صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ تو کیا تمہارے پاس کھانے پینے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6613Sahih صحیح
عن أنس قال: قال أبو طَلحَة لأم سليم: قد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفًا أعرف فيه الجُوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم، فَأَخْرَجَت أَقْرَاصًا من شَعير، ثم أَخَذْتْ خِمَارًا لها، فَلفَّت الخُبْزَ بِبَعْضِه، ثم دسَّتْهُ تحت ثوبي ورَدَّتني ببعضِه، ثم أرسَلَتني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فَذَهَبَتُ به، فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسًا في المسجد، ومعه الناس، فَقُمتُ عليهم، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أرسلك أبو طلحة؟» فقلت: نعم، فقال: « أَلِطَعَام؟» فقلت: نعم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «قوموا» فانْطَلَقُوا وانطَلَقتُ بين أيديهم حتى جئت أبا طَلَحة فَأَخْبَرتُهُ، فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نُطعِمُهُم؟ فقالت: الله ورسوله أعلم. فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم معه حتى دخلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « هَلُمِّي ما عندك يا أم سليم» فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عليه أم سليم عُكَّةً فَآدَمَتْهُ ، ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقول، ثم قال: «ائْذن لعشرة» فَأَذِنَ لَهُم فأكلوا حتى شَبِعُوا ثم خرجوا، ثم قال: «ائْذَن لعشرة» فأذن لهم حتى أكل القُوم كلُّهم وشَبِعُوا والقوم سبعون رجلا أو ثمانون. متفق عليه. وفي رواية: فما زال يَدخُل عشرة، ويخرج عشرة حتى لم يبق منهم أحد إلا دخل، فأكل حتى شَبِع، ثم هَيَّأهَا فإذا هي مِثْلُهَا حين أكلوا منها. وفي رواية: فأكلوا عشرة عشرة، حتى فعل ذلك بثمانين رجلا، ثم أكل النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك وأهل البيت، وتركوا سُؤْرَا. وفي رواية: ثم أفْضَلُوا ما بَلَغُوا جِيرانهم. وفي رواية عن أنس، قال: جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، فوجدته جالسا مع أصحابه، وقد عَصَبَ بَطنه، بِعُصَابة، فقلت لبعض أصحابه: لِم عَصَبَ رسول الله صلى الله عليه وسلم بطنه؟ فقالوا: من الجُوع، فذهبت إلى أبي طلحة، وهو زوج أم سليم بنت مِلْحَان، فقلت: يا أبَتَاه، قد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عَصَبَ بطنه بِعِصَابَة، فسألت بعض أصحابه، فقالوا: من الجُوع. فدخل أبو طلَحَة على أمي، فقال: هل من شيء؟ قالت: نعم، عندي كِسَرٌ من خُبزٍ وتمرات، فإن جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وحده أشْبَعنَاه، وإن جاء آخر معه قَلَّ عنهم... وذكر تمام الحديث.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم (انس کی والدہ) سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔ میرے خیال میں آپ ﷺ بھوکے ہیں۔ توکیا تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہاں ہے۔ یہ کہہ کر ام سلیم نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹا اور میرے کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور اس دوپٹے کا کچھ حصہ میرےاوپر لپیٹ دیا، اس کے بعد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ چنانچہ میں اسے لے کر گیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بيٹھے ہوئےپايا۔ آپ ﷺ کے ہمراہ اور لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:”کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا :جی ہاں! پھر دریافت کیا :”کيا کھانے کے ليے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے (تمام لوگوں سے) فرمایا کہ اٹھو۔ پس سب لوگ چل ديےاور ميں ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ ابوطلحہ کے پاس پہنچ کر خبر دی تو ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان (سب) کو کھلا سکیں۔ ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کےرسول بہتر جانتے ہیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکل کر چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“۔ ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان روٹیوں کو توڑا گیا اور ام سلیم نے ان پر گھی کی کپّی نچوڑ دی جس نے ان کو سالن بنا دیا (یعنی وہ سالن کا کام دیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نےجو کچھ اللہ نے چاہا،اس میں پڑھا (یعنی خیر و برکت کی دعا کی) اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“۔ ابو طلحہ نے اجازت دی، انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔ (متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔ ايک اور روايت ميں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: ميں ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما پایا اور آپ ﷺ کے پیٹ پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ وہ کہنے لگے کہ بھوک کی وجہ سے، تو میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا جو کہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر تھےاور ان سے عرض کیا :اے ابا جان! