سنن ابو داؤد · جامع ترمذی · سنن ابن ماجہ · مسند احمد · سنن دارمی
Sunan Abi Dawud · Jami' at-Tirmidhi · Sunan Ibn Majah · Musnad Ahmad · Sunan ad-Darimi

جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے

Hasan (حسن) · Urdu & English translation by HadeethEnc

Reference حوالہ
6267Hasan حسن
عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سَلَكَ طَريقا يَبْتَغي فيه عِلْما سَهَّل الله له طريقا إلى الجنة، وإنَّ الملائكةَ لَتَضَعُ أجْنِحَتها لطالب العلم رضًا بما يَصنَع، وإنَ العالم لَيَسْتَغْفِرُ له مَنْ في السماوات ومَنْ في الأرض حتى الحيتَانُ في الماء، وفضْلُ العالم على العَابِدِ كَفَضْلِ القمر على سائِرِ الكواكب، وإنَّ العلماء وَرَثَة الأنبياء، وإنَّ الأنبياء لم يَوَرِّثُوا دينارا ولا دِرْهَماً وإنما وَرَّثُوا العلم، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بحَظٍّ وَافِرٍ».
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما، انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔
— HadeethEnc اردو ترجمہ
Abu Ad-Dardā’ (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (may Allah's peace and blessings be upon him) said: "Whoever follows a path in pursuit of knowledge, Allah will facilitate for him a path to Paradise. Indeed, the angels lower their wings for the seeker of knowledge, out of pleasure at what he does. Verily, the inhabitants of the heavens and the earth, even the fish in the water, ask forgiveness from Allah for the knowledgeable. The superiority of a scholar over a devout worshiper is like the superiority of the moon over the rest of the stars. Indeed, the scholars are the inheritors of the prophets, who bequeath neither dinar nor dirham, only knowledge. So whoever acquires it has actually taken abundant wealth."
— HadeethEnc English translation

Reference حوالہ

1Source book اصل کتاب
سنن ابو داؤدSunan Abi Dawudجامع ترمذیJami' at-Tirmidhiسنن ابن ماجہSunan Ibn Majahمسند احمدMusnad Ahmadسنن دارمیSunan ad-Darimi
Original wording: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔
2Grade درجہ
Hasan حسن
Good: acceptable, slightly below Sahih
قابلِ قبول: صحیح سے کچھ کم درجہ
Graded by: HadeethEnc scholars
درجہ: HadeethEnc کے علماء
3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadiths
ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
4Hadith ID نمبر
HadeethEnc #6267

نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.

