صحیح مسلم
Sahih Muslim

بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف…

Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
8961Sahih صحیح
عن جابر رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على أُمِّ السَّائِب، أو أُمِّ المُسَيَّب رضي الله عنها فقال: «ما لك يا أمَّ السَّائِب -أو يا أمَّ المُسَيَّب- تُزَفْزِفِينَ؟» قالت: الحُمَّى لا بارك الله فيها! فقال: «لا تَسُبِّي الحُمَّى فإنها تُذهب خَطَايَا بَنِي آدم كما يذهب الكِيْرُ خَبَثَ الحديد».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مُسیَّب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام سائب (یاپھر یہ فرمایا) اے ام مُسیَّب! تمھیں کیا ہوا ہے، کیوں کانپ رہی ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ بخار کی وجہ سے۔ اللہ اس میں برکت نہ دے! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Jābir (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) visited Umm As-Sā'ib (or Umm al-Musayyab) and asked her: "What ails you, O Umm As-Sā'ib (or Umm al-Mūsayyab)? You are shivering!" She replied: "It is the fever, may Allah not bless it!" He said to her: "Do not curse the fever, for it removes the sins of the children of Adam the same way the bellows remove the impurities of iron."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
صحیح مسلمSahih Muslim
Original wording: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Sahih صحیح
Authentic: reliable chain and text
مستند: سند اور متن دونوں درست
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #8961

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

جابر رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کرر ہے ہیں کہ نبی ﷺ ام السائب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جو کانپ رہی تھیں۔
آپ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا، تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ بخار کی وجہ سے کانپ رہی ہیں۔
”الحمی“ اس حرارت کو کہا جاتا ہے، جو جسم کو لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا مرض ہے، جس کے کئی انواع ہیں۔
”لا بارك الله فيها“ ام سائب جس بخار کے مرض میں مبتلا تھیں اس کے خلاف یہ بد دعا تھی۔ آپ ﷺ نے بخار کو بر بھلا کہنے سے منع فرمایا، یعنی نبی ﷺ نے بخار کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا؛ کیوںکہ یہ اللہ تعالی کے افعال میں سے ہے اور ہر وہ شے جو اللہ کے افعال میں سے ہو، اسے برا بھلا کہنا انسان کے لیے جائز نہیں ہے۔ کیوںکہ اسے برا بھلا کہنا دراصل اسے تخلیق کرنے والے کو برا بھلا کہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”زمانے کو برا بھلا مت کہو؛ کیوںکہ اللہ ہی زمانہ ہے“۔
چنانچہ انسان کو جب کوئی مصیبت لاحق ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کا امید وار رہے۔
پھر فرمایا کہ یہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ بخار کا مرض برائیوں کا کفارہ اور رفع درجات کا سبب بنتا ہے۔ جیسے جب لوہے کو آگ پر تپایا جائے تو میل کچیل اور گندگیاں الگ ہوجاتی ہیں اور صاف ستھرا لوہا باقی رہ جاتا ہے۔ ایسے ہی بخار بنی آدم کے صغیرہ گناہوں کو دور کردیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان سے صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔

Explanation

Jābir (may Allah be pleased with him) informs us in this Hadīth that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) entered the house of Umm As-Sā'ib and found her shivering. So he asked her why she was shivering and she said that it was the fever. The fever, or "humma" is a rise in the body temperature. It is an illness of many types.
"May Allah not bless it": Umm As-Sā'ib supplicated against the fever that afflicted her, so the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Do not curse the fever." He forbade her from cursing the fever because it is from Allah's actions. Everything that is from Allah's actions, it is not permissible to curse it, since cursing the action implies cursing its Creator, the Most High. It is for this reason that the Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) said in another Hadīth: "Do not curse the time, for, indeed, Allah is the time."
It is the duty of the person who is afflicted with fever or the like of it to be patient and seek reward from Allah.
"For it removes the sins of the children of Adam the same way the bellows remove the impurities of iron", i.e. fever is a reason for the expiation of sins and the raising of status. Just as melting iron over fire removes its impurities and alloys, fever removes one's minor sins and purifies him of them.

Topics موضوعات