موسی علیہ السلام کا خضر کے ساتھ قصہ
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
پھر دونوں چلے ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر نے اوپر سے اس کا سر پکڑ کر ہاتھ سے اسے الگ کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو بغیر کسی جانی حق کے مار ڈالا؟ خضر (علیہ السلام) بولے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اس کلام میں پہلے سے زیادہ تاکید ہے (اس میں ’لک‘ زائد ہے جس سے تاکید ظاہر ہے) پھر دونوں چلتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے، ان سے کھانا لینا چاہا۔ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔انہوں نے وہیں دیکھا کہ ایک دیوار اسی گاؤں میں گرنے کے قریب تھی۔ خضر نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے سیدھا کردیا۔ موسیٰ بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو (گاؤں والوں سے) اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا کہ (بس اب) ہم اور تم میں جدائی کا وقت آگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ موسیٰ پر رحم کرے، ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان ہوتے۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8304Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8304)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
سعید بن جبیرکہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے کہ وہ موسی (جو خضر کے ساتھ گئے تھے) بنی اسرائیل کے موسی نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسی ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے، یہ جملہ ان سے ڈانٹ اور انتباہ کے طور پر نکلا تھا نوف پر طعنہ زنی کے طورپر نہیں، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حالت غضب میں کہا تھا اور حالت غضب میں نکلے ہوئے الفاظ غالباً حقیقت کے خلاف واقع ہوا کرتے ہیں، چونکہ اس نے خلافِ واقع بات کہی تھی اس لیے ان کو جھٹلایا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوف نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا۔
پھر آپ نے نوف بکالی کے جھوٹ کے خلاف دلیل دی کہ ان سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحبِ علم کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔ لہذا اللہ نے ان پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کردیا اور اللہ أعلم نہیں کہا۔ چنانچہ اللہ نے ان کے اوپر وحی نازل فرمائی کہ میرا ایک بندہ دو دریا کے ملنے کی جگہ پر ہے جس کا نام خضر ہے وہ تم سے زیادہ علم والا ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب! ان سے ملاقات کی کیا صورت ہے؟ اللہ نے حکم دیا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو جس جگہ یہ مچھلی گم ہو جائے وہ وہیں پر ملے گے، پھر موسی علیہ السلام ایک مچھلی کو زنبیل میں رکھ کر جیسا کہ اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا تھا چلے اور ان کے ساتھ ان کے خادم بھی تھے جن کا نام یوشع بن نون تھا۔ یہاں تک کہ جب دونوں ایک چٹان کے پاس سمندر کے ساحل پر پہنچے تو وہ دونوں اپنے سر کو زمین پر رکھ کر سو گئے، چنانچہ مچھلی زنبیل سے نکل بھاگی اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا اللہ تعالٰی نے مچھلی کے کودنے سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور دریا میں اس نے راستہ بنا لیا موسی علیہ السلام اور ان کے خادم کو تعجب ہوا، چنانچہ وہ دونوں ایک رات اور ایک دن میں جتنا باقی رہ گیا تھا وہ چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو موسی علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ ہم تو اس سفر سے تھک گئے، موسی علیہ السلام کو اس وقت تک تھکان نے چھوا بھی نہیں مگر جب وہ اس جگہ سے آگے بڑھ گئے جہاں تک انہیں جانے کا حکم ہوا تھا، اس وقت ان کے خادم نے کہا آپ نے نہیں دیکھا جب ہم چٹان کے پاس پہنچے تھے تو مچھلی نکل بھاگی تھی، موسی علیہ السلام نے کہا ہم تو اسی کے تلاش میں تھے کیونکہ یہ نشانی ہے خضر سے ملنے کی، آخر وہ دونوں کھوج لگاتے ہوئے اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے جب اس چٹان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑے میں لپٹے ہوئے یا کپڑا لپیٹتے ہوئے موجود ہے، موسی علیہ السلام نے ان سے سلام کیا تو خضر نے کہا ’’وأنَّى بأرضك السلام‘‘ یعنی تمہارے ملک میں سلامتی کہاں ہے؟ یہ استفہام استبعاد ہے یعنی یہ تو خارج از امکان ہے، اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اس ملک والے اس وقت مسلمان نہیں تھے۔
موسی علیہ السلام نے خضر سے کہا میں موسی ہوں خضر نے پوچھا بنی اسرائیل کی طرف مبعوث موسی؟ موسی علیہ السلام نے کہا ہاں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور ان کے علاوہ (کوئی بھی) غیب نہیں جانتے، ہاں مگر جن چیزوں کے بارے میں اللہ نے انبیاء کو خبر کیا ہو کیونکہ اگر خضر تمام غیب کی چیزوں کو جانتے تو ان سے سوال کرنے سے پہلے پہچان لیتے، یہی بات محل شاہد ہے جس کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث کو ذکر کیا۔
