سنن ابن ماجہ · مسند احمد
Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad

پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8287Sahih صحیح
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «يُوضَعُ الصِّراط بين ظَهْرَي جهنم، عليه حَسَكٌ كحَسَك السَّعْدان، ثم يستجيز الناس، فناجٍ مُسَلَّم، ومَجْدوح به ثم ناجٍ، ومحتبَس به فمنكوسٌ فيها، فإذا فرغ اللهُ عز وجل من القضاءِ بين العباد، يفقد المؤمنون رجالًا كانوا معهم في الدنيا يُصلُّون بصلاتهم، ويُزَكُّون بزكاتهم، ويصومون صيامهم، ويحجُّون حجَّهم ويغزون غزوَهم فيقولون: أي ربنا عبادٌ من عبادك كانوا معنا في الدنيا يُصلُّون صلاتنا، ويُزَكُّون زكاتنا، ويصومون صيامنا، ويحجُّون حجَّنا، ويغزون غزوَنا لا نراهم، فيقول: اذهبوا إلى النار فمن وجدتم فيها منهم فأخرجوه، قال: فيجدونهم قد أخذتهم النارُ على قَدْر أعمالهم، فمنهم مَن أخذته إلى قدميه، ومنهم مَن أخذته إلى نصف ساقيه، ومنهم مَن أخذته إلى رُكبتيه، ومنهم من أخذته إلى ثَدْيَيْه، ومنهم من أزرته، ومنهم من أخذته إلى عنقه، ولم تَغْشَ الوجوهَ، فيستخرجونهم منها فيُطرحون في ماء الحياة»، قيل: يا رسول الله وما الحياة؟ قال: «غسل أهل الجنة فينبتون نباتَ الزرعة» وقال مرة: «فيه كما تنبت الزرعة في غُثاء السَّيل، ثم يشفع الأنبياء في كلِّ من كان يشهد أن لا إله إلا الله مخلِصًا فيخرجونهم منها» قال: «ثم يتحنَّنُ اللهُ برحمته على من فيها، فما يترك فيها عبدًا في قلبه مثقالُ حبَّة من إيمان إلا أخرجه منها».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔ جب اللہ تعالی اپنے بندوں کے مابین فیصلے سے فارغ ہو جائے گا تو مسلمانوں کو بہت سے ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے اور وہ انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ تو وہ کہيں گے: اے ہمارے رب! تیرے کچھ بندے جو دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے اور جو ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتےاور جہاد کرتے تھے، وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں، انہیں اس میں سے نکال لو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ انہیں اس حالت ميں پائيں گے کہ جہنم کی آگ نے انہيں ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو چھاتیوں تک، کسی کو تہبند تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی۔ وہ انہیں دوزخ میں سے نکال لیں گے اور پھر انہیں آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آب حیات کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جنتیوں کا غسل ہے۔ پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے کھیتی نکلتی ہے۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے ساتھ آئے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے۔ پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کی شفاعت کریں گے جو اخلاص کے ساتھ یہ گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہيں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس ميں کوئی ايک بندہ بھی ایسا نہيں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا مگر اسے اس سے باہر نکال لے گا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Sa‘īd al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "The Sirāt will be placed over the center of Hell, covered with thorns similar to the thorns of the Sa‘dān. Then, people will pass over it; some will be safe without any harm, some will be safe after receiving some scratches, and some will fall down into Hell. When Allah, Glorified and Exalted, has finished judging between the slaves, the believers will look for men who were with them on earth praying as they prayed, paying Zakah as they paid it, fasting as they fasted, performing pilgrimage as they performed it, and fighting (in the cause of Allah) as they fought. The believers will then ask: 'O our Lord, there were slaves from among Your slaves who were with us on earth and used to pray as we prayed, pay Zakah as we paid it, fast as we fasted, perform pilgrimage as we performed it, and fight (in Your cause) as we fought, yet we do not see them.' Allah will say: 'Depart to Hell and whomever of these you find therein take him out.' So they will find them, engulfed by the fire according to their deeds. Some of them will be engulfed by the fire to their feet, some to the middle of their legs, some to their knees, some to their breasts, some to their waist and some to their necks, but not their faces. They will be removed from the fire and cast into the water of life." It was said: "O Messenger of Allah, what is (the water of) life?" He replied: "The washing of the dwellers of Paradise; and they will sprout as a plant sprouts. (In another narration, he said: And they will sprout in it as the plant sprouts in the silt left by a flood.) Then, the prophets will intercede on behalf of anyone who faithfully witnessed that there is no god but Allah and they will be taken out of Hell. Then, Allah will show compassion by His mercy to those in it (Hell) so that there will not be left in it a slave who has an atom’s weight of faith in his heart."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8287

