نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Hasan حسنGood: acceptable, slightly below Sahihقابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8955Sunan Abi Dawud & Jami' at-Tirmidhi & Musnad Ahmad (HadeethEnc 8955)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ امام ابو داود نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ: معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ”حبوہ“ سے منع فرمایا ہے۔
”حبوہ“ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے اور پنڈلیوں کو رانوں سے ملا لے، اور خود کو تسمے یا پگڑی وغیرہ سے باندھ لے۔ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اس طرح بیٹھنے سے دو وجہوں سے منع فرمایا ہے:
اول: اس طرح بیٹھنے سے اسے نیند آ سکتی ہے اور یوں وہ سو جانے کی وجہ سے خطبہ سننے سے محروم ہو جائے گا۔
دوم: اس سے ستر کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ زیادہ تر عرب لوگوں پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر وہ حبوہ باندھتا تو اس کا ستر کھل جاتا۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے بالکل ہی منع فرما دیا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں اس طرح حبوہ باندھ کر بیٹھے کہ اس کی شرم گاہ ظاہرہو۔ یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے جس نے ایک کپڑا پہنا ہوا ہے اور یہ حکم ہر وقت میں لاگو ہوگا۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حبوہ باندھنا عربوں کی ان کی مجلسوں میں ایک عادت تھی، اگر اس کے ساتھ اس کی کچھ شرم گاہ ظاہر ہو جائے تو وہ حرام ہے۔
البتہ اگر شرم گاہ کے کھلنے کا خوف نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ممانعت کسی معقول علت کی بنا پر ہے اور وہ علت ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہو جائے گی۔
بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عباد بن تمیم کی حدیث سے ثابت ہے جسے وہ اپنے چچا کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔
Explanation
This Hadīth is abrogated as Abu Dawūd pointed out. The meaning of it is as related by Mu‘ādh ibn Anas from the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) who forbade Hibwah on Friday while the Imām is delivering the sermon. Hibwah means sitting with the thighs drawn up to the belly and the calves to the thighs, held together by the arms, a belt, a turban, etc. This was forbidden by the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) when the Imām is delivering the Friday sermon, for two reasons: 1. Hibwah might cause one to fall asleep and sleep through the sermon. 2. The ‘Awrah might become exposed, because most of the [ancient] Arabs only wore one piece of clothing, so sitting in this way might expose their ‘Awrah. An-Nawawi (may Allah have mercy upon him) comments: “Hibwah was a common practice among Arabs in their gatherings. If sitting this way uncovers a part of one's ‘Awrah, it is forbidden.” However, if there is no such a risk, then Hibwah is fine, because the prohibition was for a specific reason and if that reason that no longer exists, the prohibition is removed. We also know from a Hadīth that ‘Abbād ibn Tamīm reported from his uncle who said “I saw the Messenger of Allah (may Allah’s peace and blessings be upon him) lying on his back in the mosque with one of his legs over the other."