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھی ہوئی ہے، میں نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنی بھوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے ۔ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری والدہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ ام سلیم نے کہا: جی ہاں، میرے پاس روٹی کے کچھ ٹکڑے اور چند کھجوریں ہیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اکیلے تشریف لائیں تو ہم آپ ﷺ کو سیراب کر دیں گے اور اگر آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی آئے گا تو ان کے ليے کم پڑ جائے گا...پھر پوری حدیث ذکر کی۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Anas (may Allah be pleased with him) reported that Abu Talhah said to Umm Sulaym: "I felt some feebleness in the voice of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and perceived that it was due to hunger; so have you anything with you?" She replied in the affirmative, and brought out barley loaves, then took out a head-covering of hers, in a part of which she wrapped those loaves and then put them beneath my mantle and covered me with a part of it. She then sent me to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him). I [Anas] set forth and found the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) sitting in the mosque and some companions were with him. I stood near them, whereupon the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Has Abu Talhah sent you?" I replied in the affirmative, whereupon he said: "Is it for a feast?" I replied in the affirmative. Thereupon the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to those who were with him to get up. They set off and so I did before them, until I came to Abu Talhah and informed him. Abu Talhah said: "O Umm Sulaym, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has arrived along with some people and we do not have enough to feed them?" She said: "Allah and His Messenger know best." Abu Talhah went out (to receive him) until he met the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) he proceeded along with him until they both entered. Then the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "O Umm Sulaym, bring forth that which you have with you," and she brought such bread. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) then commanded that the bread be broken into small pieces, and when Umm Sulaym had squeezed a container of fat on it as a dressing, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said whatever that Allah willed him to say over it. He then said: "Allow ten to enter." He permitted them, and they ate until they were satiated. They then went out. He again said: "Allow ten more," and he permitted them and they ate until all the people were satiated, and they were seventy or eighty men" [Al-Bukhāri and Muslim]. In another narration: "They continued to enter and exit, ten at a time, until no one remained who had not entered and eaten to his fill. He then collected the leftovers and it was the same quantity as what had been eaten." In another narration: "They ate ten at a time, until eighty people had eaten. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and the hosts ate, and they left a surplus." In another narration: "There was enough leftover to feed their neighbors." In another narration reported by Anas who said: "One day I came to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and found him sitting with his companions, and he had tied his belly with a bandage. I asked some of his companions why the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) had bandaged his belly. They said that it was due to hunger. I then went to Abu Talhah, the husband of Umm Sulaym bint Milhān, and said to him: "Father, I saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) having bandaged his belly. I asked some of his companions the reason and they said that it was due to hunger." Abu Talhah came to my mother and said: "Is there anything?" She said: "Yes, I have some pieces of bread with me and some dates. If the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) comes to us alone we can feed him to his fill, but if someone comes along with him this would be insufficient for them." And he mentioned the rest of the Hadīth.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6613

