میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: «فيأتوني فيقولون: يا محمد أنت رسول الله وخاتم الأنبياء، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر، اشْفَعْ لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ فأنْطَلِقُ فآتي تحت العرش فأقع ساجدًا لربي، ثم يفتح الله عليَّ من مَحَامِدِه وحُسْنِ الثناء عليه شيئًا لم يفتحه على أحد قبلي، ثم يقال: يا محمد ارفع رأسك، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فأرفع رأسي، فأقول: أمتي يا رب، أمتي يا رب، أمتي يا رب. فيقال: يا محمد أدخلْ من أمتك من لا حساب عليهم من الباب الأيمن من أبواب الجنة، وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب». ثم قال: «والذي نفسي بيده، إن ما بين الْمِصْرَاعَيْنِ من مصاريع الجنة كما بين مكة وهَجَر، أو كما بين مكة وبُصْرَى».
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق علیہ
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8345Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 8345)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں دست (کا گوشت) اٹھا کر پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے دانتوں سے نوچ کر کھایا اور آپ کو بکری کی دست بڑی مرغوب تھی، کیونکہ بکری کے پورے جسم میں سے اس حصے کا گوشت بہترین اور نرم ہوتا اور زود ہضم اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کو یہ بڑی مرغوب تھی اس لیے آپ ﷺ نے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اسے تناول فرمایا اور پھر یہ طویل حدیث بیان فرمائی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت والے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ آدم کی اولاد کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانوں میں سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ تو صحابہ نے جواب دیا اے اللہ کے رسولﷺ! نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے تمام بنی آدم پر اپنا مرتبہ اور فضیلت کو بیان کیا۔
فرمایا کہ قیامت والے دن پہلے اور بعد والے تمام لوگوں کو ایک ہموار اور وسیع زمین میں اکٹھا کیا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ﴾ ”فرما دیجیے کہ پہلے اور آخری سارے لوگ ایک معین دن پر جمع کیے جائیں گے“۔ ایک ہی زمین پر سب کو جمع کیا جائے گا اور اس دن جو زمین پھیلائی جائے گی وہ ایسی نہیں ہو گی جیسی اب دیکھتے ہو۔ آج جب تم نظر دوڑاتے ہو تو جو سامنے ہوتا ہے صرف وہی نظر آتا ہے، جب کہ قیامت کے دن زمین بالکل سیدھی پھیلا دی جائے گی اور اس میں کسی قسم کے کوئی بھی پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر نہیں ہوں گے۔ اس میں موجود تمام داعی کی بات کو سنیں گے اور ان کی بینائی کی رسائی بھی ہو گی۔ یعنی جب کوئی انسان بات کرے گا تو ہر ایک سنے گا اور سارے اس کو دیکھیں گے کیونکہ کوئی بھی کسی سے چھپا نہیں ہو گا لیکن سارے کے سارے ایک چٹیل زمین پر ہوں گے۔ اس دن سورج مخلوق سے ایک میل کی مسافت پر ہو گا اور ایسے کرب وغم میں مبتلا ہوں گے کہ اس کو برداشت کرنے کی طاقت اور قوت نہیں ہوگی۔ زمین تنگ ہو جائے گی اور وہ خواہش کریں گے کہ کوئی ایک اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرے جو ان کو جلد از جلد اس بڑے وقوف سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ ان کو الہام کریں گے کہ وہ ابو البشر آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کے فضائل بیان کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ان سے کہیں گے کہ آپ ابو البشر ہیں اور قیامت تک جتنے بھی نر ومادہ انسان پیدا ہوئے وہ سارے کے سارے بنی آدم ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے انکار پر فرمایا تھا ﴿مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ ”کہ تجھے کس چیز نے اس کو سجدے سے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا“۔ آپ کو ملائکہ سے سجدہ کرایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا﴾ ”جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا“، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کے نام سکھائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ ”آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھائے“، اور آپ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ﴾ ”جب میں نے اس کو مکمل کیا تو اس میں اپنی روح پھونکی تو سارے اس کے سامنے سجدے میں گر گئے“، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن کو مخلوق جانتی ہے جب کہ خاص طور پر امت محمد (ﷺ) کو ایسے علوم سے اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے جو دیگر امتوں میں سے کسی کو نہیں نوازا۔ وہ معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا پھر وہ اپنی خطا بتائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص درخت سے کھانے سے روکا تھا لیکن انہوں نے کھا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“، اس کی سزا یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی منشا کے مطابق ان کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا۔ وہ اپنی نافرمانی بیان کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ یعنی آج تو اپنی جان بچانا ممکن ہو جائے اور اس کو تین مرتبہ تاکید اور تکرار کے ساتھ بیان کیا۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ، ایسا کرو نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