Explanation تشریح

طلب علم کے بعض فضائل کی توضیح و تشریح کے ضمن میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے:
ان فضائل میں سب سے پہلی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص کسی راہ پر نکل پڑے اوراس راہ پر نکلنے کا مقصد محض طلب علم یا علم کی تحقیق ہو؛ چاہے وہ طالب علم گھر ہی میں کیوں نہ ہو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے طلب علم کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ یعنی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردے گا۔ علمی راہ اپنانے میں جس طرح حسی راستہ شامل ہے، جس میں انسان اپنے قدموں کے ذریعے چل کر جاتا ہے، اسی طرح اس میں معنوی راستہ بھی شامل ہے۔ مثلا انسان علما کی مجالس اور کتابی ذخیروں سے علم حاصل کرے۔ کیوں کہ جو شخص کسی شرعی مسئلے کا حکم جاننے کی غرض سے کتابوں کی تحقیق و مراجعہ کرتا ہے یا کسی شیخ کی مجلس میں بیٹھ کر اس سے استفادہ کرتا ہے،وہ بھی طلب علم کی راہ طے کر رہا ہوتا ہے، گرچہ وہ بیٹھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث میں مذکور فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں اورخشکی میں پائے جانے والے چوپائے بھی ان علما کے حق میں مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
طلب علم کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ اللہ عز وجل کی مکرم ومعزز مخلوق فرشتے بھی طالب علم کو علمی مشاغل میں مصروف دیکھتے ہوئے خوشی سے علم اور اہل علم کے روبرو اپنی فروتنی اور ان کی عظمت کے اعتراف میں اپنے پنکھ بچھا دیتے ہیں۔
اس حدیث میں نبی ﷺ کے ذکرکردہ فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ علما، انبیا کے وارث و جانشین ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح سے کہ انھیں انبیا سے علم اور عمل کی دولت وراثت میں حاصل ہوئی۔ نیز دعوت الی اللہ اور انسانوں کی اللہ اور اس کے دین کی طرف رہ نمائی کا فریضہ بھی انھیں وراثت میں ملا ہے۔
اس میں یہ فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ عابد پر عالم دین کو ایسے ہی امتیاز و برتری حاصل ہے، جیسے رات کے وقت کامل چاند کو دیگر سارے ستاروں پر حاصل ہوتی ہے؛ کیوں کہ عبادت کا نوراور اس کا کمال محض عابد تک محدود رہتا ہے، جس میں عابد کے علاوہ کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا اور اس نور کی حیثیت محض کسی ستارے جیسی ہے۔ جب کہ علم کانور اور اس کا کمال یہ ہے کہ وہ عالم کے علاوہ دیگر انسانوں کو بھی مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ انبیا نے اپنے جانشینوں کے لیے دنیا کی کوئی بھی چیز وراثت میں نہ رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں درہم و دینار کی بجائے علم جیسی انتہائی عظیم میراث باقی رکھی۔ لہٰذا جس شخص نے اس علمی ورثے کو لے لیا، تو حقیقتا اس نے بھرپور انداز میں انبیا کی میراث پائی اور یہی حقیقی اور نفع بخش میراث ہے۔
یہاں مسلمان کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ فضیلت یافتہ عالم کی زندگی عمل سے اور عابد کی زندگی علم سے خالی ہو سکتی ہے؛ بلکہ اگر عابد کا دامن علم سے بھر جائے، تو وہ اپنے عمل میں قوی ہوجائے گا اور اگر عالم اپنے علم پر عمل پیرا ہوجائے، تو وہ اپنے علم میں قوی ہوگا۔ اسی بنا پر انہی علما کو انبیا کا وارث قرار دیا گیا، جو علم اور عمل کی اعلی خوبیوں کے حامل ہوں گے اور کمال (علم) اور تکمیل (اس کے مطابق عمل) کی فضیلتوں کو حرز جاں بنائے ہوئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والوں اور اس کی راہ کے راہ گیروں کا یہی طریقہ و منہج رہا ہے۔

Explanation

The Hadīth sheds light on some merits of the pursuit of knowledge, as follows: 1. If a person treads a path in pursuit of knowledge or even if he seeks knowledge while at home, Allah, the Almighty, will reward him by facilitating a path leading him to Paradise. The pursuit of knowledge includes a tangible path, where a man actually walks (to gain knowledge), and an intangible one, like attending the classes of scholars and reading books. Thus, he is considered to be following a path of knowledge, even though he is actually sitting. 2. The inhabitants of the heavens and the earth, even the fish and animals, invoke the forgiveness of Allah, the Almighty, for the scholars. 3. The angels, honored by Allah, the Almighty, lay down their wings for the seeker of knowledge out of pleasure at what he does and in humility and reverence towards knowledge and the knowledgeable. 4. The scholars are the inheritors of the prophets. They take knowledge, application, the call to Allah, the Almighty, and guiding people to His religion from them. 5. The superiority of a scholar over a devout worshiper is like the superiority of the moon over the rest of the stars. Indeed, the light and virtue of worship are limited to the worshiper; it does not reach others, just like the light of the stars. By contrast, the light and virtue of knowledge transcend the scholar and reach others, enlightening them. The Prophet (may Allah's peace and blessings be upon him) highlighted that the prophets did not bequeath worldly fortunes, but the best legacy they leave behind is knowledge. Whoever acquires it has indeed taken a great fortune. In fact, this is the true beneficial inheritance. Let no one think that a scholar does not engage in worship or that a worshiper lacks knowledge. But, the knowledge of the former prevails over his deeds, whereas the deeds of the latter override his knowledge. Hence, the scholars are considered as the inheritors of the prophets, who gained both merits – knowledge and action – and were marked by perfection and the pursuit of improvement. This is the course to be taken by those who truly know their Lord and walk in the path leading to Him.

Topics موضوعات