اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8301Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8301)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ: “کیا ہم روز قیامت اللہ تعالی کو دیکھیں گے؟۔” آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہاں۔ تم اپنے رب کو بالکل ایسے ہی دیکھو گے جیسے عین دوپہر کے وقت سورج کو اور چودھویں کی رات مکمل چاند کو بغیر کسی بھیڑ اور دھکم پیل کے دیکھ لیتے ہو۔ تشبیہ وضاحت اور اس میں کسی قسم کے شک، مشقت اوراختلاف نہ ہونے ميں ہے۔ یہ دیکھنے کی تشبیہ دیکھنے کے ساتھ ہے، دیکھی جانے والی شے کی تشبیہ دیکھی جانے والی شے کے ساتھ نھیں ہے۔ یہ رویت اس رویت کے علاوہ ہے جو اللہ کے اولیاء کو جنت میں بطور ثواب اور اعزاز کے عطا ہوگی۔ کیونکہ یہ رویت ان لوگوں کے درميان فرق کرنے کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور جنہوں نے اس کے علاوہ کی عبادت کی۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہے گا کہ جو اللہ کے سوا کسی اور شے کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہو لے۔ ایک صحیح روایت میں ہے کہ: خود اللہ تعالی ہی یہ ندا دے گا۔ چنانچہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے تھے انہیں اکٹھا کر کےجہنم میں پھینک دیا جائے گا اور صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، چاہے وہ فرمانبردار ہوں یا نافرمان، اور یہود و نصاری میں سے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ البتہ ان میں سے زیادہ تر کو تو ان کے معبودوں کے ساتھ جہنم کے پاس لے جایا جائے گا۔ پھر اس جگہ جہنم کو لا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ یوں لگے گی جیسے سراب ہوتا ہے۔ پھر یہودیوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کو جواب ملے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی اولاد۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟وہ کہیں گے کہ ہم پینا چاہتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ پانی کا ہوگا۔ کیونکہ اس جگہ پے در پے آنی والی پریشانیوں اور کٹھن مراحل اور ہولناکیوں کی وجہ سے سخت پیاس لگے گی۔ جہنم ان کو ایسے دکھائی دے گی جیسے پانی ہو۔ ان سے کہا جائے گا: جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو اس کی طرف جاؤ اور پی لو۔ وہ وہاں جائیں گے تو جہنم کو پائیں گے جو اپنی حرارت کی شدت اور شعلہ زنی کی وجہ سے خود اپنے آپ ہی کو کھائے جا رہی ہو گی۔ پس وہ لوگ اس میں گر جائیں گے۔ ان کے بعد اسی طرح نصاری کو بھی کہا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے مطیع اور گناہ گار باقی رہ جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو کس چيز نے اس جگہ روک رکھا ہے، جب کہ لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے: ہم نے دنیا میں اس وقت ان لوگوں سے کنارہ کشی کی جب کہ ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکامات کی مخالفت کی۔ چنانچہ ہم نے اللہ کی خاطر ان سے نفرت كركے ان كی دشمنی مول لی اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کو مقدم رکھا (پھر آج بھلا ہم ان سے الگ کیوں نہ رہیں؟!)۔ اب ہم اپنے اس رب کے انتظار میں ہیں جس کی ہم دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت کے بجائے کسی اور صورت میں آئے گا جس ميں انہوں نے پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ اس میں اس بات کی صاف وضاحت ہے کہ اس دفعہ آنے سے پہلے ہی وہ اللہ کو ایسی صورت میں دیکھ چکے تھے جس میں انہوں نے اسے پہچان لیا تھا۔ صورت کی تاویل کرنا درست نہیں ہے۔ بلکہ بغیر کسی تکییف و تمثیل اور بنا کسی تحریف و تعطیل کے اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ جب اللہ تعالی ان کے پاس آئے گا تو کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ اس پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس وقت اللہ تعالی سے صرف انبیاء ہی کلام کر سکیں گے۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: کیا تمہارے اور تمہارے رب کے مابین کوئی ایسی علامت ہے جس سے تم اسے پہچان سکو؟
وہ کہیں گے کہ یہ علامت پنڈلی ہے۔ اس پر اللہ تعالی اپنے پنڈلی کھول دے گا اور اس سے مومنين اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پہچان کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ جب کہ منافقین جو لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کیا کرتے تھے، انہیں سجدہ کرنے سے روک دیا جائے گا اور ان کی پیٹھ کو ایک طشت بنادیا جائے گا، (جس کی وجہ سے) وہ نہ جھک سکیں گے اور نہ ہی سجدہ کر سکیں گے۔ کیونکہ دنیا میں وہ لوگ درحقیقت اللہ تعالی کے لیے سجدے نہیں کرتے تھے بلکہ محض اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے سجدے کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ "ساق" (پنڈلی) اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ یہ حدیث اور اس طرح کی دیگر احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہیں کہ: ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلا يَسْتَطِيعُونَ﴾ ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ نہ کر سکیں گے“۔ اس مقام پر "ساق" کی تفسیر سختی اور پریشانی کے ساتھ کرنا مرجوح ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حدیث کی بنا پر"ساق" کی صفت کو اللہ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ صفت پر ہی آيت کی دلالت راجح اور صحيح ترین ہے،اوراسے بغیر تکییف و تمثیل اور بغير کسی تحریف و تعطیل کے ماننا ہے۔
