Sunan Abi Dawud سنن ابو داؤد

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا : یہ فلاں شخص ہے۔ اس کی داڑھی سے شراب…

عن ابن مسعود رضي الله عنه : أنه أُتِي برجُل فقيل له: هذا فُلان تَقْطُر لحيته خَمْرًا، فقال: إنا قد نُهِيْنَا عن التَّجَسُّسِ، ولكن إن يَظهر لنا شَيْءٌ، نَأخُذ به.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا : یہ فلاں شخص ہے۔ اس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے! تو (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا : ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے۔ البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آجائے، تو ہم اس کا مؤاخذہ کریں گے۔
Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) reported: A man was brought to him and it was said: "This is so-and-so, and his beard is dripping with wine." Thereupon he said: "We have been prohibited from spying. However, if we see something evident, we will act upon it."

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawud
Original wording: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8880

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے آدمی کو لایا گیا، جو شراب پیے ہوئے تھا۔ شراب پینے کا علم فقط قرینۂ حال سے ہو رہا تھا؛ کیوں کہ اس میں ہے "اس کی داڑھی سے شراب ٹپک رہی تھی" ۔ انھوں نے جواب دیا کہ شرعی طور پر ہمیں تجسس سے روکا گيا ہے؛ کیوں کہ اس آدمی کی ظاہری حالت بتا رہی ہے کہ اس نے چھپ کر پیا ہے۔ لیکن لوگ انھیں ٹوہ لگا کر اس حالت میں نکال لائے ہیں۔ البتہ اگر کوئی چیز واضح ہو جائے اور عادل گواہوں کی گواہی بھی مل جائے یا ٹوہ لگائے بغیر وہ اقرار کر لے، تو ہم اس کے جرم کے مطابق حد یا سزا نافذ کریں گے۔ لیکن جو اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھے گا، ہم اس کا مؤاخذہ نہیں کریں گے۔

Explanation

A man who had drunk wine was brought to Ibn Mas‘ūd (may Allah be pleased with him) and it was clear from his beard, which was dripping with wine, that he had done that. He responded to that by saying that Muslims have been prohibited by Islamic law from spying on others, because it was apparent that the man had drunk it in private, but those people spied on him and brought him in that condition. He added that in case something was obvious and proved by trustworthy witnesses, or the person himself confessed without being spied on, then they would deal with him according to whatever punishment is appropriate, and whoever sought concealment with Allah, then they would not hold him accountable.

Topics موضوعات