صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
65783Sahih صحیح
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ المُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمَّعَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ المُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَتِ الأَنْصَارُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ، ثُمَّ كَثُرَ المُهَاجِرُونَ بَعْدُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: أَوَقَدْ فَعَلُوا، وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا المُنَافِقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ، لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ».
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir ibn ‘Abdullah (may Allah be pleased with him and his father) reported: We were on an expedition when a man from the Muhājirīn (Emigrants) shoved a man from the Ansār (Supporters). The Ansāri cried: O Ansār, help! And the Muhājiri cried: O Muhājirīn, help! Allah made His Messenger (ﷺ) hear this. He asked: "What is this?" They said: A man from the Muhājirīn shoved a man from the Ansār, and the Ansāri called: O Ansār! and the Muhājiri called: O Muhājirīn! The Prophet (ﷺ) said: "Leave it, for it is disgraceful." Jābir said: The Ansār were more numerous when the Prophet (ﷺ) arrived (in Madīnah), but later the Muhājirīn increased. Then ‘Abdullah ibn ’Ubayy said: Have they really done this? By Allah, when we return to Madīnah, the mightier will surely expel the weaker from it. ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) said: O Messenger of Allah, let me strike the neck of this hypocrite. The Prophet (ﷺ) said: "Leave him, so that people will not say that Muhammad kills his Companions."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق عليه
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #65783

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نبی کریم ﷺ ایک غزوہ میں سفر پر تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین وانصار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے ضرب لگائی۔ تو انصاری نے پکارا: اے انصارو! میری مدد کرو، اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! میری مدد کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصارو، میری مدد کے لیے آؤ۔ اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرو، میری مدد کے لیے آؤ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس جاہلانہ عادت کو چھوڑ دو کیونکہ یہ قبیح، ناپسندیدہ اور تکلیف دہ عادت ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ جب آدمی پر اس کا مخالف غالب آجاتا ہے تو وہ اپنی قوم کو پکارتا ہے، پھر وہ لوگ جہالت اور عصبیت کی بنا پر اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ تو نفاق کے سرغنہ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہا: ”کیا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے؟! اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والے -یعنی وہ خود اور اس کے ساتھی- وہاں سے ذلت والوں کو -یعنی نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو- نکال باہر کریں گے۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا سر قلم کر دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے پیروکاروں کو قتل کرتا ہے، خواہ ظاہری طور پر ہی سہی۔

حدیث کے فوائد

  • جاہلیت کی مذموم عادات اور روایات سے منع کیا گیا ہے، خواہ وہ قولی ہوں یا فعلی۔ اسلام اسی لیے آیا ہے کہ لوگوں کو ان سے دور کرے اور انہیں اس چیز کی رہنمائی کرے جو ان کے لیے درست اور حق ہے۔
  • باطل گروہ بندی سے خبردار کرنا، اور اس سے ایک بدبودار اور قبیح چیز کی طرح بچنا۔
  • ہر اس چیز کی ممانعت جو عداوت اور بغض پیدا کرے۔
  • امام نووی فرماتے ہیں: نبی ﷺ کا اسے ’جاہلیت کا دعویٰ‘ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے تھے، کیونکہ یہ جاہلیت کے اُن کاموں میں سے تھا جو وہ دنیاوی امور میں قبائلی تعلقات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے کرتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں لوگ اپنے حقوق اپنے رشتہ داروں اور قبیلوں کے زور پر حاصل کرتے تھے، پھر اسلام نے اس چیز کو باطل قرار دیا اور تمام مقدمات کا فیصلہ شرعی احکام کے مطابق کرنا لازم کیا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دوسرے پر زیادتی کرتا ہے تو قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اسے اس کی زیادتی کے تقاضے کا پابند کرتا ہے، جیسا کہ اسلامی قواعد میں ثابت ہے۔
  • سندھی کہتے ہیں: اس سے واضح ہوا کہ کسی کی مدد محض اس لیے کرنا کہ وہ اپنے قبیلے کا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کا طریقہ تھا، باطل ہے۔ لہٰذا اس کا کوئی جواز نہیں کہ ہر شخص اپنے قبیلے کو ندا لگائے۔ رہی حق کی نصرت، تو وہ ہر مومن پر لازم ہے، خواہ وہ اس کے قبیلے کا ہو یا نہ ہو۔
  • منافقین کی بد زبانی اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف ان کی جرأت۔
  • منافقوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر نبی ﷺ انتہائی تحمل اور صبر سے کام لیتے تھے۔
  • ہر اس عمل سے خبردار کیا گیا ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے متنفر کرے، اسی لیے نبی ﷺ نے منافقوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔

Explanation

The Prophet (ﷺ) was traveling on an expedition with his Companions from the Muhājirīn and the Ansār (may Allah be pleased with them). A man from the Muhājirīn struck the back of a man from the Ansār with his hand. The Ansāri cried: Help me, O Ansār! and the Muhājiri cried: Help me, O Muhājirīn! The Messenger of Allah (ﷺ) heard this and said: What is this? They said: A man from the Muhājirīn struck the back of a man from the Ansār with his hand. The Ansāri said: Help me, O Ansār! and the Muhājiri said: Help me, O Muhājirīn! The Prophet (ﷺ) said: Abandon this pre-Islamic practice, for it is vile, detestable, and harmful. It is when a man, if overpowered by his opponent, calls upon his tribe, and they rush to his aid—whether he is the oppressor or the oppressed—out of ignorance and tribalism. Jābir said: The Ansār were more numerous when the Prophet (ﷺ) first arrived in Madīnah as an emigrant, but later the Muhājirīn increased in number. The chief of hypocrisy, ‘Abdullah ibn ’Ubay ibn Salūl, said: Has the matter really reached this extent?! By Allah, when we return to Madīnah, the mightier ones—meaning himself and his followers—will surely expel the weaker ones—meaning the Prophet (ﷺ) and his followers—from Madīnah. ‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) said: Let me, O Messenger of Allah, strike the neck of this hypocrite. The Prophet (ﷺ) said: Leave him, so that people will not say that Muhammad kills his followers—even those who only outwardly appear to be among them.

Topics موضوعات