عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اتنی دیر کھڑے…
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
وفي رواية: كَبَّر أربَعاً فَمَكَثَ سَاعة حتى ظَنَنْتُ أنه سَيُكَبِّرُ خَمْساً، ثم سلَّم عن يمينه وعن شماله. فلما انْصَرف قلنا له: ما هذا؟ فقال: إني لا أزِيدُكُم على ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَصْنَع، أو: هكذا صَنَع رسول الله صلى الله عليه وسلم .
ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے چار تکبیریں کہیں، پھر کچھ دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر انہوں نے دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا: یہ کیا بات ہے؟ تو عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے سامنے اس سے زیادہ نہیں کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا۔ یا (یہ فرمایا) رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح کیا۔
In another narration: He recited four Takbīrs and remained standing in prayer for some time till we thought that he would recite the fifth Takbīr. Then, he made Taslīm to the right and to the left. When he turned aside, we asked him about it. He replied: "I would add nothing to what I saw the Messenger of Allah doing." Or he said: "The Messenger of Allah used to do so."
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمستدرک حاکمAl-Mustadrak (Hakim)Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8872Sunan Ibn Majah & Al-Mustadrak (Hakim) (HadeethEnc 8872)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، چنانچہ آپ نے چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد اپنی بیٹی کے حق مین دعا واستغفار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کھڑے رہے؛ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ نے پہلی تکبیر نماز میں داخل ہونے کے لیے کہی پھر آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر دوسری تکبیر کی اور درود شریف پڑھا، اُس کے بعد آپ نے تیسری تکبیر کہی اور میت کے لیے دعا کی، پھر چوتھی تکبیر کہی۔
پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد ان لوگوں سے جنھوں نے ان کے ساتھ نماز جنازہ پڑھا تھا کہا، اسی طرح رسول ﷺ بھی کرتے تھے یعنی چار تکبیریں کہتے تھے اور چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا کرتے تھے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حسبِ سابق چار تکبیریں کہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد ٹھہر کر دعا واستغفار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ پانچویں تکبیر کہیں گے، پھر آپ نے پہلا سلام اپنی داہنی اور دوسرا سلام اپنی بائیں جانب پھیرا، جس طرح نماز میں ہوتا ہے، چنانچہ نماز کے اختتام کے بعد ان کے ساتھ نماز پڑھنے والے لوگوں نے ان سے چوتھی تکبیر کے بعد تاخیر کرنے اور فورًا سلام نہ پھیرنے کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ جو کیا کرتے تھے، میں نے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
سلام پھیرنے کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سب سے زیادہ اور سب سے صحیح جو بات ثابت شدہ ہے وہ صرف داہنی جانب ایک سلام پھیرنا ہے۔ یہاں تک کہ اس پر اجماع بھی نقل کیا گیا جیسا کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مغنی میں نقل کیا ہے۔
اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے لیکن اس حدیث کے حسن ہونے میں علماء کا اختلاف ہے کیوں کہ اس کی سند میں ابراھیم الہجری ہے جو کہ ضعیف ہے۔
صرف ایک سلام پھیرنے کے متعلق ایک مرفوع حدیث بھی آتی ہے لیکن وہ مرسل ہے۔
Explanation
‘Abdullāh ibn Abi Awfa (may Allah be pleased with him) relates that he offered the funeral prayer for his daughter, during which he made four Takbīrs, and after the fourth one he remained for a while, supplicating and seeking Allah's forgiveness for her. To clarify this in detail, he makes one Takbīr to enter the prayer, recites Sūrat al-Fātihah, makes a second Takbīr, invokes Allah's peace and blessings upon the Prophet, makes a third Takbīr, supplicates for the dead person, and then makes a fourth Takbīr.
After making Taslīm, ‘Abdullāh ibn Abi Awfa said to those praying with him: "The Messenger of Allah used to do so." That is he would make four Takbīrs and supplicate for the deceased after the fourth one. In another narration: He made four Takbīrs, after which he supplicated for her for so long that those praying behind him thought he would make the fifth Takbīr. Then, he made Taslīm to the right and to the left, like in ordinary prayers. After finishing the prayer, the people asked him about why he stayed for a while after the fourth Takbīr, before making Taslīm, and he replied that he adhered to what the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) had done, not adding anything. As for the manner of Taslīm, it is subject to scholarly difference, but the more correct practice, which was more commonly done by the Companions, is to make Taslīm to the right only.