صحیح بخاری · صحیح مسلم
Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim

اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6760Sahih صحیح
عن أبي هريرة، وزيد بن خالد الجهني رضي الله عنهما ، أنهما قالا: «إن رجلا من الأعراب أتى رسول صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، أَنْشُدُكَ اللهَ إلا قضيتَ بيننا بكتاب الله. فقال الخَصْمُ الآخر -وهو أفْقه منه-: نعم، فاقْضِ بيننا بكتاب الله، وأْذَنْ لي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : قل. فقال: إنَّ ابني كان عَسِيفًا على هذا فزنى بامرأته، وإني أُخبرتُ أن على ابني الرَّجْمَ، فافْتَدَيْتُ منه بمائة شاة ووَلِيدَةٍ، فسألتُ أهل العلم فأخبروني أنما على ابني جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام، وأنَّ على امرأة هذا الرَّجْمَ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لأَقْضِيَنَّ بينكما بكتاب الله، الوَلِيدَةُ والغنم رَدٌّ عليك، وعلى ابنك جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام. واغْدُ يا أُنَيْسُ -لرجل مِن أَسْلَم- على امرأة هذا، فإن اعترفتْ فارْجُمْهَا، فَغَدَا عليها فاعترفتْ، فأَمَرَ بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فرُجِمَتْ».
ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ کے مطابق ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرے لڑکے کو سنگسارکر دیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی۔ پھر اہل علم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کو (غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے زنا کی سزا میں) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو“۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار بھی کر لیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Hurayrah and Zayd ibn Khālid al-Juhani (may Allah be pleased with both of them) reported: Two men from among the Bedouins came to the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) and said: "O Messenger of Allah, I adjure you by Allah to judge me according to the Book of Allah." The other disputant – who was smarter – said: "Yes, judge between us according to the Book of Allah, and give me permission to speak first." The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: ‘Speak.’ He said: "My son was employed by this man, and he committed adultery with his wife. I was told that the punishment for my son would be stoning but that he could be ransomed for one hundred sheep and their offspring. I asked the people of knowledge, and they told me that the punishment for my son would be one hundred lashes and exile for one year and that this woman would be stoned." The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "By the One in Whose hand my soul is! I will judge between you according to the Book of Allah. The offspring and sheep will be returned, and your son is to be given one hundred lashes and exiled for one year. O Unays, go to that man's wife tomorrow, and if she admits, then stone her." So he went to her the next day, and she admitted it, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) gave the order that she be stoned.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6760

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔

Explanation

In this Hadīth, an unmarried man committed adultery with the wife of his employer. The father of the fornicator heard that anyone who commits adultery must be stoned. So he ransomed his son by offering one hundred sheep and their offspring to the husband of that woman. Later, he asked the people of knowledge, and they told him that the punishment for his son would be one hundred lashes and exile for one year rather than stoning, and that this married woman would be stoned. Therefore, the husband of the adulteress and father of the fornicator went to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) together, asking him to judge between them according to the Book of Allah. The Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) judged that the one hundred sheep and their offspring must be returned to the father of the fornicator. He also told the father that his son was to be given one hundred lashes and be exiled for one year, because he was unmarried. Regarding the adulteress, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered one of his Companions to go to her to verify whether she would admit the crime. The woman admitted it, so he ordered her to be stoned as she was married.

Topics موضوعات