سنن ابو داؤد
Sunan Abi Dawud

لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا”۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65077Sahih صحیح
عن عبدِ الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كنتُ أكتبُ كلَّ شيءٍ أسمعُه من رسولِ الله صلَّى الله عليه وسلم أُريدُ حفْظَه، فنهتْني قريشٌ، وقالوا: أتكْتبُ كلَّ شيءٍ تَسمَعُه من رسول الله صلَّى الله عليه وسلم، ورسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم بَشَرٌ يتكلَّمُ في الغضَبِ والرِّضا؟ فأمسَكتُ عن الكتاب، فذكرتُ ذلك لرسول الله صلَّى الله عليه وسلم، فأومأ بإصبَعِه إلى فيه، فقال: «اكتُبْ، فوالذي نفسي بيدِه، ما يَخرُجُ منه إلا حقٌّ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں جو کچھ سنتا سب لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لہذا قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیا کرتے ہو، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں؟ لہذا میں نے لکھنا موقوف کردیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : "لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے سوائے حق کے کچھ اور نہیں نکلتا"۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) reported: I used to write down everything I heard from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) in order to memorize it. The Quraysh prohibited me, saying: "Do you write down everything that you hear from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) while the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) is a human being who speaks in anger and pleasure?" So, I stopped writing and mentioned that to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). Thereupon, he pointed his finger to his mouth and said: "Write down; for by the One in Whose Hand my soul is, nothing comes out of it except the truth."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawud
Original wording: رواه أبو داود
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65077

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی ہوئی ہر بات کو لکھ لیا کرتا تھا، تاکہ اسے تحریری شکل میں محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک انسان ہیں اور غصہ اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ غلطی بھی کر بیٹھیں۔ (اس لیے آپ کی ہر بات کو لکھا مت کرو۔) چنانچہ میں نے لکھنا بند کر دیا۔

پھر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ان کی اس بات کا ذکر کیا، تو آپ نے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے ہر حال میں حق ہی نکلتا ہے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔

اللہ تعالی نے بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں فرمایا: {وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ۔ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ} (اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں. وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے.) [سورہ نجم : 3-4]

حدیث کے فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کا پیغام پہنچانے کے معاملے میں معصوم تھے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غصے کی حالت میں بھی۔
  • صحابۂ کرام سنت کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے حریص تھے۔
  • کسی مصلحت کے پیش نظر، جیسے کسی بات کی تاکید کے لیے قسم کے مطالبے کے بغیر بھی قسم کھانا جائز ہے۔
  • علم کو لکھ لینا اسے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ترین سبب ہے۔

Explanation

‘Abdullāh ibn ‘Amr (may Allah be pleased with him) reported: I used to write down everything I heard from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) in order to memorize it by writing, but men from the Quraysh forbade me from doing so, saying: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) is a human being who speaks in pleasure and anger and so he is likely to err. Therefore, I stopped writing.

I told the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about what they said, and he pointed with his finger to his mouth and said: Write down, for the One in Whose Hand my soul is, nothing comes out of it except the truth, in all conditions and in pleasure and anger.

And Allah Almighty says about His Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): {Nor does he speak out of his own desire*. It is but a revelation sent down [to him].} [Surat an-Najm: 3-4]

Topics موضوعات