صحیح بخاری
Sahih al-Bukhari

عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر (ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں۔ اور کہنے…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8927Sahih صحیح
عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: أُغْمِي على عبد الله بن رواحة رضي الله عنه فجعلت أُخْتُه تبكي، وتقول: واجَبَلاهُ، واكذا، واكذا: تُعَدِّدُ عليه. فقال حين أفَاق: ما قُلْتِ شيئا إلا قِيل لي أنت كذلك؟
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر(ایک مرتبہ کسی مرض میں) بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن رونے لگیں ۔ اور کہنے لگیں: ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور! ہائے میرے ایسے اور ویسے! ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے شمار کرنے لگیں۔ جب عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انھوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے؟!
— HadeethEnc اردو ترجمہ
An-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him) reported: ‘Abdullāh ibn Rawāhah (may Allah be pleased with him) fell down unconscious, so his sister started crying. She said: "O my mountain! O so-and-so!" and went on calling him by his good qualities one by one. When he came to his senses, he said: "Whenever you said something, I was asked: 'Are you really so?'"
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح بخاریSahih al-Bukhari
Original wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8927

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ عبداللہ بن رواحہ بیمار ہوئے اور مرض کی شدت کی وجہ سے بے ہوش گیے۔ ان کی بہن نے جب ان کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھا کہ وہ فوت ہو گیے ہیں تو اس نے ماتم کرتے ہوئے رونا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا ’واجبلاہ‘ یعنی گویا وہ ان کے لیے ایک پہاڑ کی مانند تھے کہ جس میں پہاڑی راستے پر کسی حادثہ کی صورت میں بچاؤ کے لیے ــــــــــــ پناہ لی جا سکتی ہو۔ اس طرح اُس نے اُن کے مختلف امور کی نسبت اور اُن کے محاسن و خصوصیات کا تذکرہ دورِ جاہلیت کے انداز میں شروع کر دیا۔ جب انھیں اپنی بے ہوشی سے افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی بہن کو بتایا کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ کہا گیا کہ:کیا تو پہاڑ ہے جس سے پناہ لی جاتی ہے؟ کیا تو ایسا ایسا ہے جیسے تیرے اوصاف اور خوبیاں بیان کی جار ہی ہیں؟ اپنی بے ہوشی کی کیفیت کے متعلق اپنی بہن کو بتایا اور یہ انداز دھمکانے اور سخت وعید کرنے کے قبیل سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو انھوں نے ماتم نہ کیا اور لوگوں کو بھی ماتم نہ کرنے کی نصیحت کی۔

Explanation

An-Nu‘mān ibn Bashīr (may Allah be pleased with him) reported that ‘Abdullāh ibn Rawāhah (may Allah be pleased with him) fell down unconscious because he was too sick. When his sister, (may Allah be pleased with her) saw him in that state, she thought that he had died. Therefore, she started crying and said: "O my mountain!" By this she meant that for her he was like a mountain in which she sought refuge from adversities. She counted his good qualities the way people used to do in the pre-Islamic era. When he came to his senses, he told her what had happened to him. It was said to him, "Are you a mountain that people seek refuge in? Are you the same as they describe you?" Everything that his sister mentioned during his fit, he was questioned about it out of sarcasm and severe threat. In another narration, it was mentioned that when Ibn Rawāhah died, his sister had learnt the lesson and, therefore, did not mourn him that way.

Topics موضوعات