پھر ان کو پل صراط پر لایا جائے گا جسے جہنم کے درمیان میں رکھ دیا جائے گا۔ اس پل پر پاؤں ٹھہر نہیں پائیں گے اور نہ جم سکیں گے۔ اس پر آنکڑے لگے ہوں گے یعنی خم دار اور تیز لوہے کے کانٹے تاکہ جنہیں اچک لینا ہو انہیں ان کے ذریعہ اچک لیا جاسکے۔ یہ خمیدہ کھونٹیوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ پل پر موٹے اور چوڑے چپٹے کانٹے بھی ہوں گے۔ لوگ اس پل پر سے اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے گزریں گے۔ جس کا ایمان کامل ہوگا اور عمل صالح خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو گا وہ جہنم کے اوپر سے پلک جھپکنے میں گزر جائے گا۔ جو اس سے کمتر ہوگا اس کا گزرنا اس کے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ہوگا جیسا کہ اس کی تفصیل حدیث میں بیان کی گئی ہے اور ان کے گزرنے کی کیفیات کو بجلی اور ہوا وغیرہ کےساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ پل پر سے گزرنے والے چار قسم کے لوگ ہوں گے:
اول: بغیر کسی تکلیف کے نجات پا جانے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گزرنے کی رفتار ایک دوسرے سے مختلف ہو گی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔
دوم: زخمی ہو کر نجات پانے والے۔ “الخدش” ہلکے زخم کو کہتے ہیں۔ یعنی جہنم کی تپش انہیں پہنچے گی یا پھر وہ پل پر نصب کھونٹیوں اور آنکڑوں کی زد میں آ جائیں گے۔
سوم: جہنم میں پٹخ دیے جانے والے جو زور سے اس میں جا گریں گے۔
چہارم: جو گھسٹ گھسٹ کر پل پر سے گزریں گے اور ان کے اعمال (اتنے کمزور ہوں گے کہ)ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں گے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ آج کسی حق کے لیے جس طرح مجھ سے مطالبہ اور درخواست کرتے ہو اس دن مومنین اللہ سے اس سے بھی زیادہ شد و مد کے ساتھ مطالبہ اور درخواست کریں گے۔” یہ اللہ کا خصوصی کرم اور رحمت ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی بابت اللہ تعالیٰ سے فرمائش کریں اور انہیں معاف کرنے کی درخواست کریں، جنہیں ان کے ان جرائم کے سبب جہنم میں ڈال دیا گیا ہوگا جن کا ارتکاب وہ اپنے رب کی مخالفت میں کرتے رہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو دوزخ کے عذاب اور پل صراط کی ہولناکی سے نجات پاگئے ہوں گے یہ بات ڈال دے گا کہ وہ ان کے حق میں اس سے درخواست کریں اور ان کے لیے شفاعت کریں۔ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کی بدولت انہیں اس کی اجازت دے گا۔ ’’اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فرما)۔” اس کا مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے اور ان کے ساتھ روزے نہیں رکھتے وہ ان کے حق میں شفاعت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے لیے اپنے رب کے حضور درخواست گزاریں گے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جن کے حق میں مومن لوگ اپنے رب سے درخواست کریں گے وہ بھی مومن اور موحد ہوں گے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے: “ہمارے بھائی بھی جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے۔” تاہم انہوں نے بعض گناہوں کا ارتکاب کیا جن کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے۔
اس میں خوارج اور معتزلہ کے دو گمراہ گروہوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ جو جہنم میں چلا جائے گا وہ اس میں سے نہیں نکلے گا اور یہ کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور دوزخ میں جائے گا۔
اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جو شخص بھی تمہیں ایسا ملے جس کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ اللہ تعالی ان کے چہروں کو آگ پر حرام کر دے گا تا کہ وہ ان کے چہروں کو نہ جلائے۔ چنانچہ وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ ان میں سے بعض کے پاؤں تک اور بعض کی پنڈلیوں کے نصف تک آگ پہنچ رہی ہے۔ وہ ان میں سے جن کو پہچان پائیں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب واپس آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تم نصف دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچان سکيں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب لوٹ کر آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تمہیں ذرہ برابر بھی ایمان ملے اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جسے وہ پہچان پائیں گے نکال لائیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم میری بات کی تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھ لو: [إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا]۔ (ترجمہ: اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہو تو اس کا ثواب کئی گناہ بڑھا کر دیتا ہے۔) ابو سعید رضی اللہ عنہ کا اس آیت کو استشہاد کے طور پر پیش کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ بندے کے پاس ذرہ برابر بھی اگر ایمان ہو تو اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے اور اسے اس کی وجہ سے نجات دے دیتا ہے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کے بعد انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گے۔‘‘ اس میں اس بات کا صراحت کے ساتھ بیان ہے کہ یہ تینوں شفاعت کریں گے۔ تاہم یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ کسی بھی سفارشی کی شفاعت اللہ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ مومنین نے اس وقت اپنے رب سے درخواست کی اور اس سے سوال کیا، تب انہیں اس کی اجازت دی گئی۔ پھر اللہ نے ان کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ’’جاؤ اور جوتمہیں ملے اسے نکال لاؤ۔