صحیح مسلم
Sahih Muslim

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اور نبی ﷺ کا انہیں نماز اور وضو سکھانے کا بیان۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6610Sahih صحیح
عن عمرو بن عَبَسة رضي الله عنه قال: كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضَلالة، وأنهم لَيْسُوا على شيء، وهم يَعبدون الأوثان، فسمعت برجل بمكة يُخبر أخبارًا، فَقَعَدتُ على راحلتي، فقدِمتُ عليه، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مُسْتَخْفِيًا ، جُرَءآءٌ عليه قومه، فتَلطَّفتُ حتى دخلت عليه بمكة، فقلت له: ما أنت؟ قال: «أنا نَبيٌّ» قلت: وما نَبِيٌّ؟ قال: «أرسلني الله» قلت: وبِأَيِّ شيء أرسلك؟ قال: «أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يُوَحَّد الله لا يُشرك به شيءٌ»، قلت: فمن معك على هذا؟ قال: «حُرٌّ وعَبْدٌ»، ومعه يومئذ أبو بكر وبلال رضي الله عنهما ، قلت: إني مُتَّبِعُكَ، قال: «إنك لن تستطيع ذلك يَوْمَك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟ ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بِي قد ظهرت فأتني». قال: فذهبت إلى أهلي، وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة حتى قدم نَفرٌ من أهلي المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قَدِم المدينة؟ فقالوا: الناس إليه سِرَاعٌ، وقد أراد قومُه قتلَه، فلم يستطيعوا ذلك، فقدمت المدينة، فدخلت عليه، فقلت: يا رسول الله أَتَعْرِفُني؟ قال: «نعم، أنت الذي لَقَيْتَنِي بمكة» قال: فقلت: يا رسول الله، أخبرني عما عَلَّمَك الله وأَجْهَلُهُ، أخبرني عن الصلاة؟ قال: «صَلِّ صلاةَ الصبح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قِيْدَ رمح، فإنها تَطْلُعُ حين تَطلُعُ بين قرني شيطان، وحينئذ يَسجدُ لها الكفار، ثم صلِ فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى يَسْتَقِلَّ الظِّلُ بالرُّمْح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة، فإنه حينئذ تُسْجَرُ جهنم، فإذا أقبل الفيء فَصَلِّ، فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى تُصلي العصر، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس، فإنها تَغْرُبُ بين قَرْنَيْ شيطان، وحينئذ يسجدُ لها الكفار» قال: فقلت: يا نبي الله، فالوضوء حدثني عنه؟ فقال: «ما مِنكم رجلٌ يُقَرِّبُ وضوءه، فيتمضمض ويستنشق فيستنثر، إلا خرَّت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء، ثم يغسل يديه إلى المرفقين، إلا خرَّت خطايا يديه من أنامله مع الماء، ثم يمسح رأسه، إلا خرَّت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء، ثم يغسل قدميه إلى الكعبين، إلا خرَّت خطايا رجليه من أنامله مع الماء، فإن هو قام فصلى، فحمد الله تعالى ، وأثنى عليه ومجَّدَه بالذي هو له أهل، وفرَّغَ قلبه لله تعالى ، إلا انصرف من خطيئته كهيئته يومَ ولدَتْه أمه». فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له أبو أمامة: يا عمرو بن عبسة، انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟ فقال عمرو: يا أبا أُمَامة، لقد كَبِرَتْ سِنِّي، ورقَّ عظمي، واقترب أجلي، وما بِي حاجة أن أَكْذِبَ على الله تعالى ، ولا على رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثًا -حتى عدَّ سبع مرات- ما حدَّثْت أبدًا به، ولكني سمعته أكثر من ذلك.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں کچھ خبریں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس (مکہ) آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چھپ کر اپنا دعوتی کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپﷺ پر دلیر ہے۔ بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ (راوی کا کہنا ہے کہ) اس وقت آپﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ (بالآخر مکہ چھوڑ کر) مدینہ تشریف لے آئے۔ ایسے میں میرے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جو شخص مدینہ آیا ہے اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ تو بہت تیزی سے اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ لہذا میں مدینہ آ گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا: تم صبح کی نماز پڑھو اور اس کے بعد نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کی مقدار کے برابر بلند ہو جائے۔ کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر (اس وقت) نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنے لگے تو نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جو بھی آدمی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں سے نکل کر گر جاتے ہیں۔ چنانچہ (اس کے بعد) اگروہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی، پس اللہ کی اس کے شایانِ شان حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ اس پر عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا، لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Amr ibn ‘Abasah (may Allah be pleased with him) said: 'In the pre-Islamic time of ignorance, I used to think that people were misguided. They were not on a right path, as they worshipped idols. Then I heard of a man in Makkah who was telling news. So I mounted my camel and went to him. It was the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). He was hiding, since his own people were aggressive toward him. So I acted gently until I entered upon him. I said to him, "Who are you?" He said: "I am a Prophet." I said: "What is a Prophet?" He said: "Allah has sent me.'' I said: "With what has He sent you?" He said: "He sent me with [a message] of maintaining kinship ties, breaking the idols, and upholding the oneness of Allah without associating anything with him." I said: "Who is with you on that?" He said: "A free man and a slave man.'' (At that time only Abu Bakr and Bilāl (may Allah be pleased with both of them) were with him. I said: "I shall follow you.'' He said: "You cannot do that today. Do you not see my situation and that of the people? However, go back to your people, and when you hear that I have succeeded in my mission, come to me.'' So I went to my people. Later, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) went to Madīnah. It was until some of my people went to Madīnah., that I said: "What happened to this man who came to Madīnah?" They said: "People are hastening to him. His own people wanted to kill him, but they could not." So I went to Madīnah and entered upon him and said: "O Messenger of Allah, do you recognize me?" He said: "Yes, you are the one who met me in Makkah." I said: "O Messenger of Allah, tell me about what Allah has taught you, which I am unaware of. Tell me about prayer." He said: "Perform the morning prayer. Then do not pray until the sun has risen up to the height of a lance, for when it rises, it rises between two horns of a devil. It is when the unbelievers prostrate themselves to it. Then pray, for prayer is witnessed and attended, until the shadow of the lance shrinks. Then do not pray, for at that time Hell is fired up. Then pray when the shadow becomes longer, for the prayer is witnessed and attended, until you perform ‘Asr. Then do not pray until the sun sets, for it sets between two horns of a devil. It is when the unbelievers prostrate themselves to it." I further said: ''O Prophet, tell me about ablution.'' He said: "When anyone of you approaches his ablution water, and rinses his mouth and nose, the sins of his face fall with water from the edges of his beard. Then when he washes his hands up to elbows, the sins of his hands fall with water from his fingertips. Then when he wipes over his head, the sins of his head fall with water from the ends of his hair. Then when he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall with water from his toes. Then, when he stands up for prayer, praises Allah, the Almighty,, extols Him, glorifies Him as He deserves, and empties his heart for Allah, the Almighty, he becomes free from his sins as he was on the day his mother gave birth to him.'' ‘Amr ibn ‘Abasah narrated this Hadīth to Abu Umāmah, a companion of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). Abu Umāmah, therefore, said to him: "O ‘Amr ibn ‘Abasah, think about what you are saying. Will a man be getting all of this on one occasion?" ‘Amr said: "O Abu Umāmah, I am old in age, weak in bones, and close to death. I do not need to tell lies about Allah and His Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him). Had I not heard this from the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) only once, twice, thrice (he counted up to seven times), I would have not reported it. However, I heard it more than that.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6610

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانۂ جاہلیت میں کیا حال تھا اور کیسے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔زمانۂ جاہلیت ہی میں ان کے دل میں ایک روشنی موجود تھی جس کی وجہ سے ان پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باطل پر اور شرک و گمراہی پر ہیں۔ چنانچہ وہ اس عقیدہ کے حامل نہیں تھے جو ان لوگوں کا عقیدہ تھا۔ پھر انہوں نے سنا کہ مکہ میں اس زمانے ميں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے جو خبریں دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ نبی ﷺ کفارِ قریش کی اذیت کےخوف سے چھپ کر اپنی دعوت دے رہے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
آپﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے اللہ عز وجل کی طرف دعوت دی اور اس عظیم دین کی خوبیوں کو بیان کیا۔ ان میں سب سے اہم اللہ عز و جل کی توحید اور مکارمِ اخلاق ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں کو اپنی عقل کی بنا پر بھی معلوم ہو جاتی ہیں کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی لیے یہ صحابی اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ مشرکین کا طریقۂ عبادت باطل ہے اور وہ حق کے متلاشی تھے، اللہ تبارک وتعالی ان سے راضی ہو۔ چنانچہ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے ان باتوں کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمايا ہے۔ اور فرمایا: اللہ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینےکے لیے بھیجا ہے۔ صلہ رحمی مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اہل مکہ یہ باتیں پھیلا رہے تھے کہ نبیﷺ قطع رحمی کا مقصد لے کر آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قطع رحمی کے ليے نہیں بلکہ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں۔
اور بتوں کو توڑنے کے لیے۔ یعنی اس چيز کو توڑنے کے لیے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کی جاتی ہے۔ اوریہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے پوچھا: اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ یعنی آپ کے ساتھ اور کون ہے جو اس دین میں داخل ہوچکا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ آزاد شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جب کہ غلام بلال رضی اللہ عنہ تھے۔
میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپﷺ کی اتباع کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں رہنے کے لیے اپنی قوم کو چھوڑ دیتے تو آپﷺ انہیں کفار سے نہ بچا سکتے چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے کہا: مسلمان ہو کر اپنی قو م میں ہی رہو یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے۔ اس وقت تم آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جانا۔ آپﷺ نے ایسا ہمدردی اور از راہِ شفقت و رحمت فرمایا کیونکہ یہ شخص کمزور تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ یعنی یہ لوگ بہت زیادہ ہیں اور ہمیں اذیت دے رہے ہیں اور میرا ان پر کوئی بس نھیں چلتا، تو میں تمہارا دفاع کیسے کر سکوں گا؟! آپﷺ نے فرمایا: لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔
معنی یہ ہے کہ اپنے اسلام پر قائم رہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آنا۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے اہل خانہ میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی۔ کیونکہ اسلام ان کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں: اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میں (آپ کی بابت) لوگوں سے پوچھتا رہتا۔ یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مدینہ سے آئے تو میں نے ان سے پوچھا: مدینہ آنے والے اس آدمی کا کیا ہوا؟ گویا کہ وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھ رہے تھے اور اپنی قوم کے ڈر کی وجہ سے اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو اس آدمی کی طرف بہت تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ليكن خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں كر سکے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ چلا آیا اور آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے؟
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ وہ نبیﷺ سے پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کے وہ کون سے احکام ہیں جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ مجھے وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور جس سے میں ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو۔ یعنی اس کے وقت میں اسے ادا کرو۔ پھر نماز سے رکے رہو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ یعنی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے۔ تاہم آیا جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند نہ ہو جائے۔ یعنی دیکھنے والے کی نگاہ ميں۔
سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے اس وقت میں کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ لھٰذا مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بالارادہ اس وقت تک نماز کو موخر کرے اور نہ ہی سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے لیے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ جنتری میں آپ کو وقت الشروق لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں مراد یہی وقت ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: سورج جس وقت طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔
آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ یعنی دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ اسے لکھ سکیں اور جس نے نماز پڑھی ہو اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ اس کا معنی وہی ہے جو ایک دوسری روایت کا ہے جس میں مشهودة مكتوبة کے الفاظ ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں تک کہ سایہ (کم ہو کر) نيزے کے برابر ہو آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاو۔ یعنی بوقت زوال جب سورج آسمان کے بالکل درمیان میں انسان کے سر کے عین اوپر آجاتا ہے اور سارا سایہ اس کے پاؤں تلے ہوجاتا ہے تو اس وقت کے بارے میں آپ ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ یہ تقریبا اتنا وقت ہوتا ہے جس میں دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس وقت میں آدمی کو انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ نماز ظہر کے لیے اذان دے دی جائے۔
آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے۔ سایہ گھٹتا اور کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ کے قدموں تلے آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کے دوسری جانب منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ظہر کی اذان کے وقت یہ سایہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے تو اس وقت نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ یعنی عصر کے وقت تک فرض نماز بھی پڑھو اور نفل بھی۔ نماز پڑھنے کے لیے یہ وقت کھلا ہے اور اس میں آپ جتنی چاہیں نفل نماز پڑھیں۔ اس میں کوئی کراہت نہیں تاہم جب آپ عصر پڑھ لیں تو اس کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک نفل نماز نہ پڑھیں۔
پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل ایک دفعہ پھر سے وہ وقت آجاتا ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے جیسا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت تھا۔ یہاں حرمت کی علت یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز عصر کو جان بوجھ کر مغرب سے کچھ دیر پہلے تک موخر کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی سورج پرست کفار کے ساتھ مشابہت ہو گی اور مسلمان ایسا کرنے یعنی نماز عصر کو اس وقت تک موخر کرنے کی صورت میں گویا کفار کی تقلید کرے گا۔ نبی ﷺ نے اسے منافقین کی نماز کا نام دیا ہے۔ کیونکہ منافق ہی ایسا کرتا ہے کہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوجاتا ہے تو جلدی جلدی ٹھونگ مار کر چار رکعت پڑھ لیتا ہے اور اس میں بہت کم اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کفار اور منافقین کی مشابہت سے بچیں اور نماز کو جان بوجھ کر سورج کے زرد پڑ جانے تک موخر کرنے سے پرہیز کریں۔
آپﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے،تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ یعنی جب انسان وضو کرتا ہے تو پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟
یعنی انہیں یہ بہت زیادہ لگا کہ آدمی کو ایک ہی جگہ پر اتنا کچھ دے دیا جائے کہ جب وہ وضو کرے تو اس کے ساتھ اس کے سارے گناہ جھڑ جائیں اور پھر نماز پڑھ کر جب وہ فارغ ہو تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ اچھی طرح سے یاد کرو کہ کہیں نبیﷺ کی فرمائی ہوئی کوئی بات تم بھول نہ گئے ہو۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ جواب دیا کہ: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبیﷺ کے صحابہ آپﷺ پر یا اپنے رب سبحانہ وتعالی پر کوئی جھوٹی بات کہیں۔
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نہ ہی مجھے اس بات کی کوئی ضرورت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ،حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا۔
یعنی آپﷺ نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ سات دفعہ فرمائی۔ عربوں کے ہاں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے اور شاید نبیﷺ نے اس سے بھی زیادہ دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

Explanation

‘Amr ibn ‘Abasah As-Sulami (may Allah be pleased with him) informs us about his situation in the pre-Islamic times and how Allah guided him to Islam. Before Islam, he had light in his heart that showed him that the unbelievers were misguided, as they worshiped false objects, which they associated with Allah. He did not share their beliefs. However, when he heard of someone in Makkah telling prophetic news, he mounted his camel and went to him. Prophet Muhammad was then hiding to avoid the abuse of the Makkans. ‘Amr says that he used gentle ways to get access to the Prophet. He then approached him and asked him about his message. The Prophet told him that Allah sent him with a message of upholding kinship relations, breaking idols, and worshiping Allah alone without associating partners with Him. Here the Prophet was inviting him to Allah, explaining to ‘Amr great