وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے دار ہو۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
قال: فبينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوس، إذ دَفَعَ الراعي غَنَمَهُ إلى المُرَاح، ومعه سَخْلَةٌ تَيْعَر، فقال: «ما ولدت يا فلان؟»، قال: بهْمَة، قال: «فاذبح لنا مكانها شاة»، ثم قال: "لا تحْسَبنَّ، -ولم يقل: لا تحسِبن- أنا من أجلك ذبحناها، لنا غنم مائة لا نريد أن تزيد، فإذا ولد الراعي بهمة، ذبحنا مكانها شاة".
قال: قلت: يا رسول الله، إن لي امرأة وإن في لسانها شيئا -يعني البَذَاء-؟ قال: «فَطَلِّقْها إذًا»، قال: قلت: يا رسول الله إن لها صُحْبَة، ولي منها ولد، قال: "فمرها -يقول: عظها- فإن يك فيها خير فستفعل، ولا تضرب ظَعِيَنَتَك كضربك أُمَيّتَكَ".
فقلت: يا رسول الله، أخبرني عن الوضوء؟ قال: « أَسْبِغ الوضوء، وَخَلِّلْ بين الأصابع، وَبَالغْ في الاسْتِنْشَاق إلا أن تكون صائما».
ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔
لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔
پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن نسائیSunan an-Nasa'iسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-DarimiOriginal wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8378Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Sunan an-Nasa'i & Sunan Ibn Majah & Musnad Ahmad & Sunan ad-Darimi (HadeethEnc 8378)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
جلیل القدر صحابی لقیط بن صبرۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمارہے ہیں کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنی قوم کےایک وفد کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔ وفود کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی ﷺ سے اپنے اہمیت کے حامل اور غیر واضح مسائل دریافت کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے شوربا( جس میں گوشت کو ابالے جانے کے بعد آٹا یا چاول ڈالا جاتا ہے) اور کھجور پیش کیے۔ (اسی دوران) نبی ﷺ کے چرواہے پر اس وفد کی نظر پڑی، جس کے ساتھ بکری کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس چرواہے کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کردے اور وفد سے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ آپ نے اس وفد کی خاطر اس بکری کو ذبح نہیں کروایا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ گمان کربیٹھیں کہ آپ نے پرتکلف مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا ہے۔ اس لیے آپ نے اس امکانی خیال کو دور فرمادیا۔ صحابی رسول ﷺ کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ بدزبان و بدگو بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس بیوی میں کچھ خیر و بھلائی موجود ہوتو اس کے حق میں وعظ و نصیحت کارگر ہوجائے گی؛ ورنہ طلاق ہی اس کا حل ہے۔ نیز آپ نے انھیں اس بات کا بھی حکم دیا کہ اپنی بیوی کو اس طرح نہ ماریں پیٹیں، جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
نیز صحابی رسول ﷺ نے آپ سے وضو کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے واضح فرمادیا کہ کامل وضو کرنا واجب ہے۔ یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضا میں سے ہر عضو کو کامل طریقے سے دھویا جائے۔ مسح کامل طریقے سے کیا جائےاور انگلیوں کے درمیان خلال کی سنت کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ سب اس لیے تاکہ وضو کے تمام اعضا تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو جائےاور اگر خلال ہی کے ذریعہ پانی انگلیوں کے درمیان پہنچ سکتا ہو تو کامل طریقے سے وضو کا پانی پہنچانا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حد درجہ ناک میں پانی چڑھانے کی سنت کو واضح فرماتے ہوئے روزے دار کو اس خدشے کے ساتھ مستثنی فرمادیا کہ کہیں اس کے پیٹ میں پانی داخل نہ ہوجائے اور اس عمل کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ صرف عدم روزہ ہی میں اس کو پسندیدہ قرار دیا گیا۔
Explanation
Laqīt ibn Saburah (may Allah be pleased with him) informed that he came to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) with others from his people, Banu al-Muntafiq. He said: We did not find him in his house, but we found the Mother of the Believers, ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her). She ordered that a broth be prepared for us from flour and fat, and a plate containing dates was served to us. Then the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) came and asked: Was any food offered to you? We said: Yes. Laqīt said: While we were sitting with him (may Allah's peace and blessings be upon him), the shepherd of the Prophet's sheep came driving the sheep to their place of rest, carrying a crying young goat with him. The Prophet asked: What did it give birth to? He replied: A female. He said: Then slaughter for us in its place a grown sheep. Then he (may Allah's peace and blessings be upon him) said: Do not think that we are taking trouble or slaughtering it for your sake; rather, we have a flock of one hundred sheep, and we do not wish their number to exceed that. So whenever a new lamb is born, we slaughter one in its place. Laqīt said: I said: O Messenger of Allah, my wife has a sharp tongue and speaks indecently. What should I do with her? He replied: Then divorce her. He said: I said: O Messenger of Allah, she has been my companion for a long time, and I have children from her. He said: Then advise her, for if there is any good in her, she will respond to your admonition. And if she does not respond, then beat her, but not severely, and do not beat her as you would beat your servants. Laqīt, then, said: O Messenger of Allah, tell me about ablution. He said: Let the water reach all its proper places during ablution, and give each body part its due. Do not neglect any of its obligations or Sunnah acts. Separate the fingers of your hands and feet while washing them, and be thorough in drawing water into your nose and blowing it out, except if you have intended to fast, so that water does not enter your stomach.