صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

ترکِ تعلق اورنذر کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ (ہونے والے) واقعہ…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8409Sahih صحیح
عن عوف بن مالك -أو: ابن الحارث- بن الطفيل أن عائشة رضي الله عنها ، حُدِّثَتْ أن عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما ، قال في بيع أو عطاء أعطته عائشة رضي الله تعالى عنها: والله لتَنْتَهِيَنَّ عائشة أو لأَحْجُرَنَّ عليها، قالت: أهو قال هذا؟ قالوا: نعم. قالت: هو لله علي نَذْرٌ أن لا أكلم ابن الزبير أبدًا. فاستشفع ابنُ الزبير إليها حين طالت الهجرة. فقالت: لا، والله لا أُشفَّع فيه أبدًا، ولا أَتَحَنَّثُ إلى نذري. فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وعبد الرحمن بن الأسود بن عبد يَغُوثَ وقال لهما: أَنْشُدُكُما الله لَمَا أَدْخَلْتُمَانِي على عائشة رضي الله عنها ، فإنها لا يَحِلُّ لها أن تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فأقبل به المِسْوَرُ وعبد الرحمن حتى استأذنا على عائشة فقالا: السلام عليك ورحمة الله وبركاته، أندخل؟ قالت عائشة: ادخلوا. قالوا: كلنا؟ قالت: نعم ادخلوا كلكم، ولا تعلم أن معهما ابن الزبير، فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب فاعتنق عائشة رضي الله عنها ، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا ويبكي، وطَفِقَ المِسْوَرُ، وعبد الرحمن يُنَاشِدَانِهَا إلا كَلّمَتْهُ وقَبِلَتْ منه، ويقولان: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عما قد علمتِ من الهجرة؛ ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، فلما أكثروا على عائشة من التذكرة والتحريج، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُما وتبكي، وتقول: إني نَذَرْتُ والنذرُ شديدٌ. فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير، وأعتقت في نذرها ذلك أربعين رقبة، وكانت تَذْكُرُ نَذْرَهَا بعد ذلك فتبكي حتى تَبُلَّ دموعُها خمارَها.
عوف بن مالک -یا ابن حارث- بن طفیل سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بیان کیا گیا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بیع اور عطیہ کے بارے میں فرمایا، جسے عائشہ رضی اللہ نے دیا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیے، نہیں تو اللہ کی قسم میں انھیں مال میں تصرف سے روک دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا: کیا واقعی اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں! فرمایا: میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی! اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی (کہ انھیں معاف فرما دیں)، ام المؤمنین نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں قبول کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطع تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے لمبا ہو گیا، تو انھوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے اس سلسلے میں بات کی اور ان دونوں سے کہا کہ میں تمھیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل کرا دو؛ کیوں کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی نذر مانیں۔ چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا: "السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انھوں نے عرض کیا: ہم سب؟ کہا: ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے (کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو ابن زبیر سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لیے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ جب دونوں نے بار بار یاد دلایا تو ام المؤمنین بھی انھیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ سخت ہے! لیکن یہ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم (توڑنے) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کیے۔ اس کے بعد جب بھی آپ اپنی یہ نذر یاد کرتیں، تو رونے لگتیں، یہاں تک کہ آنسوں آپ کے دوپٹے کو تر کر دیتے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Awf ibn Mālik – or ibn al-Hārith – ibn at-Tufayl reported: ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) was told that ‘Abdullāh ibn Az-Zubayr, upon hearing that she was selling or giving something as a gift, said: "By Allah, if ‘Ā’ishah does not give this up, I will declare her incompetent to dispose of her wealth." She asked: "Did he say so?" They replied: ‘Yes.’ So she said: "I vow to Allah that I will never speak to Ibn Az-Zubayr." When this separation had lasted for a long time, Ibn Az-Zubayr sought to intercede with her, but she said: "By Allah, I will not accept the intercession of anyone for him and will not commit a sin by breaking my vow." As this state of affairs continued for long, Ibn Az-Zubayr was concerned and he approached Al-Miswar ibn Makhramah and ‘Abdur-Rahmān ibn al-Aswad ibn ‘Abd Yaghūth and said to them: "I beseech you by Allah to help me to visit ‘Ā’ishah; it is unlawful for her to vow to sever ties with me." Al-Miswar and ‘Abdur-Rahmān took him to ‘Ā’ishah and asked for permission to enter her house, saying: "Peace, mercy, and blessings of Allah be upon you! May we come in?" She said: "Come in." They said: "All of us?" She said: "Yes, come in all of you," unaware that Ibn Az-Zubayr was with them. As they came in, Ibn Az-Zubayr entered the screened place and took hold of ‘Ā’ishah and was weeping and imploring her to forgive him. Al-Miswar and ‘Abdur-Rahmān also were begging her to speak to him and accept his apology. They said: "As you know, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade a Muslim from forsaking his fellow Muslim, and it is unlawful for a Muslim to do so for more than three days." As they continued to remind and press her, she began to weep and say: "I made a vow, and a vow is something grave." They persisted in their appeal until she talked to Ibn Az-Zubayr, and she freed forty slaves in expiation for her vow. Later, whenever she remembered this vow, she would weep profusely, wetting her veil.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8409

