”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65121Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 65121)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو کسی عمل کا حکم دیتے تو انہیں اسی کام کا حکم دیتے جو ان کے لیے آسان ہوتا، نہ کہ مشکل کام کا؛ اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے سے عاجز نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ خود بھی اسی آسانی پر عمل فرماتے جس کا آپ ﷺ انہیں حکم دیتے تھے۔ لیکن صحابہ نے آپ ﷺ سے مشقت والے کاموں کا مکلف بنانے کی درخواست کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کے برعکس انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں مبالغہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! ہمارا حال آپ کے جیسا نہیں ہے، بے شک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ غضبناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: بے شک تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہی ہوں۔ لہذا وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔
حدیث کے فوائد
- ابن حجر نے فرمایا: آپ ﷺ نے انہیں اسی عمل کا حکم دیا جو ان کے لیے آسان ہو، تاکہ وہ اس پر مداومت برتیں، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی برتی جائے۔
- نیک وصالح آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک ہونے پر بھروسہ کر کے عمل میں جد وجہد سے دست کش نہ ہو۔
- کسی شخص کا حسبِ ضرورت اپنی فضیلت بیان کرنا جائز ہے، جب فخر اور تکبر کا خوف نہ ہو۔
- عبادت میں اولیٰ میانہ روی اور ہمیشگی ہے، نہ کہ ایسی مبالغہ آمیزی جو ترک کا باعث بنے۔
- ابن حجر کہتے ہیں: بندہ جب عبادت اور اس کے ثمرات میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو یہ اسے اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے پر مزید آمادہ کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نعمت باقی رہتی ہے اور اس پر شکر کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
- شرعی حکم کی مخالفت پر غضہ ہونے کی مشروعیت، اور فہمِ معنی کے اہل ذہین وفطین شخص کے فہم میں کوتاہی کرنے پر اس کی نکیر کرنا، تاکہ اسے بیدار مغزی پر ابھارا جائے۔
- اپنی امت پر نبی ﷺ کی شفقت، دین کی آسانی اور شریعت کی رواداری اور وسعت۔
- صحابہ کرام عبادت میں شدید رغبت رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
- شارع کی مقرر کردہ عزیمت اور رخصت کی حد پر ٹھہرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ شریعت کے موافق آسان ترین بات پر عمل کرنا، اس مشکل ترین کام سے اولیٰ ہے جو اس کے مخالف ہو۔
Explanation
The Mother of the Believers ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) informs that the Prophet (ﷺ), when commanding people to perform deeds, would instruct them to do only what was easy for them and not burdensome—out of concern that they might be unable to maintain it consistently. He himself acted upon what he commanded of moderation and ease. However, they requested to be tasked with more difficult acts, believing that they needed to exert greater effort in worship to attain higher ranks and perhaps reach a status close to his. They would say: Our situation is not like yours, O Messenger of Allah, for Allah has forgiven all your past and future sins. He would then become angry—so much so that the anger could be seen on his face—and he would say: I am the most God-fearing and the most knowledgeable among you about Allah. So, do as I command you.