صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65081Sahih صحیح
عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah’s peace and blessings be upon him) performed ablution by washing the body parts once.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65081

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھی وضو کرتے وقت وضو کے سارے اعضا کو ایک ایک بار ہی دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک ہی بار چہرہ دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو بھی ایک ایک بار ہی دھوتے۔ دراصل واجب ایک بار دھونا ہی ہے۔

حدیث کے فوائد

  • اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا واجب اور ایک سے زیادہ بار دھونا مستحب ہے۔
  • وضو کے اعضا کو کبھی کبھی ایک ایک بار ہی دھویا جا سکتا ہے۔
  • سر کا مسح ایک ہی بار کرنا مشروع ہے۔

Explanation

When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) performed ablution, he would sometimes wash each organ of the organs of ablution once – washing the face – including rinsing the mouth and sniffing water into the nostrils – and the hands and feet once. This is the due amount.

Topics موضوعات