نوح (علیہ السلام) دوسرے ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے تمام اہلِ زمین کو نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے غرق کر دیا تھا ﴿وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ﴾ ”ہاں وہ چند ایک جو ان پر ایمان لے آئے تھے“ ان کے علاوہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ لوگ کہیں گے نوح (علیہ السلام) کی طرف چلو ،تو وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے کیونکہ وہ بہت سختی اور تنگی کا شکار ہوں گے۔ وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کریں گے، یہ کہ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کی طرف رسالت دے کر مبعوث فرمایا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام شاکر بندہ رکھا۔ لیکن وہ بھی ویسے ہی کہیں گے جیسے آدم (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا پھر اس دعا کا تذکرہ کریں گے جو انہوں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی ﴿رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ ”اے رب کافروں کا کوئی بھی گھر روئے زمین پر نہ چھوڑنا“ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اس دعا کا ذکر کریں گے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے کی تھی ﴿وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ، قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ ”نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے“۔ وہ اپنے گناہ کا تذکرہ کریں گے۔ در اصل کوئی سفارشی سفارش نہیں کرے گا مگر جب اس کے اور مشفوع کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو خوف پیدا کرتی ہو (تو سفارش کرسکتا) جب کہ معصیت بندے اور رب کے درمیان خوف اور شرمندگی پیدا کرتی ہے ۔وہ بھی اپنی نافرمانی کا تذکرہ کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔
لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا حوالہ دیا جائے گا تو لوگ ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اللہ کی زمین پر آپ خلیل اللہ ہیں، ان کی صفات بیان کریں گے اور خواہش کریں گے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ تو وہ بھی معذرت کریں اور کہیں گے کہ ان کے تین جھوٹ ہیں اور کہیں گے (آج تو ) میری اپنی جان (پر بنی) ہے ،مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے۔
وہ جھوٹ یہ تھے:
اولاً: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ ”میں بیمار ہوں“ حالاں کہ وہ بیمار نہیں تھے لیکن انہوں نے ایسا اپنی قوم کو چیلنج کے طور پر کہا کیونکہ وہ ستاروں کی عبادت کرتے تھے۔
ثانیاً: ان کا یہ کہنا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا﴾ ”ان میں سے جو بڑا ہے اس نے کیا ہے“ یعنی بڑے بت نے کیا ہے۔ حالانکہ وہ اس نے نہیں کیا تھا بلکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کا فعل تھا جب کہ انہوں نے چیلنج کرنے کے انداز میں یہ کہا کیونکہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔
ثالثاً: ان کا کافر بادشاہ سے یہ کہنا کہ یہ میری بہن ہے، یعنی اپنی بیوی کو اس کے شر سے بچانے کے لیے کہا حالانکہ ایسا تھا نہیں۔
ظاہراً یہ جھوٹ ہیں لیکن حقیقت میں اور اس کی مناسب تاویل جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی کہ جھوٹ نہیں تھے لیکن مضبوط تقویٰ اور اللہ سے حیا کی وجہ سے اس کو عذر بنائیں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان کی صفات بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کی ہے، آپ کو اہلِ زمین پر اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ منتخب فرمایا ہے ۔تو وہ بھی اپنی خطا کا تذکرہ کریں گے اور معذرت کریں گے کہ انہوں نے ایک شخص کو جان بوجھ کو قبل از اجازت ہی قتل کر دیا تھا جوکہ ایک قبطی تھا اور بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اور قبطی فرعونیوں میں سے تھا ﴿فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ﴾ ”ان کے گروہ کے شخص نے اپنے دشمن کے خلاف موسیٰ علیہ السلام سے مدد طلب کی، انہوں نے مکاّ مارا تو وہ مر گیا“ بغیر حکم کے اس کو قتل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کا خیال ہے کہ یہ چیز ان کے اور مخلوق کی سفارش کے درمیان حائل ہو جائے گی کہ انہوں نے ایک جان کو بغیر حکم کے قتل کر دیا تھا اور وہ بھی کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم سب عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔
لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ کریں گے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا اور یہ کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں جن کو مریم (علیہا السلام) کی طرف اِلقا کیا اور اس کی روح ہیں، یہ کہ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ وہ کوئی گناہ بیان نہیں کریں لیکن لوگوں کو محمدﷺ کا حوالہ دیں گے۔
یہ رسول اللہ ﷺ کا عظیم شرف ہے کہ چار انبیاء اپنے کاموں کو بیان کر کے معذرت کر لیں گے اور ایک کوئی عذر پیش نہیں کریں گے لیکن ان کا خیال ہے کہ محمدﷺ ان سے زیادہ مناسب ہیں۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں گے آپ ان کی بات مان لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثناء کے ان پر ایسے در وا کریں گے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے وہ دروازے کسی کے لیے نہیں کھولے ہوں گے۔ پھر آپ سے کہا جائے گا کہ سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کیجئے عطا کیا جائے،سفارش کیجئے سفارش قبول کی جائے گی۔رسول اللہﷺ سفارش کریں گے اور فرمائیں گے اے رب! میری امت، میری امت! اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمائے گا اور آپ سے کہے گا کہ اپنی امت کو جنت کے دائیں دروازے سے داخل کر لیں اور یہ دیگر لوگوں کے ساتھ باقی دروازوں میں بھی شریک ہوں گے۔ اس میں یہ واضح دلیل موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام رسولوں میں سے افضل ہیں اور رسول افضل الخلائق ہیں۔
Explanation