الخ۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر اللہ تعالی کا ارشاد ہو گا کہ اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکال کر باہر لے آئے گا جو جھلس کرکوئلہ ہو چکے ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شفاعت سے مراد اس کا ان عذاب میں مبتلا لوگوں پر رحم کرنا ہے۔ چنانچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا۔ آپ ﷺ نےفرمایا: “اللہ ایک مٹھی بھرے گا۔” اس میں اللہ تعالی کے لیے صفتِ قبض (مٹھی بھرنا) کا بیان ہے۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی احادیث میں کتنے ہی ایسے نصوص ہیں جن سے ہاتھ اور مٹھی کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن تاویل و تحریف کرنے والے بدعقیدہ لوگ اسے قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے سے انکاری ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ حق وہی تھا جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا اور وہی تھے جو راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ بہرحال اللہ تعالی جہنم میں سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو باہر نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔
آپ ﷺ نےفرمایا: ’’انہیں جنت کے کناروں پر موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جس کا نام آب حیات ہے۔ وہ اس کے کناروں پر اس طرح تر و تازہ ہو جائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے ارد گرد موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جسے آب حیات کہا جاتا ہے۔ ایسا پانی جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو جلا بخش دیتا ہے۔ اس نہر کے کناروں پر ان کا جل جانے والا گوشت، آنکھیں اور ہڈیاں دوبارہ سے نکل آئیں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس طرح سیلاب کے پس ماندہ کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا کہ اس کے جس حصے پر دھوپ پڑتی رہتی ہے اس پر سبزا اگ آتا ہے اور جس حصے پر سایہ ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے۔” آپ ﷺ کا اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ ان کا گوشت بہت تیزی سے نکل آئے گا۔ کیونکہ جیسا کہ ذکر ہوا، سیلاب کے لائے ہوئے کوڑے کرکٹ پر روئیدگی بہت تیزی سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے جو حصہ سائے میں ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے اور جو دھوپ میں ہوتا ہے وہ سرسبز ہوتا ہے۔ ایسا ان کی پتیوں کے نازک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعتاً وہ بھی ایسے ہی نکلیں گے کہ جو لوگ جنت کی طرف ہوں گے وہ روکھے رہ جائیں گے اور جو جہنم کی طرف ہوں گے وہ سرسبز ہوں گے۔ بعض لوگوں سے یہ قول منقول ہے، تاہم ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں ان کو اس سبزے کے ساتھ تشبیہ اس کے تیزی سے نکلنے اور نزاکت میں دی گئی ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی ہوں۔‘‘ یعنی اپنی ظاہری جلد کی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ موتیوں کی مانند نظر آئیں گے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر ان کی گردنوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔” ان مہروں پر لکھا ہوگا: ’’رحمن کی طرف سے جہنم سے آزاد کر دہ۔‘‘ جیسا کہ ایک اور روایت میں ہے۔
آپ ﷺنے فرمایا: ’’پھر وہ جنت میں چلے جائیں گے۔ اہل جنت انہیں دیکھ کر کہیں گے: یہ رحمن کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔انہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی بھلائی کو آگے بھیجا تھا لیکن پھر بھی اللہ نے ان کو جنت میں داخل کر دیا۔” یعنی دنیا میں انہوں نے کوئی نیک کام نہیں کیا لیکن جوہرِ ایمان ان کے پاس تھا جو کہ صرف اور صرف اللہ کے معبود برحق ہونے کی گواہی اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے کہا جائے گا: ’’تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ جنت کے كچھ خالی مقامات پر آئیں گے اسی لیے ان سے ایسا کہا جائے گا۔
Explanation
Some of the Companions asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) if they will see their Lord on the Day of Judgment. He answered in the affirmative, saying that they will see their Lord just as they see the sun at noon and the moon in the full moonlit night, without crowding or competing for it. The similarity drawn here is related to the clarity of vision and the removal of doubt and difficulty. It is a similarity of clear vision in both cases, not of the seen objects. This sight of Allah is different from the sight of Him in Paradise, which is particular to the allies of Allah as an honor for them. The sight of Him in this Hadīth distinguishes between those who worshiped Allah and those who worshiped other deities. Then the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said that on the Day of Judgment, a proclaimer will proclaim: "Whoever worshiped other than Allah, let him follow what he worshiped." Another authentic narration says that Allah, the Almighty, is the One Who proclaims. Hence, all those who worshiped idols and stones would be gathered and thrown in the fire of Hell until only those who worshiped Allah remain, both the righteous and the sinful thereof, as well as some remnants of the Jews and the Christians, for most of them will have gone