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

قیامت کےدن اللہ عزوجل پل صراط کو جہنم کے وسطی حصہ پر رکھ دے گا۔ پل پر سخت کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس پر سے گزرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ تو نجات پا جائیں گے اور صحیح سلامت گزر جائیں گے، آگ ان کو نہیں چھوئے گی۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو زخمی تو ہوں گے تاہم بحفاظت چھٹکارا پا جائیں گے۔ اور بعض جہنم کے اندر جا گریں گے۔
جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا اور جنتیوں کو جنت اور دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو جنتی مومنوں کو کچھ ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ تھے اور انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور ان کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔ تووہ لوگ اللہ عزوجل سے کہیں گے: ہمیں یہ لوگ اپنے ساتھ جنت میں دکھائی نہیں دے رہےحالانکہ وہ دنیا میں ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے ، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور اگر ان میں سے کوئی تمھیںجہنم میں ملے، تو اسے اس میں سے نکال لو۔
چنانچہ (جب وہ وہاں جائیں گے تو) انہیں اس حال میں پائیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کچھ کے قدموں تک آگ آ رہی ہو گی، کچھ کی پنڈلیوں کے نصف تک، کچھ کے گھٹنوں تک، کچھ کے درمیان تک، کچھ کے پستانوں تک اور کچھ کی گردن تک آگ پہنچی ہو گی۔ تاہم آگ ان کے چہروں تک نہ آئی ہو گی۔ وہ ان کے بارے میں شفاعت کریں گے تو ان کو جہنم سے نکال کر آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ ایسا پانی ہے جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو زندہ کردیتا ہے۔ چنانچہ وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے بہاو کی جگہ پر بیج اگ آتا ہے ہے۔
پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کے بارے میں شفاعت کر یں گے جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہیں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ پھر اللہ جہنم والوں پر رحمت وشفقت کرے گا اور اس میں سے کسی بھی ایسے شخص کو نکالے بغیر نہیں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔

Explanation

On the Day of Judgment, Allah, the Almighty, will place the Sirāt over the center of Hell, with solid thorns covering it. Then, the people will be commanded to pass over it. Some of them will pass safely without being touched by the fire; others will be scratched then will be saved; others will fall into the Hellfire.
When Allah, the Almighty, finishes judging between His slaves, and the dwellers of Paradise enter it and those of Hell enter it, the believers in Paradise will notice that they do not see some people who were with them on earth and who used to pray, give Zakah, fast, perform pilgrimage, and fight in the cause of Allah along with them. So, they will say to Allah, the Almighty,: We do not see those people with us in Paradise although they used to pray, give Zakah, fast, perform pilgrimage, and fight in the cause of Allah with us on earth. Allah will say to them: Go to Hellfire, and if you find any of them therein, take him out of it.
They will find them engulfed by fire each according to his deeds. Some of them will be engulfed by fire up to their feet, others up to the middle of their legs, others to their knees, others to their waists, others to their breasts, and others to their necks; but the fire does not reach their faces. They will intercede on their behalf, so they will be taken out of the fire and thrown into the water of life, which brings to life anyone who is immersed in it. Hence, their bodies will grow again just as plants grow in a flood channel.
Then, the prophets will be granted intercession on behalf of every person who sincerely bore witness that none is worthy of worship but Allah, and thus taking them out of the fire. Allah will then compassionately bestow His mercy on those in the fire, leaving no one therein in whose heart there exists an atom’s weight of faith.

Topics موضوعات