ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا…
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudسنن نسائیSunan an-Nasa'iمسند احمدMusnad AhmadOriginal wording: اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #8957Sunan Abi Dawud & Sunan an-Nasa'i & Musnad Ahmad (HadeethEnc 8957)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
ہوا اللہ کی رحمت ہے یعنی ہوا اللہ کی اپنے بندوں کے ساتھ رحمت ہے۔
یہ رحمت اور عذاب لیکر آتی ہے یعنی اللہ تعالی ہواؤں کو اپنے بندوں کے لیے از راہِ رحمت بھیجتا ہے، چنانچہ اس کے سبب لوگوں کو خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ﴾ ”اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں“۔
اسی طرح اللہ کا یہ فرمان: ﴿اللَّـهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ﴾ ”اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں“۔
نیز اللہ کا یہ فرمان: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ…﴾ ”اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں“۔
اور کبھی یہ ہوائیں عذاب لے کر آتی ہیں جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ”بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں“۔
اور فرمایا: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ، تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ﴾ ”ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی، جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں“۔
اور فرمایا: ﴿قَالُوا هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”کہنے لگے یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہےجس کی تم جلدی کر رہے تھے“۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو“ یعنی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہوا کو برا بھلا کہے کیونکہ یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق اور اس کے حکم کی پابند ہے اور کسی شے میں بذات خود اس کی کوئی تاثیر نہیں۔ اللہ عز وجل کے حکم کے بغیر یہ نہ کوئی نفع دیتی ہے اور نہ کوئی نقصان۔ چنانچہ اسے برا بھلا کہنا اس کے خالق و مدبر کو برا بھلا کہنے کے مترادف ہوگا جو کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔
”اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“ ہوا کو برا بھلا کہنے سے منع کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہوا چلے تو اس وقت وہ اللہ تعالی سے اس کے خیر کو طلب کریں اور اس کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔
مراد یہ کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ انہیں اس خیر سے نوازے جو اس میں پنہاں ہے اور اس شر کو ان سے دور کردے جو اس میں مضمر ہے۔
Explanation
The wind is from Allah's mercy for His slaves. It brings mercy, and it brings punishment. Allah sends the wind as a mercy for His slaves, and it results in much goodness and blessings for the people. Allah says in the Qur'an: {And We have sent the fertilizing winds} [Sūrat al-Hijr: 22]. {It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them} [Sūrat Ar-Rūm: 48]. {And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy until, when they have carried heavy rainclouds, We drive them to a dead land and We send down rain therein, and bring forth thereby [some] of all the fruits} [Sūrat al-A‘rāf: 57]. It also brings punishment as explained by the following verses in the Qur'an: {So We sent upon them a screaming wind during days of misfortune to make them taste the punishment of disgrace in the worldly life} [Sūrat Fussilat: 16]. {Indeed, We sent upon them a screaming wind on a day of continuous misfortune. Extracting the people as if they were trunks of palm trees uprooted} [Sūrat al-Qamar: 19-20]. {And when they saw it as a cloud approaching their valleys, they said: "This is a cloud bringing us rain!" Rather, it is that for which you were impatient: a wind, within it a painful punishment} [Sūrat al-Ahqāf: 24]. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "When you see it, do not swear at it," i.e. it is not permitted for a Muslim to curse the wind, because it is a creation of Allah and it is ordered by Him to do what it does, and it has no real effect in itself. It neither harms nor benefits except with the orders it takes from Allah. Therefore, swearing at the wind is equivalent to swearing at the One who creates and controls it, namely, Allah, the Almighty. "Ask Allah for its goodness and seek Allah's refuge from its evil", i.e. after the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) forbade swearing at the wind, he directed his nation to ask Allah for its good and seek refuge from its evil when it blows. In other words, they should ask Allah that the good that it carries be delivered to them, and that the evil that it carries be diverted away from them.