پھر ان سے موسی علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم سکھلائیں جو علم کی باتیں آپ کو سکھائی گئی ہیں؟ یہ کہنا نبی ہونے کے منافی نہیں ہے اور کسی صاحب شریعت کا اپنے علاوہ سے تعلیم سیکھنا دین کے معاملے کے علاوہ شرط نہیں ہے کیونکہ رسول کا ان سے زیادہ جاننا جن کی طرف وہ بھیجے گئے دین کے اصول اور فروع میں ہے نہ کہ ہرعلم میں، خضر نے کہا تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ہو کیونکہ میں بظاہر ایسے کام کرتا ہوں جو کہ منکر ہیں اور ان کي باطن کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔ پھر ان سے کہا اے موسی! اللہ نے ہمیں وہ علم دیا ہے جو تمہیں نہیں دیا ہے اور اللہ نے جو تمہیں علم دیا ہے وہ علم مجھے نہیں دیا ہے۔ موسی علیہ السلام نےکہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے یعنی اس پر میں کوئی نکیر نہ کروں گا اور نہ تو میں آپ کی کوئی نافرمانی کروں گا۔ چنانچہ وہ دونوں دریا کے کنارے چلنے لگے ان دونوں کے پاس کشتی نہیں تھی، اتنے میں ادھر سے ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں سوار کر لو چنانچہ انہوں نے خضر کو پہچان لیا اور دونوں کو بغیر اجرت لیے سوار کر لیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی پھر اس نے ایک یا دو چونچیں سمندر میں ماریں۔ خضر نے کہا اے موسی! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے صرف اتنا ہی علم لیا ہے جتنا کہ اس چڑیا کی چونچ میں پانی آیا ہے۔ اس کے بعد خضر نے کشتی کی تختیوں میں سے ایک تختہ کی طرف قصد کیا اور اسے کلہاڑی سے اکھاڑ ڈالا کشتی میں سوراخ ہو گیا اور پانی داخل ہو گیا موسی علیہ السلام نے کہا ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر اجرت لیے سوار کر لیا اور آپ نے ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا اور کشتی والوں کو ڈبانا چاہا، خضر انہیں یاد دِلاتے ہوئے کہا میں نے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، موسی علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کریں اور مجھے مشکل میں نہ ڈالیں اس لیے کہ ایسا کرنے سے آپ کی پیروی نہیں کر پاؤں گا یہ پہلا اعتراض موسی کا بھولے سے ہی تھا۔
پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد چلے ایک لڑکا کچھ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر نے اس کے سر کو اوپر سے پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ سے الگ کردیا۔ موسی علیہ السلام نے کہا تم نے ایک معصوم جان کا نا حق خون کیا، خضر نے کہا میں نے تم سے کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ سفیان بن عیینہ حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہوں نے کہا یہ بات پہلے سے زیادہ سخت ہے، کیونکہ اس بار ’’ لک ‘‘یعنی خطاب کے صیغے کا استعمال کیا۔ پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا چنانچہ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کر دیا اس گاؤں میں کوئی مہمان نواز اور پناہ گاہ نہ مل سکی، پھر دونوں نے دیکھا کہ اس گاؤں میں ایک دیوار جو گرنے کے قریب ہے خضر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دیوار کو سیدھا کر دیا، موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان گاؤں والوں سے مزدوری لے سکتے تھے، جس سے ہمارے سفر میں مدد ملتی، خضر نے موسی علیہ السلام سے کہا اس تیسرے اعتراض کی وجہ سے مجھ میں اور تم میں جدائی کی گھڑی آن پہنچی۔
نبی ﷺ نے فرمایا اللہ موسی علیہ السلام پر رحم کرے ہم تو یہ چاہتے تھے کاش موسی علیہ السلام ان کے ساتھ پیش آنے والے حالات پر صبر کرتے تو ان کے علم وحکمت کی اور مزید حالات ہم سے بیان کیے جاتے۔
Explanation
Sa‘īd ibn Jubayr said that he informed Ibn ‘Abbās that a man named Nawf al-Bakāli claimed that the Mūsa who was with Al-Khidr is not the same Mūsa that was sent to the Children of Israel, and it was another Mūsa. So Ibn ‘Abbās said: "The enemy of Allah has lied." This statement came as a rebuke and warning, not to defame Nawf, as Ibn ‘Abbās had said it in a moment of anger, and statements made in anger are usually inaccurate. Furthermore, his words were due to Al-Bakāli saying something that was not true; this does not mean that it was intentional. He then proved that Nawf had lied by relating the report of Ubay ibn Ka‘b from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) in which Mūsa stood to give a speech to the Children of Israel and someone asked him: "Who is the most learned person among the people?" Mūsa said: "I am the most knowledgeable of the people." And Mūsa, peace be upon him, said this according to his belief. So Allah, Exalted and Glorified, rebuked him as he had not ascribed the knowledge he had to Allah by saying: "And Allah knows best." So Allah, the Exalted, revealed to him that at the junction of the two seas there is one of His servants called Al-Khidr, who is more knowledgeable than him. Mūsa said: "My Lord, how can I find him?" Allah said to him: "Carry a fish in a wicker basket and when you lose the fish, you will find Al-Khidr there." So Mūsa took off with a young servant of his named Yūsha‘ ibn Nūn, and they took a fish in a wicker basket as Allah had ordered them. And when they reached a rock on the sea shore, they put their heads down on the ground and slept. The fish snuck out of the basket and set off into the sea. Allah held the water back from the fish until it became like an arch over it. Mūsa and his servant were astonished at the fish's coming back to life and also about the water being held back from the fish until it became like a tunnel. They carried on for the rest of their night and day, and when