along with their idols to Hell. Hell will be presented to the people in that situation as if it is a mirage. Then the Jews will be summoned, and it will be said to them: "What did you worship?" They will say: "We worshiped ‘Uzayr, the son of Allah." It will be said to them: "You tell a lie; Allah never had a spouse or a son. What do you want now?" They will say: "We want to drink." Their primary request will be water because the successive terrors on that day will have made them extremely thirsty. Hell will seem to be water to them, so they will be told to go and drink from what they see as water. Thus, they will go, only to find that it is Hell with its raging parts, which will be consuming one another, and they will fall into it. The same will happen to the Christians after them, until no one is left except those who worshiped Allah, be they pious or sinful. It will be said to them: "Why are you still here while everyone else has gone?" They will say: "We kept ourselves separate from the people in the world though we were in great need of them because they disobeyed Allah and went against His command. So we did not associate ourselves with them, hating them for the sake of Allah and giving precedence to obeying our Lord. We now await our Lord, Whom we used to worship in our worldly life." Allah, the Almighty, will come to them in a form other than the one they saw the first time. This is an explicit indication that they had seen Him in a form that was recognizable to them before this time. It is invalid to interpret this scene differently; rather, it must be accepted without asking 'How?' or drawing analogies or distorting or negating it. When Allah, the Almighty, comes to them, He will say: "I am your Lord." They will joyfully say: "You are our Lord." Then only the prophets will speak to Him. He will say: "Is there a sign between you and Him by which you recognize Him?" They will say: "The Shin." So He will reveal His Shin, and the believers will recognize Him and fall in prostration before Him. The hypocrites, however, who used to prostrate out of ostentation, will be prevented from prostrating. Their backs will be like one stiff layer, unable to bow or prostrate. That is because they did not prostrate to Allah in the worldly life; rather, they prostrated to serve their worldly purposes. This scene establishes that Allah, the Almighty, has a Shin as one of His Attributes. Thus, this Hadīth and similar ones interpret the noble verse: {The Day the Shin will be uncovered and they are invited to prostration but they will not be able to do so} [Sūrat al-Qalam: 42]. To interpret 'Shin' in this context as 'severe affliction' or 'distress' is an outweighed interpretation. In any case, the Attribute of the 'Shin' is established for Allah, the Almighty, from the Sunnah. The preponderant view is that the verse indicates the Attribute, without asking "How?" or drawing analogies or distorting or negating. Then the Sirāt will be set up over Hell. It is slippery, feet cannot stand firm on it, with hooks to seize some of the passers on the Sirāt and thick flat thorns. The people will then pass over the Sirāt according to their faith and deeds. Those of perfect faith and good deeds that were sincere to Allah will pass like the twinkling of an eye, others will pass like lightning, like wind, etc. Those who pass over the Sirāt will be of four categories: The first: Those who will be saved and safe from harm. They pass at different speeds, as mentioned above. The second: Those who will be saved but will sustain scratches from the hooks or lacerations from the flames of Hell. The third: Those who will be cast into Hell, forcefully thrown into it. The fourth: Those who will be dragged on the Sirāt because they did not have enough good deeds to carry them over it. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "There will be none among you more eager to claim a right from me than the believers on the Day of Judgment from their Lord, the Almighty." This is part of the mercy and generosity of Allah, as He permits His believing slaves to implore Him to pardon their brethren who were thrown in Hell because of the sins that they defied their Lord with. He will inspire the believers who were saved from the torment of the Fire and the terrors of the Sirāt to implore Him and intercede with Him for those sinning slaves. This is indeed an aspect of His mercy, exalted be He. They will say: "O our Lord, they were our brethren who prayed with us, fasted with us, and did good deeds with us." This indicates that those who do not pray with the Muslims nor fast with them are not entitled to the intercession of the believers with their Lord on their behalf. It also indicates that those whom the believers interceded for were also