صحیح مسلم
Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا، جس کے چہرے پر داغنے کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8891Sahih صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الوَجْهِ، فأنكر ذلك؟ فقال: «والله لا أَسِمُهُ إلا أقصى شيء من الوجه» وأمر بحماره فُكُوِيَ في جَاعِرَتَيْهِ، فهو أول من كوى الجاعرتين.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغنے کا نشان تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (عباس رضی اللہ عنہ جو اس گدھے کے مالک تھے) نے کہا کہ اللہ کی قسم اب میں اس جگہ پر داغ دوں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کے گدھے کی سرین پر داغ دے کر نشان لگایا گیا۔ عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے سرین پر داغ لگایا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) saw a donkey that had been branded on the face. He disapproved of it. Thereupon, Al-‘Abbās said: "By Allah, I shall not brand (the animal) but on the part most distant from the face." Al-‘Abbās then commanded that his donkey should be branded on its hips. He was the first to brand an animal on the hips.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8891

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ نے ایک گدھا دیکھا، جسے اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
'الوسم' سے مراد یہ ہے کہ جانور پر نشان لگانے کے لیے اسے (گرم لوہے سے) داغا جائے۔ جن لوگوں کے پاس مویشی ہوتے تھے، وہ ان پر نشان لگاتے تھے۔ ہر قبیلے کا ایک خاص نشان ہوتا یعنی دو خط، ایک خط، مربع ، دائرہ یا ہلال۔ غرض یہ کہ ہر قبیلے کا اپنا ایک خاص نشان ہوا کرتا تھا۔ اس نشان سے جانوروں کی حفاظت ہوتی تھی بایں طور کہ جب وہ گم ہو جاتے اور لوگوں کو ملتے تو وہ پہچان جاتے کہ یہ فلاں قبیلے کے ہیں اور انہیں اس قبیلے کے لوگوں کی طرف ہانک دیتے۔
”فَقَالَ“ کہنے والے سے مراد عباس ابن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیح ابن حبان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بصراحت موجود ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ یا کسی جانور کو اس کے چہرے میں داغ کر نشان زد کر دیا۔ آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو سخت ناراض ہوئے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”میں اب اس کے جسم کے آخری حصے میں داغ کر نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین پرنشان لگایا“۔
یعنی جب انہیں ممانعت کا علم ہوا، تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ گدھے کے اس جگہ پر نشان لگائیں گے، جو اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو گا۔ ابن حبان کی سابق الذکر روایت میں ہے: ”میں اس کے آخری حصے میں نشان لگاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی سرین کو نشان زد کیا“۔
پھر ان کے حکم کے مطابق ان کے گدھے کی سرین پر نشان لگایا گیا۔ جاعرۃ سے مراد گدھے کے جسم کا آخری حصہ ہے۔ یعنی ران، جہاں جانور دم مارتا رہتا ہے۔
علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر نشان لگانا ہو تو مستحب یہ ہے کہ بھیڑ بکریوں کوان کے کانوں پر نشان لگایا جائے اور اونٹ اور گائے کو ان کے رانوں کی جڑ پر نشان زد کیا جائے۔ کیوںکہ یہ سخت جگہ ہوتی ہے اور یہاں نشان لگانے سے تکلیف کم ہوتی ہے۔ مزید برآں اس جگہ بال بھی کم ہوتے ہیں اور نشان خوب نمایاں رہتا ہے۔ نشان کا فائدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اس سے جانور ایک دوسرے سے ممتاز رہیں“۔
عباس رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے اپنے گدھے کو اس کے پچھلے حصے میں نشان لگایا تھا۔

Explanation

The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw a donkey that was branded on its face, and he denounced it. According to the Hadīth of Ibn ‘Abbās (may Allah be pleased with him) the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) cursed the one who branded it in its face.
Branding is normally done to leave a mark on animals. Shepherds and those who raise farm animals usually have particular branding symbols. Each tribe has its own symbol, either two slashes, a square shape, a circle, or crescent shape. These symbols protect the animal if it is lost and someone finds it, then they will know what tribe it belongs to.
Al-‘Abbās ibn ‘Abd al-Muttalib (may Allah be pleased with him) said as it was mentioned in the narration of Ibn Hibbān on the authority of Ibn ‘Abbās that Al-‘Abbās branded a camel or an animal in its face, and the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw it and became angry. So Al-‘Abbās said: I will not brand it except on its backside, so then he branded it on its hips.
After knowing about the prohibition of branding in the face, he swore that he would not brand an animal except on a spot that is the furthest from its face. He ordered that his donkey should be branded on its hips, where an animal strikes its buttocks by its tail.
An-Nawawi (may Allah have mercy upon him) said: "If someone brands an animal, then it will be desirable to brand sheep on their ears, and camels and cows on their thighs, because it is a hard and rough place where pain is less felt, there is not much hair, and the branding mark is apparent. The benefit of branding is to differentiate between people's animals."
Al-‘Abbās (may Allah be pleased with him) was the first one who branded his donkey on its buttocks.

Topics موضوعات