aspects of Islam. The most important thing he told him was to believe in the oneness of Allah and to have good manners. He told ‘Amr what people would realize with their reason that idols were a falsehood. Before coming to Islam, ‘Amr knew that the polytheists were on a false course of worship. He was searching for the truth. So when he reached the Prophet and asked him about his message, he told him that Allah sent him with a message that maintains kinship relations. Indeed, the Makkans had spread rumors that the Prophet came with a message that severs kinship ties. Against these backdrop, the Prophet asserted that his message maintained kinship ties. The Prophet further told ‘Amr that his message included the breaking of idols, i.e. everything that is worshipped besides Allah, so that Allah is worshipped alone, without any partners associated with Him. Upom hearing that, ‘Amr asked the Prophet about his followers, and the Prophet told him that a free man (i.e. Abu Bakr) and a slave man (i.e. Bilāl) were following him. So he said that he too would follow the Prophet. However, the Prophet told him that he can not do so on that day. This means that if ‘Amr joined the Prophet in Makkah, thus leaving his own people, the Prophet would not be able to protect him from the Makkans. So he told him to stay as a Muslim among his people until Islam is strong enough, then ‘Amr would join Muslims. This was an aspect of the Prophet’s compassion. ‘Amr was weak and the Makkans were plenty in number and hostile towards the Prophet, who could not defend himself rather than someone else. ‘Amr went back to his own people as a Muslim, and thus he would often check on the Prophet's news. However, he kept his conversion a secret, fearing for his own life. When some of his people came back from a visit to Madīnah, ‘Amr asked them about the Prophet. They told him that people were quick in responding to him and that the Makkans wanted to kill him but failed. So ‘Amr travelled to Madīnah and entered upon the Prophet, who recognized him. ‘Amr asked the Prophets about the teachings of Islam; so as to learn what he is unaware of the divine knowledge. The Prophet told him that he should pray the morning prayer on time and then stop praying until the sun rises, because when it rises the unbelievers prostrate themselves to it. A Muslim, however, is not allowed to delay his morning prayer, nor to pray optionally when the sun rises. The time for sunrise can be known from the calendar. Now, the Prophet forbade that Muslims emulate the disbelievers by praying at sunrise, because the sun rises between two horns of a devil. Later, however, angels attend the prayers, so as to record a Muslim's prayer and be witness for him. No prayer is allowed when the sun is in the middle of the sky, because then Hell is fired up. At this time, one's shade is under his feet. It is a short time that lasts for only two Rak‘ahs. However, when the shade shrinks under one's feet and moves to the other direction, marking the noon time, the angels attend the prayer, so a Muslim may pray from Zhuhr until ‘Asr. This is an open time for prayer. After praying ‘Asr, one does not pray until sunset. Before sunset, it is forbidden to pray because the sun sets, as it rises, between two horns of a devil. A Muslim, meanwhile, is not allowed to delay praying ‘Asr until shortly before sunset, because in doing so he emulates the unbelievers. The Prophet called it the prayer of hypocrites, who wait until the sun is orange and pray four Rak‘ahs quickly, with little remembrance of Allah. So a Muslim should not behave like unbelievers and hypocrites, willingly delaying the 'Asr prayer until the sun is going to set. ‘Amr then asked the Prophet about ablution. The Prophet told him that doing ablution as prescribed eliminates sins, which fall with water when one washes his limbs. ‘Amr used to tell others about this Hadīth, yet Abu Umāmah warned him, concluding that he was exaggerating. He might have thought that the reward was too large for doing ablution, that a Muslim becomes sin-free as if he is just born. ‘Amr, however, explained that he did not have to lie, because he was already old, weak, and about to die. He further said that he heard the Hadīth not only once or even seven times, but more than that.

Topics موضوعات