آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65298Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 65298)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک یہودی شخص امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”آپ کی کتاب قرآن میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہود کی جماعت پر ہماری کتاب تورات میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ ان لوگوں نے کہا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن اور اس جگہ کو جانتے ہیں جہاں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ یہ عید کے دن یعنی جمعہ کو نبی ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے، اور یہ دونوں دن مسلمانوں کے نزدیک بڑے عظمت والے ہیں۔
حدیث کے فوائد
- آیت کے نزول کے مقام اور وقت کے تئیں عمر رضی اللہ عنہ کے اہتمام کا بیان۔
- اس آیت میں اس احسان کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے کہ اس نے اس کے دین کو مکمل کردیا اور اس پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں، اس طرح کہ اب دین کے معاملے میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں رہی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے دین کو مکمل کردینے کے بعد ہر وہ نئی چیز جس کی دین میں کوئی دلیل نہ ہو، وہ گمراہ کن بدعت شمار ہوگی، جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔
- اس حدیث سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ عیدیں رائے اور ایجاد سے نہیں طے ہوتیں جیسا کہ ہم سے پہلے اہل کتاب کیا کرتے تھے؛ بلکہ وہ شریعت اور اتباع سے طے ہوتی ہیں۔ چوں کہ یہ آیت دین کے کامل ہونے اور نعمت کے تمام ہونے پر مشتمل تھی تو اللہ نے اسے ایک ایسے دن میں نازل فرمایا جسے اس نے دو وجہ سے اس امت کے لیے عید ٹھہرایا: ایک یہ کہ وہ ہفتے کی عید کا دن یعنی یومِ جمعہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ حاجیوں کی عید کا دن ہے، جو ان کے سب سے بڑے اجتماع اور سب سے عظیم وقوف کا دن ہے۔
- سعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا، یعنی مکمل فتح ونصرت، ظاہری وباطنی احکام، اور اصول وفروع کی تکمیل کے ذریعے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب وسنت، دین کے احکام اور اس کے اصول و فروع کے لیے پوری طرح کافی ہیں۔ چنانچہ ہر وہ پر تکلف شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کو اپنے عقائد اور احکام کی معرفت کے لیے کتاب وسنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم، جیسے علم الکلام وغیرہ، کی ضرورت ہے، تو وہ جاہل اور اپنے دعوے میں باطل پر ہے۔ اس نے یہ گمان کیا کہ دین اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس کی کہی ہوئی اور اس کی دعوت دی ہوئی بات کو شامل نہ کیا جائے، یہ اللہ اور اس کے رسول پر سب سے بڑا ظلم اور انہیں جاہل ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ {وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، یعنی ظاہری اور باطنی نعمتیں۔ {وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا، یعنی میں نے اسے تمہارے لیے بطورِ دین منتخب کیا اور چن لیا، جیسا کہ میں نے تمہیں اس کے لیے پسند فرمایا۔ لہذا تم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر قائم رہو، اور اس ذات کی حمد بیان کرو جس نے تمہیں سب سے افضل، سب سے معزز اور سب سے کامل دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔
Explanation
A man from among the Jews came to the Commander of the Believers, ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him), and said: There is a verse in your Book—the Qur’an—which you recite. If it had been revealed to us, the Jews, in our Book, the Torah, we would have taken that day as a festival, celebrating it in gratitude for the blessing of such a great verse. ‘Umar (may Allah be pleased with him) asked: Which verse is that? He said: {Today I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen Islam as your religion.} ‘Umar (may Allah be pleased with him) replied: We know well the day and the place in which this noble verse was revealed. It was sent down on a day of celebration—on Friday—while the Prophet (ﷺ) was standing at ‘Arafah. Both are great days for the Muslims.