ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: رواه مسلم
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8386Sahih Muslim (HadeethEnc 8386)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ ایک شخص پورا وضو کر چکا ہے، لیکن اس کے قدم پر ایک ناخن کے برابر جگہ سوکھی رہ گئی ہے، جہاں وضو کا پانی پہنچا نہیں ہے۔ لہذا آپ نے وضو میں رہ جانے والی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ واپس جاؤ، وضو اچھی طرح اور مکمل انداز میں کرو اور سارے اعضائے وضو تک پانی پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ شخص واپس گیا، مکمل وضو کیا اور اس کے بعد نماز پڑھی۔
حدیث کے فوائد
- اچھے کام کا حکم دینے اور جاہل و غافل کی رہ نمائی کرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت۔ خاص طور سے اس وقت، جب منکر کے نتیجے میں انسان کی عبادت ضائع ہو جائے۔
- وضو کے اعضا کو پورا پورا دھونا ضروری ہے۔ جس نے کسی عضو کے تھوڑے سے حصے کو بھی سوکھا رہنے دیا، اس کا وضو نہیں ہوگا اور زیادہ وقت گزر جانے پر وضو از سر نو دوبارہ کرنا پڑے گا۔
- اچھی طرح وضو کرنے کی مشروعیت۔ اچھی طرح وضو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کو مکمل اور پورے طور اسی طرح دھویا جائے، جس طرح شریعت نے حکم دیا ہے۔
- دونوں قدم اعضائے وضو میں داخل ہیں۔ ان کا مسح کر لینا کافی نہيں ہے۔ دھونا ضروری ہے۔
- وضو کے اعضا کو اس طرح لگاتار دھونا چاہیے کہ ہر عضو کو اس سے پہلے والے عضو کے خشک ہونے سے پہلے دھو لیا جائے۔
- عدم واقفیت یا بھول جانے کی وجہ سے کوئی واجب ساقط نہیں ہوتا۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ انسان پر گناہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے عدم واقفیت کی بنا پر مکمل وضو نہیں کیا، تو آپ نے اس سے واجب یعنی وضو کو ساقط نہیں کیا، بلکہ اسے دوبارہ وضو کرلینے کا حکم دیا۔
Explanation
‘Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw a man who had just finished performing ablution leaving a spot on his foot, the size of a fingernail, unwashed. He said to him while pointing to the place that was not properly washed: Go back and perform your ablution properly and perfectly and wash each organ properly with water. So, the man went back, performed ablution perfectly, and then prayed.