نبی کریم ﷺ نے چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، انسان اسی حالت میں رہتا ہے کہ…
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: خطَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم خطاً مربعاً، وخطَّ خطاً في الوسطِ خارجاً منه، وخطَّ خططاً صغاراً إلى هذا الذي في الوسطِ من جانبِه الذي في الوسطِ، فقال: «هذا الإنسانُ، وهذا أجلُهُ محيطاً بِه -أو قد أحاطَ بِه- وهذا الذي هو خارجٌ أملُهُ، وهذه الخُطَطُ الصِّغَارُ الأعْرَاضُ، فإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا، وإن أخطَأهُ هذا، نَهَشَهُ هذا».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چوکھٹا لکیریں کھینچیں۔ پھر ان کے درمیان ایک لکیر کھینچی، جو چوکھٹے کے درمیان میں تھی۔ اس کے بعد درمیان والی لکیر کے اس حصے میں، جو چوکھٹے کے درمیان میں تھی، چھوٹی چھوٹی بہت سی لکیریں کھینچیں اور پھر فرمایا:"یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے، جو اسے گھیرے ہوئے ہے -یا یہ کہا کہ اسے گھیر رکھا ہے-اور یہ جو (بیچ کی) لکیر باہر نکلی ہوئی ہے، اس کی امید ہے اور چھوٹی چھوٹی لکیریں اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک (مشکل) سے بچ کر نکلتا ہے، تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے، تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔
Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) drew a square and drew a line in the middle that extended out of it. He drew some small lines on both sides of that central line, and said: "This is man (the line in the middle), and this is his life span encompassing him (the square). This line extending out of the square is his hope, and these small lines are the troubles and accidents that befall him. If this one misses him, that one snaps at him, and if this one misses him, that one snaps at him."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #6821Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 6821)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ان دونوں حدیثوں میں انسان کی امیدوں، اس کی موت اور اسے درپیش مصیبتوں کی مثال بیان کی گئی ہے، جن میں سے کسی سے بھی اس کی موت ہو سکتی ہے، اگر وہ ان سے بچ نکلتا ہے، تو اس کا وقت پورا ہونے پر اسے موت آ جائے گی۔ حدیث میں مذکور خطوط سے مراد درپیش مصائب ہیں، آدمی ان میں سے ایک سے بچ نکلے تو دوسرے سے بچ نہیں پاتا اور اگر سب سے بچ جاۓ، اسے کوئی آفت جیسے بیماری، مالی تباہی وغیرہ لاحق نہ ہو، تو بالآخر موت آ گھیرے گی۔ خلاصہ یہ کہ جو شخص کسی سبب سے نہ مرے، وہ مقررہ وقت پر مرے گا، انسان یوں ہی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوگا کہ اسے قریبی لکیر یعنی موت آ پہنچے گی۔
اس حدیث میں امید کم کرنے اوراچانک آنے والی موت کی تیاری میں لگے رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں "النهش" کا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنیٰ ہیں زہریلا ڈنک۔ یہ تکلیف اور ہلاکت میں مبالغہ سے کنایہ ہے۔
Explanation
In both Hadīths, there is an example that illustrates man's hope, his lifespan, all the things to which he is exposed, and his death as a result of one of them. But, if he escapes all of them, then his death will come to him when his lifespan ends. These lines represent the various afflictions that confront him, so if he avoids one, he cannot avoid another, and if he escapes all of them safely, without being afflicted with a disaster such as illness or loss of property or otherwise, then surely he will be overtaken by death. That is, if one does not die due to a cause, then he will surely die as a result of the expiration of his lifespan. So, while a person is in such a state (among these afflictions), the closest line will come to him, which is the end of his life.
The Hadīths imply encouragement of having less hope in the worldly life and preparing oneself for the suddenness of death. The verb 'snap (at)', which in Arabic describes the sting of venomous creatures, is used as a metaphor to emphasize fatal affliction.