Sahih al-Bukhari · Sahih Muslim صحیح بخاری · صحیح مسلم

بنو اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔

عن حُميد بن عبد الرحمن: أنه سمع معاوية رضي الله عنه عام حَجَّ على المِنْبَر، وتناول قُصَّة من شَعْرٍ كانت في يَدِ حَرَسِيٍّ، فقال: يا أهل المدينة أين عُلَمَاؤُكُمْ؟! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عن مثل هذه، ويقول: «إنما هَلَكَت بَنُو إسرائيل حين اتَّخَذَهَا نساؤُهُم».
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے، انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔
Humayd ibn ‘Abdur-Rahmān reported that he heard Mu‘āwiyah (may Allah be pleased with him) in the year he made pilgrimage — having taken a lock of hair that was in the hand of a guard — say on the pulpit: "O people of Madīnah, where are your scholars? I heard the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbidding the like of this and saying: 'The children of Israel were ruined when their women started using this.’"

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: متفق علیہ
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8915

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے سال منبر پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گھچا تھا، یہ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے بالوں کا مجموعہ تھا جو کہ ان کی کسی چوکیداری کرنے والے خادم کے ہاتھ میں تھا۔ فرمایا اے اہلِ مدینہ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ یہ انکار کے قبیل سے ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس بُرائی سے منع کرنے میں کوتاہی کی اور اس (ممنوع شے) کو تبدیل کرنے سے غفلت برتی۔پھر فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے بالوں کو گوند کر اس طرح کے بال بنانا شروع کردیا تو اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، وہ تمام لوگ ہلاک ہوگئے، اس لیے کہ وہ بُرائی کا اقرار کرتے تھے اور ساتھ ہی بُرائی کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملاتے تھے۔

Explanation

Humayad ibn ‘Abdur-Rahmān ibn ‘Awf (may Allah have mercy upon him) tells this story. In the year he made pilgrimage, Mu‘āwiyah was on the pulpit with a tangled lock of hair in his hand. He took it from one of his guards and said: ''O people of Madīnah, where are your scholars?'' With this rhetorical question, he meant to show disapproval of their inaction toward evildoing. He told them that he heard the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) say that Allah, the Almighty, destroyed the Children of Israel when their women started using hair extensions. Indeed, they were all ruined because of their approval of evil, in addition to their committing other prohibitions.

Topics موضوعات