اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے”۔
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-Bukhariصحیح مسلمSahih MuslimOriginal wording: متفق عليه
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66184Sahih al-Bukhari & Sahih Muslim (HadeethEnc 66184)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، انصار میں سے ایک شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم فرمایا۔ ایسا ہوا کہ وہ امیر ان پر غصہ ہو گئے اور ان سے کہنے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تو میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ لکڑیاں جمع کرو، آگ جلاؤ اور پھر اس میں داخل ہو جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی، پھر جب انہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہا: ہم نے تو آگ سے بچنے کے لیے نبی ﷺ کی اتباع کی تھی، تو کیا ہم اس میں داخل ہوں گے؟ وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ آگ کا شعلہ بجھ گیا، اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ جب نبی ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ان کی اطاعت کرتے اور اس آگ میں داخل ہو جاتے جو انہوں نے جلائی تھی، تو وہ اس میں عذاب دیے جاتے اور جب تک دنیا قائم رہتی، اس سے نہ نکل پاتے۔ خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں؛ اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں واجب ہے، معصیت میں نہیں۔
حدیث کے فوائد
- اس بات کا بیان کہ اطاعت صرف نیکی میں ہے اور معصیت میں نہیں، اگرچہ حکم دینے والا واجب الاطاعت ہی کیوں نہ ہو۔
- گناہ گار موحد بندے کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے معاف بھی کر سکتا ہے۔
- غزوے میں امیر مقرر کرنے کا جواز، اسی طرح سفر میں بھی۔
Explanation
The Prophet (ﷺ) sent out an army and appointed a man from the Ansār as their leader, instructing them to obey him. The leader became angry with them and said: Did not the Prophet (ﷺ) command you to obey me? They said: Yes. He said: Then I command you to gather firewood, light a fire, and enter it. So they gathered the firewood and lit the fire, but when they were about to enter it, they began looking at one another. And they said: We only followed the Prophet (ﷺ) to escape from the Fire—so should we enter it? While they were in this state, the flames of the fire went out, and the leader's anger subsided. When the Prophet (ﷺ) was informed of this, he said: Had they obeyed him and entered the fire they had kindled, they would have been tormented therein and would not have come out of it until the existence of this world. There is no obedience to a created being in disobedience to the Creator; obedience is only required in what is right, not in sin.