آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8317Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8317)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا“ یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے سامنے اپنی دلیل بیان کی۔ ممکن ہے کہ ایسا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہو یا پھر خواب میں ہوا ہو کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور ہم اس کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے قاصر ہیں۔
”موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا“ یعنی آپ اس غلطی کے سبب ہماری محرومی اور دوری کی وجہ بنے جس کی وجہ سے آپ کو جنت سے نکال دیا گیا اور پھر ہم بھی شیطانوں کے بہکاؤں کے برسرِ پیکار ہوگئے۔
”آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب کیا“ یعنی اپنا کلام سنانے کے لیے اللہ نے آپ کو چنا۔ تمام رسولوں میں سے صرف موسی علیہ السلام کا یہ خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطے کے ان سے ہم کلام ہوا اور انہیں اپنا وه کلام سنایا جو الله کی طرف سے انہی کے ليے تھا۔
”اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے (تورات کو) لکھا“ یعنی توریت کو اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے لکھا۔ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اس بات پر بغیر کسی تکییف و تعطیل اور بنا کسی تحریف و تمثیل کے ایمان لائیں۔
”کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے لیے مقدر کر دی تھی؟“ یعنی ایک ایسی بات پر آپ مجھے کیسے ملامت کر رہے ہیں جسے اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لوح محفوظ میں اور توریت کے صحیفوں اور اس کی تختیوں میں لکھ دیا تھا۔
”چنانچہ آدم علیہ السلام دلیل میں موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ یعنی حجت کے ذریعے ان پر غالب آ گئے۔ آدم علیہ السلام کی موسی علیہ السلام پر حجت یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جب آدم علیہ السلام کے بارے میں اس بات کا علم تھا کہ وہ جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائیں گے تو وہ اللہ کے علم کو کیسے رد کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کی حجت غالب آ گئی کیونکہ جو شے نوشتۂ تقدیر ہو اس میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ تقدیر ہوتی ہے جسے علیم و قدیر ذات نے متعین کیا ہوتا ہے چنانچہ اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کے بعد اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم جو شے واقع نہیں ہوئی ہے اس میں تقدیر حجت نہیں بن سکتی کیونکہ انسان کو حکم ہے کہ وہ نیک اعمال کرےاور برائی سے اجتناب کرے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے حق میں کون سی شے مقدر ہے یہاں تک کہ وہ واقع ہو جائے۔ جب کوئی بات واقع ہو جائے اور اس کا ٹالنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت وہ تقدیر کے سپرد کرے اور کہے کہ: یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا اور اس نے جو چاہا کیا۔ اور وہ اپنے گناہ پر معافی کا طلب گار ہو اور اپنے رب سے توبہ کرے۔
چنانچہ واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر اس وقت دلیل میں غالب آ گئے جب موسی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو اس (خطا) پر ملامت کرنا چاہا جس کی بدولت ان کی اولاد مصیبت سے دوچار ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے دلیل دی کہ یہ مصیبت پہلے سے ہی مقدر تھی اور اس کو واقع ہو کر ہی رہنا تھا۔ چاہے مصائب وہ ہوں جو بندوں کے افعال کی وجہ سے آتے ہیں یا ان کے علاوہ ہوں، بندے پر (ہر صورت میں) صبر و تسلیم ہی واجب ہے، تاہم اس کی بنا پر مجرم سے ملامت اور اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔
Explanation
Adam and Mūsa (peace be upon both of them) debated with each other and presented the evidence that support their arguments. This may have happened after Mūsa’s death. Perhaps the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw it in a dream, since prophets' dreams are part of the divine revelation. A Muslim has to accept such accounts with submission, as we are not able to know how they really happened. Mūsa said to Adam: "O Adam, you are our father. You did us harm and caused us to get out of Paradise." i.e. you are the reason for our misfortune and misguidance by committing the sin that resulted in getting you out of Paradise. Accordingly, we have become a target for the devils' misguidance. Adam answered him, saying: "O Mūsa, Allah favored you with His talk." Allah, the Almighty, selected Mūsa from among the messengers and honored him by speaking to him without intermediaries and letting him listen to His speech directly. Also, Allah, the Almighty, wrote the Torah for Mūsa with His Hand. A Muslim must believe in this writing without asking how, denying, distorting the wording or the meaning, or resembling Allah to any of His creation. "Do you blame me for an action which Allah had decreed on me forty years before He created me?" i.e. how can you blame me for something that Allah had written for me in the Preserved Tablet and in the pages and tablets of the Torah forty years before I was created? "So Adam confuted Mūsa." i.e. he defeated him with a logical argument. Adam refuted the argument of Mūsa, (peace be upon both of them) by stating that if Allah, the Almighty, knows that Adam will get out of Paradise and descend to earth, then how can he go against Allah’s prior knowledge? Thus, Adam’s proof prevailed, because what was decreed upon him was a matter that could not be changed or avoided. Rather, it was a matter decreed by Allah, the All-Knowing, the Omnipotent, and thus it could not be challenged or undone after its occurrence. He had no choice but to submit to it. Nevertheless, Divine Decree should not be used as a justification for something that has not taken place. This is because man is commanded to obey Allah and avoid sins. Also, he does not know what is preordained for him until it actually takes place. When it takes place, and he cannot stop it, then he can submit to his fate and say: "This is what Allah has preordained, and He does what He wills." He should also ask his Lord to forgive his sin and repent to him. So, Adam clearly refuted the argument of Mūsa when the latter wanted to blame him for being the cause of his offspring's misfortune. Adam argued that this misfortune was preordained and inevitable. A Muslim, in all misfortunes resulting from people's own actions or otherwise, has to show patience and submission. However, this does not absolve the wrongdoer from blame and punishment.