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ آپ ﷺ سخت بھوک کی حالت ميں تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی کمزور آواز سن کر حالت سے باخبر ہوگئے۔ چنانچہ اپنی بيوی ام سلیم سے نبی ﷺ کے بارے ميں بتلايا اور پوچھا کہ كيا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ ام سليم رضی اللہ عنہا نے جواب ديا کہ ہاں، يعنى ہمارے پاس ايسی چيز ہے جس سے آپ ﷺ کی بھوک مٹ جائے گی،پھرجو کی روٹی کے چند ٹکڑے نکالے، پھر اپنا دوپٹا لیا اور اس کے ایک کنارے میں ان روٹیوں کو لپیٹ کر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے کے نيچے چھپاديا اورباقی دوپٹے کو ان کے اوپر بطور چادر ڈال ديا تاکہ ڈھک جائے۔ جب انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ کو اپنے اصحاب کے درميان تشريف فرما پايا. پس میں ان کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ (وه كہتے ہيں) تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟"میں نے عرض کیا:جی ہاں! پھردریافت کیا :"کيا کھانے کے ليے؟" يعني کيا ابو طلحہ نےتم کو ہميں کھانے کي دعوت دينے کے ليے بھيجا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انس رضی اللہ عنہ آپ کو کھانا نہيں دے سکے کيونکہ کئی صحابہ آپ ﷺ کے پاس بيٹھے ہوئے تھےاور وہ آپ کی عادت مبارکہ سے واقف تھے کہ آپ اپنے آپ کو اپنے ساتھيوں پر ترجيح نہيں ديتے ہيں. اس ليے انس رضی اللہ عنہ کے ليے "ہاں" کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی دعوت کا اظہار کيا تاکہ ان کے ساتھ تنہا ابو طلحہ کے گھر چلے جائيں اور نبی ﷺ کو کھلانے کا مقصد حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس وقت آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو چلو. پس سب لوگ چل ديے۔ انس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے آگے آگے چلے۔ ايک روايت ميں ہے: ميں رسول ﷺ کے ساتھ آنے والے لوگوں کى كثرت سے غمزدہ تھا۔ انس کہتے ہيں: يہاں تک کہ ميں ابوطلحہ کے پاس پہنچا اورانهيں خبردار كيا. تو ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی ﷺ لوگوں کو لے کر تشريف لا رہے ہيں اور ہمارے پاس اتنا كهانا نہیں کہ ہم ان (سب ) کوکھلا سکیں۔ اس پرام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زيادہ جانتے ہيں۔ ام سليم رضی اللہ عنہا نے معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد کرديا، گويا ان کو معلوم ہو گيا تھا کہ آپ ﷺ نے ايسا جان بوجھ کر کيا ہے تاکہ کھانے کی زيادتی ميں آپ کی کرامت ظاہر ہو، يہ ان کی عقل مندی اور زيركى ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (استقبال کے ليے) گھر سے باہر نکلے اور رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے ہمراہ تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں اندر داخل ہوئےتو رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ايک روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ كا استقبال کيا تو عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں،جسے ام سليم نے بنايا ہے۔ اور ايک روايت ميں ہے: ابوطلحہ نے کہا کہ صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہيں توآپ ﷺ نے فرمايا: ”يقينا اللہ اس ميں برکت دےگا“، ايک اور روايت ميں ہے کہ ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ميں نے انس کو صرف آپ کو بلانے کے ليے بھيجا تھا کيونکہ ہمارے پاس کوئی ايسی چيز نہيں ہے جو ان تمام حاضرين کو آسودہ کرسکے. تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”(گھر ميں) داخل ہو، جو کچھ تمہارے پاس ہے يقينا اللہ اس ميں برکت دے گا“۔جب رسول الله ﷺ ابو طلحه کے گھر ميں داخل هوئے تو فرمایا: ”ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ“، ام سلیم وہی روٹیاں جو ان کے پاس تھیں لے آئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان روٹیوں کے توڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور ام سلیم نے کپّی میں سے گھی نچوڑا جو ان ٹکڑوں كے ليے سالن ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ اللہ نے چاہا، اس ميں پڑھا، يعنی آپ ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس تھوڑے سے کھانے ميں برکت نازل کر دے۔ ايک روايت ميں ہے: چنانچہ ميں اس کو لے کرآئی تو آپ ﷺ نےاس کے بندھن کو کھولا، پھر کہا: ”بسم الله اللهم أعْظِمْ فيها البركة“ (اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ تواس ميں برکت كو زياده كردے) اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، چنانچہ ابو طلحہ نے انھیں جازت دی۔ انہوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: ”دس آدمیوں کو (کھانے کی) اجازت دو“، ابو طلحہ نے اجازت دی۔ انہوں نے بھی کھانا کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے، پھر چلے گئے۔ یہ سب ستر یا اسّی آدمی تھے۔(متفق عليہ) ايک روايت ميں ہے کہ دس دس لوگ داخل ہوتے رہے اور نکلتے رہے يہاں تک کہ کوئی نہيں بچا جو داخل ہوکر پيٹ بھر کھانا نہ کھایا ہو۔ پھر اس کھانے کو اکٹھا کيا گيا تو وہ ويسے ہی باقي تھا جيسے شروع ميں تھا۔ ايک اور روايت ميں ہےکہ دس دس کر کے اسّی لوگوں نے کھايا۔ اس کے بعد نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھايا اور (پھر بھی) بچا ہوا کھانا چھوڑا۔ ايک روايت ميں ہے: پھر انہوں نے اتنا کھانا بچاديا کہ وہ پڑوسيوں کو بھی پہنچایا۔