morning came, Mūsa said to his servant: "Bring us our meal, indeed we have become tired on our journey." Mūsa (peace be upon him) had not felt tired until they had passed the place they had been told to look for and then he was overcome by exhaustion and hunger. His servant said to him: "While we were at the rock, I lost the fish." Mūsa said: "This is what we were seeking, because that was the sign of Al-Khidr's presence." So they retraced their steps back to where the fish was lost. When they came to the rock, they found a man shrouded by his robe. Mūsa greeted him with the greeting of peace and Al-Khidr said: "Is there (such a greeting of) peace in your land?" meaning: is there any peace in your land? And it was an inquiry of improbability, indicating that the people of that land were not Muslims. Mūsa said to Al-Khidr: "I am Mūsa." Al-Khidr said to him: "Are you the Mūsa who was sent to the Children of Israel?" Mūsa said: 'Yes.' This indicates that the prophets and those of lesser status do not possess knowledge of the unseen, except for what Allah, the Exalted, taught them, because, had Al-Khidr known all matters of the unseen, he would have recognized Mūsa before asking him. It was for this statement in particular that Ibn ‘Abbās mentioned this Hadīth. Then Mūsa said to him: "May I follow you so you can teach me something of the guidance that you have been taught?" It is noteworthy that learning a non-essential religious matter from someone else does not negate him being a prophet or the possessor of divine legislation, because a Messenger must be more knowledgeable than those to whom he is sent in terms of the foundations and branches of the religion, and not in an absolute sense. Al-Khidr replied: "You will not be able to have patience with me", meaning: as I do things that appear evil on the outside, but you will not comprehend the intrinsic nature of what I do. Then he said to him: "O Mūsa, I have some of Allah's knowledge, which He has bestowed upon me that you do not know, and you too, have some of Allah's knowledge, which He has bestowed upon you that I do not know." Mūsa said to him: "If Allah wills, you will find me patient with you without rejecting or disobeying you in anything." Later, they set off walking along the seashore, as they did not have a boat. A boat passed by them and they asked the crew to let them on board. As they recognized Al-Khidr, they let them come on board free of charge. A bird came and perched on the edge of the boat and pecked in sea once or twice. Al-Khidr said: "O Mūsa, my knowledge and your knowledge compared to that of Allah are like the pecking of this bird in the sea." Then Al-Khidr broke one of the boat's panels and pulled it out with an axe, making a hole in it to drown the crew. Mūsa (peace be upon him) said to him: "These people have let us on board free of charge and you have broken their boat and made a hole in it so they will drown!" Al-Khidr reminded him of what he said before by saying: "Did I not say that you will not be able to have patience with me?" Mūsa said: "Do not hold me to account for my forgetfulness, and do not be harsh on me, as that makes it difficult for me to follow you." So Mūsa’s first mistake was due to his forgetfulness. They continued on after disembarking from the boat, until they came upon a boy playing with some other boys. Al-Khidr took the boy's head and ripped it off with his hands. Mūsa said to Al-Khidr (peace be upon him): "Did you kill a soul pure of sin? We have not seen him commit any mistake that warrant killing him, or did he kill someone and should be killed in retribution for it?" Al-Khidr said to Mūsa (peace be upon both of them): "Did I not say to you that you will not be able to have patience with me?" This time, it was with the addition of "to you," which is more rebuking; and that is why Sufyān ibn ‘Uyaynah, one of the narrators of the Hadīth, said: "And this is more assertive," proving it by the addition of "to you.” They continued on until they passed by a town, and they asked the people for some food, but the people refused to entertain them and they found neither lodging nor shelter in that town. They did however, find a wall there that was about to fall down and collapse, so Al-Khidr made a signal with his hand and straightened it up. Mūsa said to Al-Khidr: "If you wished, you could have gotten paid for that to support us on our journey." Al-Khidr then said to Mūsa (peace be upon him): "This third objection is the cause for the split between you and me." The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "May Allah have mercy on Mūsa! If only he had had more patience, so we could have gained more of the knowledge and wisdom exchanged between them.”