۔
- جنت کی راہ مشقت اور دشواریوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس راہ کو طے کرنے کے لیے ایمان کے ساتھ صبر اور برداشت نہایت ضروری ہے۔ جب کہ جہنم کا راستہ دنیا کی لذتوں اور شہوتوں سے بھرا ہوا ہے۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) reported that when Allah created Paradise and Hellfire, He said to Jibrīl (peace be upon him): Go to Paradise and look at it. He went, looked at it, and returned. Jibrīl said: O Lord, by Your Honor, none will hear about it and the bliss, bounty, and pleasant things therein except that he will love to enter it and exert effort for that purpose. Then, Allah surrounded Paradise with hardships and difficulties, involving the fulfillment of commands and the avoidance of prohibitions. So, whoever wants to enter it should go through these hardships. Then, Allah Almighty said: O Jibrīl, go and look at Paradise – after He had surrounded it with hardships. He went and looked at it. Then, he returned and said: O Lord, by Your Honor, I fear that no one will enter it due to the difficulties and hardships that lie on the path to it. And when Allah created Hellfire, He said: O Jibrīl, go and look at it. He went and looked at it. Then, Jibrīl returned and said: O Lord, by Your Honor, none will hear about the punishment, torments, and torture contained therein except that he will hate to enter it and will keep away from the means leading to it. Then, Allah Almighty surrounded Hellfire with desires and pleasures and made them lie on the path to it. Then, He said: O Jibrīl, go and look at it. Jibrīl went, looked at it, then came back, and said: O Lord, by Your Honor, I am fearful and apprehensive that no one will be saved from it – due to the desires and pleasures around it.