Explanation

This Hadīth means that one day the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was famished, and Abu Talhah (may Allah be pleased with him) realized that from the weakness of his voice. So he told his wife, Umm Sulaym (may Allah be pleased with her) about it and asked if she had some food. She said that they had enough to feed the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him). She took out some barley loaves and then took one of her head coverings, wrapped the bread up with it and placed it under Anas's cloak and covered him with the other end of the head covering. When Anas approached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) he found him sitting among his Companions, so he went over to him and stood there. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) asked: "Did Abu Talhah send you?" Anas said: 'Yes.' He was unable to give the food to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) because there were many Companions around him. He also knew that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was not used to eating food alone apart from his Companions. By his answer, Anas meant to invite the Prophet to come alone to the house of Abu Talhah, so he could eat as the family had wished. However, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) told his Companions to come with him. They all set off and Anas said: "I set off ahead of them," and in another narration: "I was sad because many came along with him." He added: "I came to Abu Talhah and informed him. Abu Talhah said: "O Umm Sulaym, the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) has arrived with some people, and we do not have enough to feed them." She said: "Allah and His Messenger know best." Umm Sulaym (may Allah be pleased with her) entrusted the matter to Allah and His Messenger, as if she recognized that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had done that intentionally, so that the honor of multiplying the food could be demonstrated by him. Her response indicates her superior understanding. Abu Talhah went to meet the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and he proceeded with him until they both entered the house. The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said (to Umm Sulaym): "Bring what you have."
In another narration: "Abu Talhah received him and said: 'O Messenger of Allah, We have nothing but a loaf of bread that Umm Sulaym made.'"
And in another narration, Abu Talhah said: "It is only a loaf of bread," whereupon the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Allah will bless it."
And in another narration, Abu Talhah said: "O Messenger of Allah, I sent Anas just to invite you; we do not have enough to feed all those I see," whereupon the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Go in, for indeed Allah will bless whatever you have."
When the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) entered the home of Abu Talhah, he said: "Bring what you have, Umm Sulaym.'' So she brought the loaf of bread, which the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) asked to be broken into small pieces. Umm Sulaym squeezed some fat out of a leather container onto the food to dress it and the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) make a supplication over the food. In another narration: "I brought it and he untied it and said: 'In the Name of Allah. O Allah, make it blessed in abundance.'" Then he said: "Allow ten to enter." He gave them permission, and they ate until they were satiated and then went out. He again said: "Allow ten more," and he gave them permission and they ate until all the people were satiated, and they were seventy or eighty men. [Al-Bukhāri and Muslim]
In another narration: "They continued to enter and exit, ten at a time, until no one remained who had not entered and eaten his fill. He then collected the leftovers and it was the same quantity as before they started eating."
In another narration: "They ate ten at a time, until eighty people had eaten. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and the hosts ate and they left a surplus."
In another narration: "There was enough leftover to feed their neighbors."

Topics موضوعات