نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi DawudOriginal wording: رواه أبو داود
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8294Sunan Abi Dawud (HadeethEnc 8294)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب مسجد میں داخل ہوتے، تو کہتے: "میں پناہ لیتا ہوں عظیم اللہ کی۔" یعنی میں اللہ اور اس کی صفات کی پناہ لیتا ہوں۔ جود وعطا سے متصف اس کے چہرے کی" "اس کے غلبے کی" یعنی جس مخلوق پر چاہے اس پر اس کے غلبہ، قدرت اور قہر کی۔ "جو قدیم ہے"۔ یعنی ازلی و ابدی ہے۔ "دھتکارے ہوئے شیطان سے۔" یعنی جسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے۔ یعنی اے اللہ! مجھے اس کے وسوسے، برانگیختہ کرنے، سازشوں، نقصانات ، فریب کاریوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھ۔ کیوں کہ انسان کے گمراہ ہونے اور بھٹکنے وجہالت کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بس اتنا ہی کہا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
ہاں مگر اس حدیث کى تکمیل یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: اس داخل ہونے والے شخص نے مجھ سے اپنی ذات کو دن بھر اور رات بھر کے لیے محفوظ کر لیا۔
حدیث کے فوائد
- مسجد میں داخل ہوتے وقت اس ذکر کا اہتمام کرنے کی فضیلت۔ یہ دعا پڑھ لینے کے بعد انسان باقی دن شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
- اس حدیث میں شیطان سے خبردار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شیطان مسلمان کو راہ راست سے بھٹکانے کے لیے گھات لگا کر بیٹھا رہتا ہے۔
- انسان کو شیطان کی دسیسہ کاریوں سے تحفظ اسی قدر فراہم ہوتا ہے، جس قدر اس کے دل میں اللہ پر ایمان، اس دعا کے پڑھتے وقت حضور قلب اور اس کے بدلے میں اللہ کی جانب سے کیے گئے وعدے پر یقین ہوتا ہے۔
Explanation
When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered the mosque, he would say: "I seek refuge with Allah, the Majestic" i.e., I resort and turn for help to Allah and His attributes. "and in His noble Countenance" i.e., the Generous Giver. "and in His eternal dominion" i.e., His dominance, power, and the ability to vanquish anyone of His creation He wills. 'eternal' i.e., permanent, timeless. "from the accursed devil", who is banished and expelled from the mercy of Allah. i.e., O Allah, protect me from his whisperings, his temptations, his steps, his ideas, his insinuations, and his misguidance, for he is the one who causes misguidance and leads to temptation and ignorance. It was said to ‘Abdullāh ibn ‘Amr: "Is that all?" i.e., did the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) say that only? He said: Yes.
If a person says this supplication upon entering the mosque, the devil will say: He has protected himself from me the whole time, during the day and night.