اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:…
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8900Sahih Muslim (HadeethEnc 8900)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مفہوم: بندہ اللہ کی خاطر کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا نہیں ہوتا ہے پھر لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلان شخص بہت زیادہ بھلائی کرنے والا ہے، فلان شخص بہت زیادہ نيکی کرنے والا ہے، فلان شخص مخلوق کے ساتھ بہت احسان کرنے والا ہے اور اسی طرح کی دیگر ستائش بھری باتیں کہتے ہیں، توآپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔''یعنی اس کی مدح و ستائش اس کے لیے پیشگی بشارت ہے; کیونکہ لوگ جب کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو وہ زمین پر اللہ کے گواہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب ایک جنازہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ ﷺ کے صحابۂ کرام نے اس کا ذکر خیر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کا برے طور پر ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، چنانچہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے جنازے کے لئے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے کے لئے جہنم واجب ہوگئی, تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔'' آپ ﷺ کے فرمان: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔'' کا مطلب یہی ہے۔ اس ميں اور ریاکاری میں فرق یہ ہے کہ ریاکار شخص عمل ہی اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر اس کی تعریف کریں، اس صورت میں وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنے کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب کہ اس دوسرے شخص کی نیت خالصتا اللہ عزوجل کے لئے ہوتی ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ لوگ اس کی تعریف یا برائی کریں۔ اب اگرلوگوں کو اس کے نیک اعمال کا علم ہوجائے اور وہ اس پر اس کی مدح و ستائش کریں تو یہ ریا کاری نہيں ہے، بلکہ پيشگی خوش خبری ہے۔ اس کے اور حدیث میں جس صورت کا بیان ہے اس کے مابين بڑا فرق ہے۔
Explanation
Here we are told of a man who does a righteous deed for the sake of Allah, without intending it for others. People, however, commend him and say that he is a charitable person, etc. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) says that such an appreciation is an instant good news for the believer, because people are witnesses over Allah's creation, so their testimony does count. That is why when a coffin passed by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and his Companions spoke well of the deceased, he said that they confirmed that he would be admitted to Paradise. Also, when another coffin passed by him and the Companions spoke badly of the deceased, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said that they confirmed that he would be admitted to Hell. In both cases, he justified that people are Allah's witnesses on earth. So, the commendation that a believer gets from people for the good thing that he does is an instant good news for him in the world. However, the one who does something ostentatiously to draw people's attention and favorable remarks, has thus associated partners with Allah. This is what makes the other sincere person greatly different from him.