believers who worshiped Allah alone. They used to pray and fast, but they committed some sins which entailed entering Hell. This is a refutation of two deviant sects: the Kharijites and the Mu‘tazilites, who claim that whoever enters Hell never comes out of it and that the person who commits a major sin will remain eternally in Hell. Allah, the Almighty, will say to the believers: "Go and take out (of Hell) anyone in whose heart you find faith equal to the weight of a dinar (a gold coin)." And Allah will forbid the Fire to burn the faces of those sinners. They will go and find that some of them will have been overtaken by fire up to their feet, and some up to the middle of the shank or up to the knees. They will take out those whom they recognize. Then they will return and implore Allah again. He will say: "Go and take out anyone in whose heart you find faith equal to the weight of half a dinar." They will take out those whom they recognize. Then they will return and implore Allah again. He will say: "Go and take out anyone in whose heart you find faith equal to the weight of an atom." They will take out those whom they recognize. At this point, Abu Sa‘īd al-Khudri said: "If you do not believe me, then recite (the noble verse): {Surely Allah wrongs not the weight of an atom; and if it is a good deed, He multiplies it.} [Sūrat An-Nisā': 40]" The fact that Abu Sa‘īd used this verse as evidence is clear proof that if the slave had an atom’s weight of faith in his heart, Allah will multiply it for him and thus save him from the torment thereby. Then he said: "The prophets, the angels, and the believers will intercede." This is explicit proof that these three categories will be granted permission to intercede. However, it must be noted that any intercession from anyone does not take place except after Allah, the Almighty, permits it, as proved by their imploring their Lord, upon which He gives them permission and says: "Go and take out anyone you find…" He said: "Then the Almighty will say: 'Now remains My Intercession.' He will then hold a handful of the Fire, from which He will take out some people whose bodies have been charred." The intercession of Allah, the Almighty, means bestowing His Mercy upon those tormented slaves, so He takes them out of the Fire. The statement: "He will then hold a handful," establishes that Allah, the Almighty, has a grip with which He holds a handful. There are several texts in the Book of Allah and the Sunnah of His Messenger that establish the attributes of the 'Hand' and 'Grip' for Allah, the Almighty. However, the advocates of distorted, flawed interpretations refuse to accept these attributes and do not believe in them. They shall soon know that the truth is what Allah said and what His Messenger said: and they will realize that they had gone astray in this regard. Allah, the Almighty, will hold a handful of the Fire from which He will take out some people whose bodies have been charred. They will then be cast into a river called the water of life on the outskirts of Paradise. Upon that, their flesh and bones and vision that were burnt by the fire will grow again near that river just as a seed grows from the silt carried by flood water. "You have noticed how it grows beside a rock or beside a tree and how the side facing the sun is green while the side facing the shade is white." This means that their flesh will grow swiftly, because the seed carried by the torrent germinates quite fast. "The side facing the shade is white while the side facing the sun is green" due to its fragility and tenderness. This simile does not necessarily mean that those people will grow with those colors, as some interpreters said: "The side facing Paradise will be white, while the side facing Hell will be green." Rather, the simile is intended to resemble them to said plant in the swiftness of its growth and its fragility. Therefore, he said that they will come out (of the water of life) like pearls in the purity and beauty of their skin. "And they will have seals on their necks" on which it is written: The ones emancipated from Hell by the Most Merciful. "Then they will enter Paradise, whereupon the people of Paradise will say: 'These are the people emancipated by the Most Merciful. He has admitted them into Paradise without them having done any good deeds and without sending forth any good (for themselves).'" This means that though they did not do good deeds in worldly life, they do have the fundamental basis of faith, which consists of testifying that there is no god but Allah and believing in their Messenger. "Then it will be said to them: 'For you is what you have seen and its equivalent as well.'" Apparently, they will enter vacant places in Paradise; hence, this was said to them.