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کافی کچھ عطیہ و صدقہ کیا ہے۔ انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عطیہ بہت زیادہ نظر آیا، اس لیے کہا: اگر وہ باز نہیں آئیں، تو میں انھیں مال میں تصرّف کرنے سے روک دوں گا۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں بہت سخت بات تھی؛ کیوں کہ وہ ان کی خالہ تھیں اورعقل و فکر، حلم و بردباری اور حکمت ودانش والی تھیں؛ اس لیے ان کے بارے میں ایسی بات کہنا مناسب نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی۔ انھیں بتانے کا کام غیبت کرنے والوں اور چغل خوری کے ذریعے آپس میں فساد پھیلانے والوں نے کیا۔ جب یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی، تو انھوں نے ان سے ہمیشہ نہ بات کرنے کی قسم کھا لی۔ انھوں نے اپنے بھانجے پر شدید ناراضگی کی وجہ سے کیا۔ انھوں نے قطع تعلق بھی کر لیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا اپنے بھانجے سے ترکِ تعلق اختیار کرنا، ابن زبیر پر بہت سخت گزرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں راضی کرنے کی کوشش کرنے لگے؛ لیکن ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے عزم پر قائم رہیں۔ کیوں کہ وہ نذر کو بہت اہم جانتی تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دو ساتھیوں کو اپنا سفارشی بنایا۔ ان دونوں نے ام المؤمنین کے ساتھ حیلہ کا راستہ اختیار کیا، جو بجا بھی تھا؛ کیوں کہ اس کا نیک مقصد تھا۔ اصلاح بین الناس کا مقصد۔ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی؛ چنانچہ سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب انھوں نے داخل ہونے کی اجازت دے دی، تو دونوں نے کہا: ہم داخل ہو جائیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں! ان لوگوں نے کہا: ہم سب؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سب لوگ! عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے ساتھ ہیں۔ پھر بھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا تمھارے ساتھ عبد اللہ بن زبیر ہیں؟ انھوں نے کوئی تفصیل نہیں طلب کی؛ بلکہ عام بات کہہ دی کہ تم سب داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان پر امہات المومنین کا حجاب تھا۔ یعنی ایک ایسا پردہ جس سے امہات المؤمنین پردہ فرمایا کرتی تھیں؛ تاکہ لوگ انھیں دیکھ نہ پائيں، وہ عام عورتوں والا حجاب نہیں تھا؛ کیوں کہ عام عورتوں کے حجاب میں چہرہ اور جسم کو ڈھاکنا ہوتاہے، لیکن یہ حجاب ایسا تھا جو لوگوں اور امہات المومنین کے درمیان حاجب اور حائل ہوا کرتا تھا۔ جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے، تو عبد اللہ بن زبیر پردے کے اندر داخل ہوگئے؛ کیوں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ اس طرح وہ ان کے محارم میں سے تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں بوسہ دینے لگے، رونے لگے، اللہ کا واسطہ دے کر قطع کلامی سے ڈرانے لگے اور کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نذر کا معاملہ سخت ہے۔ پھر ان دونوں نے انھیں اس قطع کلامی سے، جس کا انھوں نے پختہ عزم کر رکھا تھا، رجوع کرنے پر آمادہ کیا اور نبی ﷺ کی وہ حدیث سنائی، جس میں ہے کہ کسی مومن کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطمئن ہوگئیں اور رونے لگیں اور عبد اللہ بن زبیر سے بات چیت شروع کردیں۔ لیکن یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا کو کافی غمگین کرتی رہی۔ چنانچہ جب بھی عائشہ رضی اللہ عنہا اسے یاد کرتیں، رونے لگتیں۔ کیوں کہ یہ بات بہت سخت تھی۔ اس نذر کی بنا پر انھوں نے چالیس غلام آزاد کیے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی گردن کو جہنم سے آزاد کردے۔ ان کا یہ عمل مزید تقوی و پرہیزگاری کے طور پر تھا؛ ورنہ واجب تو ایک ہی گردن آزاد کرنا تھا۔

Explanation

‘Abdullāh ibn Az-Zubayr (may Allah be pleased with him) heard that ‘Ā'ishah (may Allah be pleased with her) made many large donations. Viewing this as an extravagance, he remarked: "By Allah, if ‘Ā’ishah does not give up this, I will declare her incompetent to dispose of her wealth." This was truly hurtful to ‘Ā'ishah, one of the Mothers of the Believers, as she was his maternal aunt and also because she possessed vast knowledge, sound reason, forbearance, and wisdom that should deter people from speaking about her in this way. When she heard ‘Abdullāh’s statement through the gossips, who always seek to damage people’s ties and stir up discord amongst them, she vowed to never speak to him again as she was so upset. She boycotted him, which was something too hard for him to bear. So he tried to appease her, but she was determined, because she was concerned about the seriousness of her vow. Ibn Az-Zubayr sought the help of two of the Prophet’s Companions, who played a good ruse that led to a good outcome; repairing the relationship between people. They went to ‘Ā’ishah, greeted her, and asked her permission to enter her house. They asked: “May we enter?” She said: ‘Yes.’ They said: “All of us?” She said: ‘Yes’, not knowing that ‘Abdullāh was with them. They all entered as she hid behind the veil that was particularly observed by the Mothers of Believers to prevent people from seeing them – ordinary women are just required to conceal their faces and bodies, but that veil acted like a barrier between the Prophet’s wives and their unrelated men. When they entered, Ibn Az-Zubayr, her nephew, bypassed the veil and rushed towards her, weeping and imploring her to forgive him. He warned her that the severance of kinship ties was forbidden, but she took her vow very seriously and was afraid to break it. The two men persuaded her to change her mind, reminding her of the Prophet's Hadīth stating that it is unlawful for a Muslim to desert his fellow Muslim for over three days. Finally convinced, she wept and spoke to him. ‘Ā’ishah (may Allah be pleased with her) was so affected by this situation that she would cry every time she remembered it. To expiate for her broken vow, she emancipated forty slaves, hoping that Allah, the Almighty, would save her from Hellfire. Indeed, this reflected her caution and extreme piety, as the due expiation is the emancipation of just one slave.

Topics موضوعات