لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65077Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 65077)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات کو لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ اسے تحریری شکل میں محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک انسان ہیں اور غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ غلطی بھی کر بیٹھیں۔ (اس لیے آپ کی ہر بات کو لکھا مت کرو۔) چنانچہ میں نے لکھنا بند کر دیا۔
پھر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ان کی اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے ہر حال میں حق ہی نکلتا ہے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔
اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں فرمایا: {وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ} (اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں. وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.) [سورہ نجم : 3-4]
حدیث کے فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کا پیغام پہنچانے کے معاملے میں معصوم تھے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔
- صحابۂ کرام سنت کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے حریص تھے۔
- کسی مصلحت کے پیش نظر، جیسے کسی بات کی تاکید کے لیے قسم کے مطالبے کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
- علم کو لکھ لینا اسے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ترین سبب ہے۔
Explanation
‘Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) reported: I used to write down everything I heard from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) in order to memorize it by writing, but men from the Quraysh forbade me from doing so, saying: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) is a human being who speaks in pleasure and anger and so he is likely to err. Therefore, I stopped writing.
I told the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about what they said, and he pointed with his finger to his mouth and said: Write down, for the One in Whose Hand my soul is, nothing comes out of it except the truth, in all conditions and in pleasure and anger.
And Allah Almighty says about His Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): {Nor does he speak out of his own desire*. It is but a revelation sent down [to him].} [Surat an-Najm: 3-4]