سنن ابو داؤد · مسند احمد
Sunan Abi Dawud · Musnad Ahmad

قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ…

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8366Hasan حسن
عن العالية بنت سُبَيع قالت: كان لي غنم بأُحُدٍ، فوقَع فيها الموت، فدَخَلْتُ على ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم ، فذَكَرْتُ ذلك لها، فقالت لي ميمونة: لو أَخَذْتِ جُلُوَدها فَانْتَفَعْتِ بها. فقالت: َأو يَحِلُّ ذلك؟ قالت: نعم، مرَّ على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو أخذتم إِهَابَهَا». قالوا: إنها مَيْتَة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يُطَهِّرها الماء والقَرَظ».
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیتی تو ان سے فائدہ اٹھاسکتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ گدھے کی طرح ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“، انھوں نے کہا: یہ مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے) پاک کر دیتا ہے۔“
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Al-‘Āliyah bint Subay‘ reported: I had some sheep at Uhud, and they began to die. I visited Maymūnah, the Prophet's wife, and mentioned it to her. Maymūnah said to me: "It would be better if you took their skins and made use of them." I asked: "Is that lawful?" She replied: "Yes. Some people of the Quraysh passed by the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) dragging one of their sheep like a donkey (in its size or for its disposal). The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to them: ‘Would that you took its skin.’ They said: ‘It died a natural death.’ The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: ‘Water and Qarazh (leaves of the mimosa) purify it.'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudمسند احمدMusnad Ahmad
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8366

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عالیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“

Explanation

Al-‘Āliyah bint Subay‘ (may Allah have mercy on her) relates that she had some sheep that began to die from some illness or some other cause. She went and informed Maymūnah (may Allah be pleased with her) who directed her to make use of its skin. She said: "Is it permissible to make use of its skin after its death?" Maymūnah said: "Yes, it is permissible," and then she proved her statement with a story that occurred when some men from the Quraysh passed by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) dragging one of their sheep as a donkey to get rid of it, or it was similar to a donkey in its size. So the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said to them: "It would be better if you made use of it rather than throwing it away." They said: "It has died a natural death (without slaughtering)" as if they supposed that the Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) was not aware that it had died without being slaughtered, while they knew that all parts of a dead animal are unlawful due to its impurity. The Messenger (may Allah's peace and blessings be upon him) informed them that tanning it with water and leaves of the mimosa plant would render this impure substance pure.

Topics موضوعات