صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65096Sahih صحیح
عن أَبِي حَازِمِ بْن دِينَارٍ: أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ -امْرَأَةٍ من الأنصار قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ-: «مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ»، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي».
ابو حازم بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے درمیان اس بات کے سلسلہ میں بحث ہو گئی تھی کہ اللہ ﷺ کا منبر کس لکڑی سے تیار ہوا تھا؟ انہوں نے اس کی بابت حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی سے تیار ہوا تھا۔ میں نے اسے پہلے دن بھی دیکھا جب اسے تیار کر کے رکھا گیا تھا اور اس وقت بھی دیکھا جب اس پر پہلے دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت کو، جس کا نام سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، یہ کہلا بھیجا: ’’تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنا دے، تاکہ میں جب لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام کو یہ حکم دیا، تو وہ جنگل کے جھاؤ درخت سے (منبر) تیار کر کے اس کے پاس حاضر کر دیا اور اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھنا شروع کیا۔ تکبیر تحریمہ اس کے اوپر کہی، پھر آپ نے رکوع بھی اسی کے اوپر کیا، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر واپس منبر پر آ گئے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hāzim ibn Dinār reported: Some men came to Sahl ibn Sa'd as-Sā‘idi. They were wondering what kind of wood the Pulpit was made of. So, they asked him about it, and he said: "By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up, and the first day the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sat on it. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sent to so-and-so - a woman from the Ansār whose name was mentioned by Sahl - telling her: 'Tell your carpenter slave to make for me some pieces of wood that I can sit on when I speak to the people.' So, she told him, and he made it from Tamarisk wood from Al-Ghābah (a place near Madīnah). Then, he brought it, and it was sent to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him), who commanded that it be set up here. Then, I saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) pray on it and say the takbīr while he was on it, and then he bowed while he was on it, and then he came down backwards and prostrated at the base of the Pulpit; and then he went back. When he finished, he turned to the people and said: 'O people, I only did this so that you can follow my example and learn my prayer.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65096

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ایک شخص ایک صحابی کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو منبر بنوایا تھا، وہ کس لکڑی کا تھا؟ دراصل ان کے بیچ اس سلسلے میں بحث ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صحابی نے بتایا کہ آپ نے ایک انصاری عورت کو، جس کے پاس ایک بڑھئی غلام تھا، کہلا بھیجا کہ اپنے غلام سے کہو کہ میرے لیے ایک منبر بنا دے، جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کر سکوں۔ چنانچہ اس عورت نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے غلام کو آپ کے لیے جھاؤ درخت کی لکڑی کا ایک منبر بنانے کا حکم دیا۔ جب منبر بن کر تیار ہو گیا، تو اس عورت نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے مسجد کے اندر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ تکبیر اسی پر کھڑے ہوکر کہی، پھر رکوع اسی پر کھڑے ہوکر کیا، پھر منبر سے اتر کر چہرہ گھمائے بغیر کچھ پیجھے ہٹے، منبر کے پاس سجدہ کیا اور پھر منبر پر آ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا، تاکہ تم میرا اتباع کر سکو اور میری نماز سیکھ سکو۔

حدیث کے فوائد

  • منبر رکھنا اور اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دینا مستحب ہے۔ دراصل اس کا مقصد اپنی بات پہنچانا اور سنانا ہوا کرتا ہے۔
  • تعلیم دینے کے لیے منبر پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اسی طرح کی ضرورت کی بنا پر امام کا مقتدی سے اونچی جگہ پر کھڑے ہونا بھی جائز ہے۔
  • مسلمانوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہنرمند لوگوں سے مدد طلب کرنا جائز ہے۔
  • ضرورت پڑنے پر نماز کے دوران تھوڑی بہت حرکت کرنا جائز ہے۔
  • نماز کے دوران مقتدی کا امام کی طرف سیکھنے کی نیت سے دیکھنا جائز ہے۔ یہ خشوع وخضوع کے منافی نہیں ہے۔

Explanation

Some men came to one of the Companions and asked him about the Prophet's Pulpit which the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used, as to what it was made of. They debated and disputed about that. So, he mentioned to them that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent to a woman from the Ansār who had a carpenter slave, saying to her: Tell your slave to make a pulpit for me that I can sit on when I speak to the people. The woman complied and told her slave to make for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) a pulpit from Tamarisk wood. When he finished the Pulpit, the woman sent it to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who commanded that it be placed in its place in the Mosque. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prayed on it, said takbīr while on it, and bowed while on it. Then, he came down backward without turning his face behind and prostrated himself next to the base of the Pulpit, and he then went back. When he finished the prayer, he turned to the people and said: O people, I only did this so that you can follow my example and learn my prayer.

Topics موضوعات