لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65096Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65096)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک شخص ایک صحابی کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو منبر بنوایا تھا، وہ کس لکڑی کا تھا؟ دراصل ان کے بیچ اس سلسلے میں بحث ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صحابی نے بتایا کہ آپ نے ایک انصاری عورت کو، جس کے پاس ایک بڑھئی غلام تھا، کہلا بھیجا کہ اپنے غلام سے کہو کہ میرے لیے ایک منبر بنا دے، جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کر سکوں۔ چنانچہ اس عورت نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے غلام کو آپ کے لیے جھاؤ درخت کی لکڑی کا ایک منبر بنانے کا حکم دیا۔ جب منبر بن کر تیار ہو گیا، تو اس عورت نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے مسجد کے اندر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ تکبیر اسی پر کھڑے ہوکر کہی، پھر رکوع اسی پر کھڑے ہوکر کیا، پھر منبر سے اتر کر چہرہ گھمائے بغیر کچھ پیجھے ہٹے، منبر کے پاس سجدہ کیا اور پھر منبر پر آ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا، تاکہ تم میرا اتباع کر سکو اور میری نماز سیکھ سکو۔
حدیث کے فوائد
- منبر رکھنا اور اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دینا مستحب ہے۔ دراصل اس کا مقصد اپنی بات پہنچانا اور سنانا ہوا کرتا ہے۔
- تعلیم دینے کے لیے منبر پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اسی طرح کی ضرورت کی بنا پر امام کا مقتدی سے اونچی جگہ پر کھڑے ہونا بھی جائز ہے۔
- مسلمانوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہنرمند لوگوں سے مدد طلب کرنا جائز ہے۔
- ضرورت پڑنے پر نماز کے دوران تھوڑی بہت حرکت کرنا جائز ہے۔
- نماز کے دوران مقتدی کا امام کی طرف سیکھنے کی نیت سے دیکھنا جائز ہے۔ یہ خشوع وخضوع کے منافی نہیں ہے۔
Explanation
Some men came to one of the Companions and asked him about the Prophet's Pulpit which the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) used, as to what it was made of. They debated and disputed about that. So, he mentioned to them that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) sent to a woman from the Ansār who had a carpenter slave, saying to her: Tell your slave to make a pulpit for me that I can sit on when I speak to the people. The woman complied and told her slave to make for the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) a pulpit from Tamarisk wood. When he finished the Pulpit, the woman sent it to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), who commanded that it be placed in its place in the Mosque. Then, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) prayed on it, said takbīr while on it, and bowed while on it. Then, he came down backward without turning his face behind and prostrated himself next to the base of the Pulpit, and he then went back. When he finished the prayer, he turned to the people and said: O people, I only did this so that you can follow my example and learn my prayer.