صحیح مسلم
Sahih Muslim

اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8909Sahih صحیح
عن جابر رضي الله عنه قال: أُتِيَ بأبي قُحَافَة والد أبي بكر الصديق رضي الله عنهما ، يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كَالثَّغَامَةِ بياضًا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَيِّرُوا هذا واجْتَنِبوا السَّواد».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس (ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں) کی طرح سفید تھے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: Abu Quhāfah, father of Abu Bakr As-Siddīq (may Allah be pleased with him), was brought on the day of the Conquest of Makkah with his head and beard as white as Thaghāmah (a white plant). Therefore, the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) said: "Change this and avoid black."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8909

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس کی طرح سفید ہوگیے تھے۔ ثغامہ ایک قسم کا سفید رنگ کا گھاس ہے۔ جب آپ ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا، تو فرمایا:”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ آپ ﷺ نے ان کے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کو کالا کرنے سے بچو، اس لیے کہ بالوں کو کالا کرنا انسان کو دوبارہ جوان بنانا ہے۔ یہ تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی فطرت اور اس کی سنت کے منافی ہے۔ جہاں تک باقی رنگوں کا تعلق ہے جیسے لال اور نیلا رنگ یا مہندی اور وسمہ ملے ہوئے رنگ، تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کالےکے علاوہ ایسا رنگ ہو جو کالے اور سُرخ کے درمیان ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ممانعت صرف خالص کالے رنگ کی ہے۔ صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور وسمہ لگایا کرتے تھے۔

Explanation

On the day of the Conquest of Makkah, Abu Quhāfah, father of Abu Bakr As-Siddīq, was brought to the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) and his head and beard were as white as an intensely white plant called Thaghāmah. When the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) saw him, he said: “Change this and avoid black.” He ordered that his white hair be dyed with anything other than black, because black makes an old person look younger, and this is a challenge to the natural constitution that Allah gives to man. Red, yellow, and henna mixed with katam-dye are fine to use, so long as black is excluded. If the synthesized dye is something between red and black, it is fine. In a Hadīth by Anas (may Allah be pleased with him), Abu Bakr and ‘Umar (may Allah be pleased with him) dyed their hair with henna and katam-dye.

Topics موضوعات