Hadith 65121
Sahih al-Bukhari صحیح بخاری

”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“

65121Sahih صحیح
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللهُ عَنْها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا».
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Ā’ishah, the Mother of the Believers (may Allah be pleased with her), reported: Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) instructed his Companions to do something, he would command them only with what they were able to bear. They said: O Messenger of Allah, we are not like you; Allah has forgiven your past and future sins. He would then become angry until his anger would be visible on his face, and say: "Indeed, I am the most God-fearing among you and the most knowledgeable of Allah."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: رواه البخاري
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65121

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو کسی عمل کا حکم دیتے تو انہیں اسی کام کا حکم دیتے جو ان کے لیے آسان ہوتا، نہ کہ مشکل کام کا؛ اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے سے عاجز نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ خود بھی اسی آسانی پر عمل فرماتے جس کا آپ ﷺ انہیں حکم دیتے تھے۔ لیکن صحابہ نے آپ ﷺ سے مشقت والے کاموں کا مکلف بنانے کی درخواست کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کے برعکس انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں مبالغہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! ہمارا حال آپ کے جیسا نہیں ہے، بے شک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ غضبناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: بے شک تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہی ہوں۔ لہذا وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔

حدیث کے فوائد

  • ابن حجر نے فرمایا: آپ ﷺ نے انہیں اسی عمل کا حکم دیا جو ان کے لیے آسان ہو، تاکہ وہ اس پر مداومت برتیں، جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی برتی جائے۔
  • نیک وصالح آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے نیک ہونے پر بھروسہ کر کے عمل میں جد وجہد سے دست کش نہ ہو۔
  • کسی شخص کا حسبِ ضرورت اپنی فضیلت بیان کرنا جائز ہے، جب فخر اور تکبر کا خوف نہ ہو۔
  • عبادت میں اولیٰ میانہ روی اور ہمیشگی ہے، نہ کہ ایسی مبالغہ آمیزی جو ترک کا باعث بنے۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: بندہ جب عبادت اور اس کے ثمرات میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو یہ اسے اس عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے پر مزید آمادہ کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نعمت باقی رہتی ہے اور اس پر شکر کرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • شرعی حکم کی مخالفت پر غضہ ہونے کی مشروعیت، اور فہمِ معنی کے اہل ذہین وفطین شخص کے فہم میں کوتاہی کرنے پر اس کی نکیر کرنا، تاکہ اسے بیدار مغزی پر ابھارا جائے۔
  • اپنی امت پر نبی ﷺ کی شفقت، دین کی آسانی اور شریعت کی رواداری اور وسعت۔
  • صحابہ کرام عبادت میں شدید رغبت رکھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
  • شارع کی مقرر کردہ عزیمت اور رخصت کی حد پر ٹھہرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ شریعت کے موافق آسان ترین بات پر عمل کرنا، اس مشکل ترین کام سے اولیٰ ہے جو اس کے مخالف ہو۔

Explanation

The Mother of the Believers ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) informs that the Prophet (ﷺ), when commanding people to perform deeds, would instruct them to do only what was easy for them and not burdensome—out of concern that they might be unable to maintain it consistently. He himself acted upon what he commanded of moderation and ease. However, they requested to be tasked with more difficult acts, believing that they needed to exert greater effort in worship to attain higher ranks and perhaps reach a status close to his. They would say: Our situation is not like yours, O Messenger of Allah, for Allah has forgiven all your past and future sins. He would then become angry—so much so that the anger could be seen on his face—and he would say: I am the most God-fearing and the most knowledgeable among you about Allah. So, do as I command you.

Topics موضوعات