غیب کی کنجیاں پانچ ہیں
Sahih (صحیح) · Urdu & English translation by HadeethEnc
Reference حوالہ
- 1Source book اصل کتاب
- صحیح بخاریSahih al-BukhariOriginal wording: رواه البخاري
- 2Grade درجہ
- Sahih صحیحAuthentic: reliable chain and textمستند: سند اور متن دونوں درستGraded by: HadeethEnc scholarsدرجہ: HadeethEnc کے علماء
- 3Translation & explanation ترجمہ و تشریح
- HadeethEnc.com, Encyclopedia of Translated Prophetic Hadithsترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
- 4Hadith ID نمبر
- HadeethEnc #65303Sahih al-Bukhari (HadeethEnc 65303)
نوٹ: HadeethEnc کوئی الگ کتاب نہیں۔ یہ اوپر دی گئی اصل کتابوں سے لی گئی احادیث کا مستند ترجمہ اور تشریح ہے۔Note: HadeethEnc is not a separate hadith book. It is a verified translation of hadith taken from the source books above.
Explanation تشریح
غیب اللہ ہی کے پاس ہے، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور نبی ﷺ نے خبر دی کہ غیب کی کنجیاں اور اس کے خزانے پانچ ہیں: پہلا: قیامت کب قائم ہوگی، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس میں آخرت کے علوم کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ قیامت کا دن اس کی ابتدا ہے، اور جب قریب ترین چیز کے علم کی نفی ہوگئی تو اس کے بعد کی چیزوں کے علم کی تو بدرجہ اولیٰ نفی ہوگئی۔ دوسرا: اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی، اس میں عالمِ علوی کے امور کی طرف اشارہ ہے۔ بارش کو اس لیے خاص کیا گیا کہ اگرچہ اس کے کچھ اسباب ہیں جو عام طور پر اس کے واقع ہونے پر دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ بات حتمی اور یقینی نہیں ہوتی۔ تیسرا: وہ جو رحموں میں ہوتا ہے؛ مثلاً یہ کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی، کالا ہے یا گورا، کامل ہے یا ناقص، بدبخت ہے یا نیک بخت وغیرہ۔ رحم کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا کہ اکثر لوگ عادتاً اس کے بارے میں جانتے ہیں، اس کے باوجود اس کی حقیقت کے علم کی نفی کی گئی ہے، تو دیگر چیزوں کا علم تو بدرجہ اولیٰ نہیں ہو سکتا۔ چوتھا: اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا، اس میں زمانے کی مختلف حالتوں اور ان میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ ’کل‘ کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ یہ قریب ترین زمانہ ہے، اور جب اس کے قریب ہونے کے باوجود اس میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ اس کی کچھ نشانیاں اور علامتیں ممکن ہیں، تو جو زمانہ اس سے دور ہے اس کا علم نہ ہونا تو بدرجہ اولیٰ ہے۔ پانچواں: نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، اس میں عالمِ سفلی کے معاملات کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ اکثر لوگوں کا معمول یہی ہے کہ وہ اپنے ہی وطن میں وفات پاتے ہیں، لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں۔ بلکہ اگر کوئی اپنے وطن میں بھی فوت ہو جائے تو اسے یہ علم نہیں ہوتا کہ اسے وہاں کس ٹکڑے میں دفن کیا جائے گا، خواہ وہاں اس کے آباؤ واجداد کا قبرستان ہی کیوں نہ ہو۔ {إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} جو تمام ظاہر وباطن، ساری مخفیات اور رازوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس آیت نے غیب کی تمام اقسام کو جمع کر دیا اور تمام فاسد دعووں کو باطل کر دیا ہے۔
حدیث کے فوائد
- غیب کے ان پانچ خزانوں کا بیان جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
- سندی نے فرمایا: یہ قول کہ (غیب کی کنجیاں پانچ ہیں)، ان پانچ چیزوں کو غیب کی کنجیاں اس لیے کہا گیا ہے؛ کیونکہ جس کے پاس یہ پانچ چیزیں ہوں تو اس کے پاس تمام غیب ہے، چنانچہ یہ گویا ایسی چیزیں بن گئیں جن سے غیب کے خزانے کھولے جاتے ہیں۔
- ابن حجر کہتے ہیں: ابن ابی جمرہ نے کہا: ’’یہاں کُنجی سے تعبیر کرنے کا مقصد سننے والے کے لیے مسئلے کو قابل فہم بنانا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ چیز جس کے اور آپ کے بیچ میں پردہ حائل کر دیا گیا ہو، وہ آپ سے غائب ہے۔ ایسی چیز کو جاننے کے لیے عام طور پر دروازے سے جانا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر دروازہ بند ہو تو کنجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر یہی پتہ نہ ہو کہ کنجی کہاں ہے، تو بھلا غائب چیز تک رسائی کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘۔
- ابن ابی جمرہ نے فرمایا: انہیں پانچ مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس میں تمام جہانوں کے احاطے کی طرف اشارہ ہے۔
- اللہ عز وجل اپنی کسی حکمت کی بنا پر رسولوں پر بعض غیب ظاہر فرما دیتا ہے۔
- علم غیب کے معاملے میں نجومیوں اور کاہنوں کی قیاس آرائیوں کا ابطال، اور یہ کہ جس نے کسی ایسی چیز کے علم کا دعویٰ کیا جس کا علم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن عظیم کو جھٹلایا۔
Explanation
The unseen belongs to Allah alone; none knows it except Him. The Prophet (ﷺ) informed us that the keys and treasures of the unseen are five: First: None knows when the Hour will occur except Allah—this refers to the knowledge of the Hereafter, for the Day of Judgment is its beginning. And if the knowledge of its beginning is unknown, then all that follows it is even more hidden. Second: None knows when rain will come except Allah—this refers to matters of the higher world. Rain is mentioned specifically, even though there are apparent causes that may indicate its coming by custom and observation, yet these causes do not provide certainty or exact knowledge. Third: What is in the wombs—whether male or female, black or white, complete or defective, wretched or blessed, and the like. The womb was mentioned specifically because people often make assumptions about it based on customary signs, yet Allah denied that anyone truly knows its reality; and if this is the case for what is most observable, then what is beyond it is even more hidden and unknowable. Fourth: No one knows what will happen tomorrow except Allah—this refers to the events that occur within time and its unfolding happenings. The word “tomorrow” is mentioned specifically because it is the nearest of future times; so if no one truly knows what will occur in such a near time—despite possible signs or indications—then knowledge of what lies further ahead is even more beyond reach. Fifth: No soul knows in what land it will die—this refers to matters of the lower world. Although people generally die in their homelands, this is not always the case. Even if one dies in their own land, they do not know the exact spot where they will be buried, even if there is a graveyard of their ancestors. {Indeed, Allah is All-Knowing, All-Aware}—He encompasses all things, outward and inward, the hidden and the unseen, the secrets and the mysteries. Thus, this verse includes all types of the unseen and refutes every false claim to the knowledge of it.