صحیح مسلم
Sahih Muslim

لوگو! تم دو پودے ایسے کھاتے ہو جنہیں مَیں خبیث ( بدبودار ومکروہ) سمجھتا ہوں۔ یہ پودے لہسن اور پیاز ہیں۔

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8953Sahih صحیح
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أنه خَطب يوم الجمعة فقال في خُطْبَته: ثم إنكم أيها الناس تأكلون شَجَرَتين ما أَرَاهُما إلا خَبِيثَتَيْن: البَصَل، والثُّوم. لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وجَد ريحَهُمَا من الرَّجُل في المسجد أَمَرَ به، فأُخرج إلى البَقِيع، فمن أكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم دو پودے ایسے کھاتے ہو جنہیں مَیں خبیث ( بدبودار ومکروہ) سمجھتا ہوں ۔ یہ پودے لہسن اور پیاز ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مسجد میں کسی سے ان کی بو محسوس کرتے تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ چنانچہ جو کوئی انہیں کھائے، اسے چاہیے کہ انھیں پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
‘Umar ibn al-Khattāb (may Allah be pleased with him) is reported to have delivered a Friday sermon. In it he said: “O people, you eat two plants that I only find offensive: onion and garlic. I saw the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) and if he detected their odor on a man in the mosque, he would order [the man] to be taken out to Al-Baqī‘. So anyone who [wants to] eat them, let them eliminate [their odor] by cooking.''
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8953

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

عمر رضی اللہ عنہ خطبہ کے حاضرین کو بتا رہے ہیں کہ وہ دو مکروہ پودوں یعنی پیاز اور لہسن کو کھاتے ہیں۔ یہاں "خُبث" سے مراد بدبو ہے۔ عرب لوگ "خبیث" کے لفظ کا اطلاق ہر برے اور ناپسند قول و فعل، مال، کھانے یا شخص پر کرتے ہیں۔ اس پر جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دلالت کرتی ہے جس میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ بدبودار پودا کھائے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ (مسلم)
”البَصَل والثُّوم“ (پیاز اور لہسن) اور ہر وہ شے جو بدبودار ہو جیسے مولی، کراث وغیرہ اور خاص طور پر تمباکو اور سگریٹ۔ لہسن اور پیاز کو بطور خاص ذکر کیا گیا کیونکہ کھانے میں ان کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ مسلم شریف میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں تو کُراث کا صراحتاً ذکر کیا گیا ہے۔ ”جب آپ ﷺ کو کسی آدمی سے ان دونوں پودوں کی بو آتی تو آپ ﷺ کے حکم سے اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا“۔ نبی ﷺ اسے مسجد سے نکالنے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بطورِ سزا اسے مسجد سے دور بقیع تک پہنچا دیتے، کیونکہ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور اسی طرح فرشتوں کو بھی اس سے تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے
البتہ جو انہیں کھانا چاہتا ہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے، کیونکہ پکانے سے ان کی بدبو جاتی رہتی ہے اور بو ختم ہو جانے کے بد مسجد میں آنا جائز ہے کیونکہ ممانعت کی علت باقی نہیں رہتی۔
معاویہ بن قرۃ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کو کھانا ہی ہو تو پکا کر ان کی بو کو مار دو“۔ (ابو داؤد)
پکا کر ان کی بو مارنے کا حکم اس وقت کے لیے ہے جب اس کا نماز یا نماز کےعلاوہ کسی اور غرض سے مسجد میں آنے کا ارادہ ہو۔ تاہم اگر نماز کا وقت نہ ہو تو پھر ان کو کچا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ان کو کھانا تو مباح ہے۔ پکانے کا حکم صرف اس لیے ہے کہ (کچا کھانے سے بدبو پیدا ہوتی ہے اور آس پاس کے لوگوں کو) اس سے تکلیف ہوتی ہے۔

Explanation

‘Umar (may Allah be pleased with him) told those who were attending the Friday sermon that they “ate two offensive plants: onion and garlic”. Arabs use the word ''offensive” for objectionable and reprehensible words, actions, possessions, food, or people. This is established in a Hadīth that Jābir (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who said: “Anyone who eats from this offensive tree let them not come close to our mosque.” [Muslim] “…onion and garlic”: Everything that has an offensive odor, such as radish, leeks, tobacco, and cigarettes are included here. Onions and garlic are mentioned in particular because they are eaten often. Leeks are stipulated in a Hadīth reported by Jābir ibn ‘Abdullāh (may Allah be pleased with him) and narrated by Muslim. So if anyone smelled of onion or garlic in the mosque, they would be ordered to be taken out as far as Al-Baqī‘, because it offends not only people but also the angels, as was related in an authentic Hadīth. In Ibn Mājah, we read: ''At the time of the Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) if a foul odor was detected on a man, I would see him seized by the arm and taken out to Al-Baqī‘.” “So anyone who [wants to] eat them, let them eliminate [their odor] by cooking.” This is because cooking eliminated the odor and if the odor is eliminated, one may enter the mosque because the reason for the prohibition no longer exists. Cooking onion and garlic thoroughly is required if someone wishes to enter the mosque for prayer or any other purpose. If it is not time for prayer, one may eat them raw. The command to cook them is meant to prevent offending others.

Topics موضوعات