اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیوں…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8934Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 8934)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
حدیث کا مفہوم: جب کسی سے کسی ایسی بات کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اسے نہ چھپائے۔ تاہم اگر اس سے کسی ایسی شے کے بارے میں پوچھ لیا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو پھریوں کہے کہ : اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے) اور کھینچ تان کر جواب دینے کی کوشش نہ کرے۔
”کیونکہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اس کا یہ کہنا کہ: اللہ بہتر جانتا ہے بھی علم ہی ہے“ کیوں کہ جس شخص کو علم نہ ہو اور وہ کہہ دے کہ وہ نہیں جانتا تو درحقیقت وہی عالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے اپنی قدر و منزلت کا علم ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس بات سے وہ ناواقف ہے۔ چنانچہ جس بات کو وہ نہ جانتا ہوتا اس کے بارے میں وہ کہہ دیتا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔
صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں ”فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللهُ أَعْلَمُ“ کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی بات نہ جانتا ہو تو اس کا اللہ اعلم کہنا اس کے علم کے لیے زیادہ بہتر و درست اور اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔
پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے اس قول سے استدلال کیا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں جو وحی لے کر آیا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں بلکہ میں تو تمہاری خیر کی طرف راہنمائی کررہا ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔
﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں تمہیں مشقت میں مبتلا کرنے والا یا بغیر علم کے بات کرنے والا نہیں ہوں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کے لیے صرف اسی صورت میں فتوی دینا جائز ہے جس میں فتوی دینے کی اس میں صلاحیت ہو۔ اگر اللہ تعالی کا ارادہ یہ ہوا کہ وہ لوگوں کو فتوے دے اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرے تو ایسا ہو جائے گا اور اگر اللہ کا یہ ارادہ نہ ہوا تو فتوی دینے کی جراءت کرنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ ایسا کرنا الٹا اس کے لئے دنیا و آخرت میں وبال بن جائے گا۔
Explanation
If a person is asked about something and he knows the answer, he should share his knowledge with the people and not conceal it. But if he is asked about something that he doesn't know then he should say: "Allah knows best", and not to make up an answer to pretend that he knows.
It is a sign of having knowledge to say: "Allah knows best" in areas that one does not have knowledge in. The person who does so is the one with true knowledge, because he does not overestimate himself and his status, and knows that he has no knowledge concerning that matter, so he refers knowledge of it to Allah by saying: "Allah knows best". Another reporion in Sahīh Muslim reads: "It is more knowledgeable for one of you to say: ‘Allah a’lam’ about things you do not know", meaning: it is better for his knowledge and more beneficial for him to say regarding what he does not know: "Allah knows best".
Then Ibn Mas’ood used the following verse from the Qur'an to support his statement: {Say: "I do not ask you for the Qur'an any payment, and I am not of the pretentious"} [Sād: 86], meaning: I do not ask you for reward or wages in return for the revelation that I bring to you; rather, my sole intention is to guide you to goodness and to invite you to worship Allah.
{and I am not of the pretentious}, meaning: I am not one of those who make matters difficult for you or those speaking without knowledge.
In brief, it is not permissible for a person to issue a Fatwa unless he is permitted to do so. If Allah wills for him to be an Imām for the people, issue religious decisions for them, and guide them to the straight path, indeed, he will be so. And if Allah does not will that for him, his boldness and daring in issuing a Fatwa will not be of benefit to him; rather, it will be a test and trial for him in this world and the next life.