اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8307Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8307)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ وہ لوگوں کو اللہ کی دعوت دیتے، صاحب نصاب سے زکوۃ وصول کرتے اور ان کے تنازعات کے فیصلے کرتے تھے۔ یہ حجۃ الوداع سے پہلے کی بات ہے۔ پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے واپس آئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے مکہ میں ملے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سونے کا ڈلا (ٹکڑا) بھیجا تھا جس سے مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی اس لیے وہ خالص سونا نہیں تھا کیونکہ وہ مٹی کے ساتھ مختلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ ڈلا مذکورہ بالا چار افراد کے مابین تقسیم کر دیا اس امید پر کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ وہ چوں کہ اپنے قبائل کے سردار تھے اس لیے اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تو ان کی پیروی میں بہت بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے ترغیبِ اسلام اور تالیفِ قلب کے لیے وہ سونا ان کو دے دیا۔ ان میں سے جن مسلمانوں کو دیا تو اس کا مقصد ایمان پر مضبوطی اور ثابت قدمی تھا۔ سونے کا یہ ڈلا خمس میں سے تھا اوراہلِ علم نےاس کو بعید خیال کیا ہے کہ یہ اصل مال غنیمت میں سے تھا، یہ بھی امکان ہے کہ یہ مالِ زکوۃ میں سے ہو۔ جب رسول اللہﷺ نے ان مذکورہ بالا افراد کو دیا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا:ان چاروں کی بہ نسبت ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ یہ مال ہمیں دیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ علم ہوا تو آپﷺنے فرمایا: ”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور آسمان سے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت میں مجھ پر اعتبار کیا ہے اور مجھے زمین پر رسالت سے نوازا ہے اور اے اعتراض کرنے والے اورراہِ راست سے بھٹکے ہوئے جو تیرے ہمنوا ہیں! تم لوگ مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟! تم مجھ پر دنیا کے حقیر چیز پر اعتبار نہیں کر تےکہ میں اس کو وہاں رکھوں جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ”جو آسمان میں ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر بلندی کی دلیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو آسمان پر ہے۔ یہاں پر ’فی‘ بمعنی ’علی‘ ہے کیوں کہ عرب ’فی‘ کو ’علی‘ کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ”زمین پر چلو پھرو“ اور اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ ”کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دوں گا“ تو اس کا مطلب ہے علی الارض (زمین پر) اور علی جذوع النخل (کھجور کےتنوں پر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”في السماءِ“ (آسمان پر) یعنی آسمان سے اوپر عرش پر۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اِس قول کے مثل ہے: ﴿أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ، أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا﴾ ”کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگیے ہو کہ آسمان والا تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگیے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسائے پھر تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا“۔
اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا (جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند ٹخنوں سے اوپر اٹھائے ہوئے تھا، نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا: اللہ سے ڈریے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں“ یعنی نبی کریم ﷺ لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اس کا صریح ظلم تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اس لیے کھڑا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے ڈر کی نصیحت کرے اور آپ ﷺ سے یہ کہے کہ (اللہ سے ڈریے) اس کے باوجود کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کیا تھا وہ عین تقویٰ کے مطابق اور عظیم اطاعات میں شامل تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے لیے، اس کے دین کی مدد کے لیے اور لوگوں کی ہدایت کے پیش نظر ان کو نواز رہے تھے۔جب یہ شخص چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو“ خالد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ :بہت سارے نمازی جو زبان سے کچھ کہتے ہیں لیکن ان کے دل میں ویسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں“ یعنی میں لوگوں کےساتھ ان کے ظاہر کے مطابق ہی معاملہ کروں اور ان کے باطن میں کیا ہے اس کو چھوڑ دوں اسے اللہ بہتر جانتا ہے وہ خود ہی اس کا حساب کر لے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ کہنے والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“، مقصد یہ خبر دینا تھا کہ اس گمراہ آدمی کی نسل سے ایسے افراد آئیں گے جو اس کے راستے پر چلنے والے ہوں گے، قرآن کی کثرت قرأت اور حفظ کی وجہ سے تلاوت بڑی خوش الحانی سے کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ اس کا جو مقصود و معنی ہے وہ نہیں سمجھیں گے اورغیر موضوع لہ معنی مراد لیں گے۔ کیوں کہ یہ گمراہ اور جاہل ہوں گے اس لیے اسلام سے بھی بغیر متاثر ہوئے بڑی آسانی اور تیزی سے خارج ہو جائیں گے گویاکہ یہ اسلام میں داخل ہی نہیں تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں گے لیکن ایمان ان کے دل میں جگہ نہیں پائے گا، اور نہ ہی ان کے چہروں سے اسلام کا تصور نظر آئے گا اس لیے یہ چیزیں ان کے اوصاف میں شامل ہوں گی کہ: وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، کافروں کو بتوں کی عبادت کی دعوت دیں گے۔اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“یعنی میں پوری طاقت سے قتل کرتا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑتا۔
Explanation
‘Ali ibn Abi Tālib (may Allah be pleased with him) sent to the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) from Yemen a piece of gold in a tanned leather pouch. The gold piece had not yet been refined from its dust. He said: He (may Allah's peace and blessings be upon him) divided it among four men: ‘Uyaynah ibn Badr al-Fazāri, Aqra‘ ibn Hābis al-Hanzhali, Zayd al-Khayl an-Nabhāni, and ‘Alqamah ibn ‘Ulāthah al-‘Āmiri. A man from among his Companions said: We were more entitled to this than those. He said: It reached the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who said: "Do you not trust me, whereas I am the trustee of the One Who is in the heavens? News from the heavens comes to me morning and evening." He said: Then a man stood up, with deep-set eyes, prominent and high cheekbones, a raised forehead, a thick but not long beard, a shaved head, and with his lower garment raised and he said: O Messenger of Allah, fear Allah, thereupon he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Woe to you! Am I not the worthiest among the people of the earth to fear Allah?!" He said: Then the man left. Khālid ibn al-Walīd said: O Messenger of Allah, should I not strike his neck? He said: No, perhaps he observes the prayer. Khālid said: And how many are those who pray, saying with their tongues what is not in their hearts. He (may Allah's peace and blessings be upon him) said: I have not been commanded to pierce people's hearts or split their bellies; rather, I have been commanded to judge by the apparent aspects of their matters. He said: Then he looked at him as he was going away and said: From the offspring of this man and his companions, or from his tribe, will emerge a people skilled in reciting the Book of Allah with a beautiful voice, their tongues moist from frequent recitation. However, the Qur’an does not pass beyond their throats, and their hearts do not absorb it, so it does not reform them, and Allah neither raises it nor accepts it. They will leave Islam as swiftly and lightly as an arrow passes through its target. And I believe he said: If I live to see their emergence to fight the Muslims with the sword, I will certainly kill them as the people of Thamūd were killed.