”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65312Sahih Muslim (HadeethEnc 65312)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو انھوں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے۔“ اور ایک دوسرے نے کہا: مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کو آباد رکھنے کے سوا کوئی اور عمل نہ کروں، اور ایک تیسرے نے کہا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تم دونوں کی باتوں سے افضل ہے۔ چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی صبح انہیں نبی ﷺ کے منبر کے پاس آواز بلند کرنے پر ڈانٹا اور فرمایا کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اندر جاکر میں نبی ﷺ سے اس معاملے میں دریافت کروں گا جس میں تمھارا اختلاف ہوا ہے، اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا:
"کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [التوبۃ: 19]
حدیث کے فوائد
- اجر وثواب میں اعمال کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں۔
- اعمال کے درجات کا تعین شریعت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کے اجتہادات کے مطابق۔
- اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت، اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔
- نووی کہتے ہیں: اس میں جمعہ اور دیگر دنوں میں مساجد میں آواز بلند کرنے کی کراہت کا بیان ہے، اور یہ کہ جب لوگ نماز کے لیے جمع ہوں تو علم یا کسی اور چیز کے لیے آواز بلند نہ کی جائے، کیونکہ اس سے نمازیوں اور ذکر کرنے والوں کو تشویش ہوتی ہے۔
Explanation
An-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him and his father) mentioned that he was sitting near the pulpit of the Prophet (ﷺ) when he heard a man say: I do not mind doing no other deed after becoming Muslim except giving water to the pilgrims. And another man said: I do not mind doing no other deed after becoming Muslim except maintaining and serving the Sacred Mosque. Then another said: Jihad in the cause of Allah is better than what you both have said. ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with them) rebuked them for raising their voices near the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ)—and it was Friday morning. Then he said: When I have prayed the Friday prayer, I will go in and ask the Prophet (ﷺ) about the matter in which you have differed. So Allah Almighty revealed:
{Do you consider giving water to the pilgrims and maintaining the Sacred Mosque as equal to believing in Allah and the Last Day and striving for Allah’s cause? They are not equal before Allah, and Allah does not guide the wrongdoing people.} [Surat at-Tawbah: 19]