”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #66214Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 66214)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ نامی ایک شخص تھے، جن کا لقب حمار تھا۔ وہ اپنی بعض باتوں سے نبی ﷺ کو ہنسایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ چنانچہ ایک دن پھر ان کو لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو برا بھلا کہا، اور بولا: اللہ اس پر لعنت کرے، اسے کتنی بار شراب نوشی کی حالت میں لایا جاتا ہے!؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
حدیث کے فوائد
- گناہ کے ارتکاب اور گناہ کرنے والے کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے ثابت ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مذکورہ شخص، اس سے سرزد ہونے والے عمل کے باوجود، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
- کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اس پر اصرار کی حالت میں مر جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے، اور اہل اسلام میں سے کوئی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ میں نہیں رہے گا۔
- کسی متعین شراب نوش پر لعنت کرنا مکروہ ہے؛ اس احتمال کی وجہ سے کہ لعنت کے لاحق ہونے میں کوئی امر مانع ہو؛ اور اس لیے کہ کسی متعین شخص پر لعنت کرنا اور اس کے خلاف بد دعا کرنا اسے سرکشی پر ابھار سکتا ہے، یا توبہ کی قبولیت سے مایوس کر سکتا ہے۔
- اس وصف سے متصف غیر متعین شخص پر لعنت کرنے کا جواز۔
Explanation
During the time of the Prophet (ﷺ), there was a man named ‘Abdullah, nicknamed Himār. He used to make the Prophet (ﷺ) laugh with some of his words. The Prophet (ﷺ) had flogged him for drinking wine, and one day he was brought again for drinking wine; the Prophet (ﷺ) ordered that he be flogged. One of those present insulted him and said: May Allah curse him! How often is he brought for drinking wine?! The Prophet (ﷺ) said: Do not supplicate for his expulsion from Allah's mercy. By Allah, I know nothing of him except that he loves Allah and His Messenger.