The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) was with his Companions attending a food invitation when a sheep's foreleg was presented to him, which was the part of the meat he liked the most. He took a bite from it with the tips of his teeth and then spoke to them, saying: I am the master of the children of Adam on the Day of Judgment, by way of mentioning the blessing of Allah Almighty. Then he said: Do you know why? He said: People will be gathered on the Day of Judgment in a vast, flat, and extended land, and those who are there will hear the caller, and the observer will encompass them; nothing will be hidden from him among them. This is due to the flatness of the land, as there is nothing for anyone to hide behind from the onlookers. The sight will penetrate them, meaning that if a person speaks, the last one will hear him, and the sight will see them. The sun will draw near to the creatures at a distance of a mile, and they will experience a level of distress and anguish that they cannot endure or bear. They will, thus, seek salvation through intercession. Then Allah Almighty will inspire the believers to go to Adam, the father of humanity. They will approach him and mention his virtues, hoping that he may intercede for them with Allah Almighty. They will say to him: You are Adam, the father of mankind. Allah created you with His Hand, and made His angels prostrate to you, and He taught you the names of everything, and He breathed into you from His spirit. Adam will then apologize and say: Indeed, my Lord is so angry today, as He has never been before and will never be after. He will then mention his sin, which was that Allah Almighty forbade him to eat from a tree, but he ate from it. He will say: My soul is what deserves intercession, so go to someone else; go to Noah. They will come to Noah and say: You are the first Messenger sent by Allah to the people of the earth, and Allah has named you a grateful slave. However, he will apologize, saying: Indeed, Allah Almighty is so angry today, as He has never been before and will never be after. He will add that he had a supplication, which he made against his people, my soul is what deserves intercession, so go to someone else; go to Abraham. They will come to Abraham and say: You are the close friend of Allah on earth. Intercede for us with your Lord; do you not see what we are going through? He will reply by saying: Indeed, my Lord is so angry today, as He has never been before and will never be after. I told three lies, namely his saying: I am sick; his saying: It was this biggest one who did it; and his saying to his wife Sarah: Tell him I am your brother, to be safe from his harm. The truth is that the three statements were actually from the indirect speech, but since their form resembled that of a lie, he was concerned about them out of humility and a sense of inadequacy for intercession. This is because the more one knows Allah and is closer to Him, the greater his fear becomes. He will say: My soul is what deserves intercession, so go to someone else; go to Moses. They will then come to Moses and say: O Moses, you are the Messenger of Allah. Allah favored you over the people with His message and speech. Intercede for us with your Lord; do you not see what we are going through? He will say: Indeed, my Lord is so angry today, as He has never been before and will never be after. I killed a soul that I was not commanded to kill. My soul is what needs an intercession; so go someone else; go to Jesus, son of Mary. Then they go to Jesus and say: O Jesus, you are the Messenger of Allah and His Word that he cast to Mary, and a Spirit from Him, and you spoke to the people in the cradle as a baby. Intercede for us with your Lord; do you not see what we are going through? He will reply: Indeed, my Lord is so angry today as He has never been before and will never be after it, and he did not mention a sin. My soul is what needs an intercession; so go to someone else, go to Muhammad. They will come to Muhammad and say: O Muhammad, you are the Messenger of Allah and the Seal of the Prophets. Allah has forgiven you for what has preceded and what was later. Intercede for us with your Lord. Do you not see what we are going through? I will then set off and come beneath the Throne and fall in prostration to my Lord, Exalted and Glorified be He, and then Allah will inspire me with some forms of His praise and glorification that He has not inspired anyone with before me. Then it will be said: O Muhammad, raise your head; ask, and it will be granted to you, and intercede, and your intercession will be accepted. I will raise my head and say: My nation, O Lord! My nation, O Lord! My nation, O Lord! And his intercession will be accepted. It will be said to him: O Muhammad, admit from your nation those who have no reckoning from the right gate of the gates of Paradise, and they will share with people in the other gates. Then he said: By the One in Whose Hand my soul is, what lies between the two sides of the gate of Paradise is like the distance between Makkah and San‘ā’ in Yemen—or as the distance between Makkah and Busra in the Levant, which is the city of Hawrān.