صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
66514Sahih صحیح
عَنْ أُمِّ المُؤْمِنِينَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».
ام المؤمنين ام عبداللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ جب کہ مسلم کی روایت میں ہے: "جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نا قابل قبول ہے۔"
— HadeethEnc اردو ترجمہ
The Mother of the Believers, ’Umm ‘Abdullah ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever introduces something into this matter of ours that is not part of it will have it rejected." A version by Muslim reads: "Whoever does an action that is not part of this matter of ours will have it rejected."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #66514

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دین کے اندر ایسی کوئی نئی چیز ایجاد کی یا ایسا کوئی نیا کام کیا، جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو، تو اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا اور اللہ کے یہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔

حدیث کے فوائد

  • عبادتوں کی بنیاد قرآن اور حدیث ہے۔ لہذا ہم اللہ کی عبادت قرآن اور حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی کریں گے۔ بدعتوں اور عبادت کی نت نئی شکلوں سے ہر حال میں دور رہيں گے۔
  • دین کی بنیاد رائے اور استحسان پر نہیں ہے۔ دین کی بنیاد اتباع رسول پر ہے۔
  • یہ حدیث دین کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔
  • بدعت ہر اس عقیدہ، قول یا عمل کو کہتے ہیں، جسے دین کے ایک جزء کے طور پر ایجاد کیا گیا ہو اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے زمانے میں موجود نہ رہا ہو۔
  • یہ حدیث اسلام کے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اعمال کے میزان کی طرح ہے۔ جس طرح جب کسی عمل کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول نہ ہو، تو کرنے والے کو اس کا کوئی ثواب نہيں ملتا، اسی طرح جو عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق نہ کیا جائے، اسے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔
  • یہ حدیث دین کے نام پر ایجاد کی جانے والی نئی نئی بدعات اور رونما ہونے والے منکرات کے بارے میں ایک قاعدہ اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • منع صرف ان نئی چیزوں سے کیا گیا ہے، جن کا تعلق دین سے ہو، ان سے نہيں، جن کا تعلق دنیا سے ہو۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) clarifies that whoever innovates something in the religion or does something that is not supported by evidence from the Qur’an and Sunnah will have it rejected and Allah will not accept it from him.

Topics موضوعات