سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے”۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8355Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad (HadeethEnc 8355)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : ہم شکار، تجارت اور اس طرح کے دوسرے مقاصد کے تحت کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر کا سفر کرتے ہيں۔ ہمارے ساتھ پینے کا پانی بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کا استعمال وضو اور غسل میں کریں گے، تو وہ ختم ہو جائے گا اور پینے کا پانی نہیں بچے گا۔ لہذا کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز ہوگا؟
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سمندر کے پانی کے بارے میں فرمایا : اس کا پانی خود بھی پاک ہے اور اس کے اندر دوسرے کو پاک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس سے نکلنے والی مچھلیوں وغیرہ کا کھانا بھی جائز ہے۔ اگرچہ وہ مردہ حالت میں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی ہی کیوں نہ پائی جائيں اور کسی نے ان کا شکار نہ بھی کیا ہو۔
حدیث کے فوائد
- سمندری جانور مرے ہوئے حالت میں بھی حلال ہیں۔ یعنی ایسے جانور جو سمندر ہی میں رہتے ہوں اور اس کے اندر مر جائيں، تو انھیں کھانا جائز ہے۔
- سوال کرنے والے کو اتمام فائدہ کے لیے اس کے سوال سے زیادہ جواب دیا جا سکتا ہے۔
- کسی طاہر چيز کے ملنے سے پانی کا مزہ، رنگ یا بو بدل جائے، تو وہ پاک ہی رہتا ہے، بشرطیکہ وہ پانی اپنی حقیقی حالت پر باقی رہے۔ خواہ وہ سخت نمکین، سخت گرم یا سخت ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو جائے۔
- سمندر کا پانی چھوٹی اور بڑی ناپاکیوں کو دور کردیتا ہے اور کسی پاک چيز، مثلا بدن یا کپڑے وغیرہ پر لگنے والی گندگی کو بھی اس سے دور کیا جا سکتا ہے۔
Explanation
A man asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him), saying: We travel by sea for fishing, trade, and the like, and we carry with us a small amount of potable water. If we use the drinking water for making ablution and Ghusl (ritual bath), it will run out and we will find nothing to drink. So, is it permissible for us to make ablution using seawater?
Thereupon, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said about the seawater: Its water is pure and purifying, so it is permissible to use it for ablution and Ghusl; and it is lawful to eat what comes out of it, including fish, whales, and others, even if found dead and floating on its surface without being fished.