قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا بندے برہنہ، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا جسے وہ دور سے بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں میں بدلہ لینے والا ہوں کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پرحق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلا دوں اورکسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، حتی کہ ایک طمانچے کا بدلہ کیوں نہ ہو۔ ہم نے پوچھا کہ جب ہم اللہ کے سامنے برہنہ، غیرمختون اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے تو کیسا لگے لگا؟ تو (نبی ﷺ نے) جواب دیا کہ نیکی اور بدی کے ذریعہ۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- مسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8319Musnad Ahmad (HadeethEnc 8319)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما خبر دے رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم ہوا کہ عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے رسول ﷺ سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جسے انہوں نے نہیں سنی ہے، تو انہوں نے ایک اونٹ خریدا، پھر اس پر اپنا رخت سفر باندھا اور ایک مہینہ تک سفر کرتے رہے یہاں تک کہ شام پہنچے اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کےپاس جاکر دربا ن سے کہا : کہہ دو جابر دروازہ پر ہیں، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے پوچھا عبد اللہ کے لڑکے؟جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، پس وہ تیزی سے نکلے اور اسی تیزی کی وجہ سے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے نکلے، اوردونوں گلے ملے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ : مجھے قصاص کے متعلق ایک حدیث کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے آپ یا میں مر نہ جاؤں، انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا: بندے برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“، کہتے ہیں : ہم نے پوچھا ” بُهْمًا“ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گا تاکہ ان سے حساب لے اور انہیں ان کے عمل کے اعتبا سے بدلہ دے، اس وقت وہ سب ننگے اور غیر مختون ہوں گے جیسا کہ انہیں ان کی ماؤں نے جنا تھا، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی پھر فرمایا: ”پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا“ پکار بغیر آواز کے نہیں پائی جاتی اور بغیر آواز کے پکار سے لوگ آگاہ نہیں ہو سکتے، تو یہاں پر آواز کا ذکر ندا کی تاکید کے لیے ہے اور یہ بات بالکل صریح اور واضح ہے کہ اللہ تعالی ایسا کلام فرماتا ہے جسے سنا جاتا ہے اور اس کلام میں آواز ہوتی ہے لیکن اس کی آواز مخلوق کی آواز کے مشابہ نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ”اسے وہ بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے“۔ یہ صفت اللہ تعالی کی آواز کے ساتھ خاص ہے اور مخلوق کی آواز کو آواز کی قوت و ضعف کے لحاظ سےصرف قریب سے سنا جا سکتا ہے اور اس کے ثبوت میں کثرت سے نصوص وارد ہیں، اس میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ فرمان:﴿وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا﴾ ”اور ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا؟“۔ اور اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ ”ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور رازگوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا“۔ نیز اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اور جب تمہارے رب نے موسی کو آواز دی کہ تو ظالم قوم کے پا س جا“۔
پھر فرمایا: ”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ یعنی محشر میں کھڑے ہوئے سبھی جس ندا کو سنیں گے وہ، اس ندا کو دور کی مسافت سے اسی طرح سنیں گے جس طرح وہ قریبی مسافت سے سنتے ہیں۔
”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ پس وہی بادشاہ ہے جس کے ہاتھ میں آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بادشاہت ہے، وہ الديّان ہے جو بندوں کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا، پس جس نے خیر کے کام کیے اسے اس کے عمل سے بہتر بدلہ دیگا اور جس نے شر کے کام کیے اسے اس کے مستحق بدلہ دے گا۔
پھر فرمایا: ”کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، اور کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، یہاں تک کہ تھپڑ کا بدلہ بھی۔ یعنی: اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور ظالم سے مظلوم کا حق لے گا، چنانچہ کوئی جہنمی اس حال میں جہنم میں داخل نہیں ہو گا کہ اس کا کسی جنتی پرحق ہو، یہاں تک کہ اس کا حق اس سے دلائے گا، اور یہی مکمل عدل کا تقاضا ہے کیونکہ کافر اور ظالم باوجود اس کے کہ وہ جہنم میں جائیں گے مگر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر جنت والوں میں سے کسی کے پاس اس کا حق ہوگا تو ان سے لے کر اس کو دلایا جائے گا اور بالکل اسی طرح اہل جنت کے ساتھ کیا جائے گا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے پوچھا: لوگوں کو کیسے ان کے حقوق دلائے جائیں گے جب کہ ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی؟۔
تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اور بدی کے ذریعہ“ یعنی حقوق کی ادائیگی اس طرح ہوگی کہ مظلوم ظالم کی نیکیاں لے لے گا اور جب ظالم کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوم کے گناہوں کو لے کر ظالم کے گناہوں پر لاد دیا جائے گا پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
Explanation
Jābir ibn ‘Abdullāh al-Ansāri said he heard that ‘Abdullāh ibn Unays had heard a Hadīth from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) that he never heard. So he bought a camel for the journey and put his luggage on it, and traveled for a month until he arrived at the Levant. He went to ‘Abdullāh ibn Unays’ house and said to the doorman: “Jābir is here.” ‘Abdullāh ibn Unays asked: “Ibn Abdullāh?” Jābir said: 'Yes.' So Unays ran out quickly and they hugged each other. Jābir said to him: “I learnt that you heard a Hadīth from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about recompense and I was worried you would die or I would before I heard it.” So he said: “I heard the Messenger of Allah say: ‘The people will be gathered on the Day of Judgment naked, uncircumcised and they will have nothing.’ This means that Allah will gather the people up on the Day of Judgment in one place, hold them accountable for their deeds, and either punish or reward them. At that time, they will be naked and uncircumcised, just as they were when their mothers gave birth to them, and they will have no worldly possessions. Then, he said: "Then an announcement will be made by one voice.” An announcement is only made by a voice, as people notice an announcement accompanied by sound. So ‘voice’ was mentioned here to emphasize the announcement. This is the highest level of clarity that Allah speaks, with speech that is heard and with a sound, however Allah’s sound does not resemble that of the creation. As for the sounds of the creation, only those close-by are able to hear their sounds. Allah’s voice does not resemble that of the creation and that is why he said those far, as well as those who are near will hear the sound. This characteristic is exclusive for Allah’s voice. In contrast, the sounds of His creation are only heard by the ones who are close by, depending on how loud the voice is. There are numerous texts that affirm this, for instance, Allah’s statements: {And their Lord called to them: "Did I not forbid you"} [Sūrat al-A‘rāf: 22] and Allah’s statement: {And We called him from the side of the mount at [his] right and brought him near, confiding [to him]} [Sūrat Maryam: 52] and Allah’s statement: {And [mention] when your Lord called Mūsa, [saying]: "Go to the wrongdoing people"} [Sūrat Ash-Shu‘āra’: 10]. Then He will say: “I am the King, I am the Recompenser.” The announcement that the people gathered on that day will hear; the ones who are far and close: “I am the King, I am the Recompenser.” Allah, the Exalted, is the King. He owns all that is in the heavens and earth. He is the Recompenser Who compensates the servants for their deeds, whoever does good, He will reward him with better than what he did; and whoever did bad deeds, He will give him what he deserves. Then Allah will say: "None of the people of Hell will enter Hell with a right over one of the people of Paradise until I settle his right. And none of the people of Paradise will enter Paradise owing a right to one of the people of Hell, until I offset his right, even if it was a slap (on the face).” Meaning: Allah, Exalted and Glorified, will judge between His servants with justice. He will take from the oppressor the right of the oppressed. None of the inhabitants of the Hellfire will enter it with a right to claim from the people of Paradise, except that Allah will settle this right. This is complete justice. Even though the disbelievers and the oppressors will enter the Hellfire, they will not be oppressed. If they had a right upon someone in the Paradise, they will receive it from them, and similarly is the case for the people of Paradise. So the Companions said to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him): “How can the people give others their rights when they don’t have any worldly possessions?” The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: “By the good and bad deeds.” Meaning: The settlement of rights is done by the oppressed people taking good deeds from their oppressor and, if the good deeds of the oppressors run out, the bad deeds of the oppressed will be taken and added to the aggregate of bad deeds of the oppressor, and then he will be thrown into the Hellfire.