صحیح مسلم
Sahih Muslim

ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8902Sahih صحیح
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jarīr ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) reported: I asked the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) about the sudden glance, and he commanded me to avert my gaze.
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: رواه مسلم
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8902

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اگر کسی مرد کی نظر کسی اجنبی عورت پر اچانک بلا قصد و ارادہ پڑ جائے، تو وہ کیا کیا کرے؟ تو آپ نے ان سے کہا کہ جیسے ہی اسے اس کا احساس ہو، وہ فورا اپنی نظر دوسری جانب کر لے۔ اگر ایسا کرلیتا ہے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

حدیث کے فوائد

  • نگاہ نیچی رکھنے کی ترغیب۔
  • جسے دیکھنا حرام ہو، اگر اس پر اچانک بلا ارادہ نظر پڑ جائے، تو اسے دیکھتے رہنا حرام ہے۔
  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جانتے تھے کہ کسی اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہے۔ اس کى دلیل یہ ہے کہ جریر رضی اللہ عنہ نے بلا ارادہ نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا اس کا حکم بھی قصدا نظر ڈالنے ہی کا ہے؟
  • اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت بندوں کے مصالح پر توجہ دیتی ہے۔ چوں کہ عورتوں کو دیکھنے کے نتیجے میں کئی دنیوی اور اخروی مفاسد لازم آتے ہيں، اس لیے اسے حرام قرار دے دیا۔
  • صحابہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رجوع کرتے اور جو باتیں معلوم نہيں ہوتیں، آپ سے پوچھ لیا کرتے تھے۔ لہذا عام لوگوں کو بھی علما سے رجوع کرنا چاہیے اور جو باتیں سمجھ میں نہ آئيں، پوچھ لینی چاہیے۔

Explanation

Jarīr ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) asked the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) about a man suddenly and unintentionally looking at an unrelated woman. In response, the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) ordered him to turn his face to the other side once he knows it, and there is no sin on him.

Topics موضوعات